نفیس پھُول ۔ 684

نفیس پھُول

امام جمال الدین ابن الجوزیؒ

(شمارہ 684)

اسی طرح ہم نے مان لیا کہ وہ متکلم ہے اور قرآن اس کا کلام ہے، اس سے آگے بڑھنے کے ہم مکلف نہیں ہیں۔ اسلاف کہیں بھی تلاوت و متلو اور قرأت و مقروء کے امتیازات میں نہیں لگے اور نہ ہی استواء علی العرش کو اس کی ذات کے لئے ثابت مانا اور نہ ہی ذات کے لحاظ سے نزول فرمانے کی کبھی بات کی بلکہ جیسا بھی نقل میں وارد ہو ابلاکم و کاست مان لیا اور ہم بھی اسی کے قائل ہیں کہ جو دلائل سے ثابت نہیں اس کااطلاق اس کی ذات کے لئے جائز نہیں۔یہ چند ایک مثالیں بطور نمونہ درج ہیں انہی پر باقی صفات کو قیاس کر سکتے ہیں اس میں تعطیل سے سلامتی بھی ہے اور تشبیہ سے نجات بھی۔

 اللہ تعالیٰ کی مختلف شانیں

بہت سی مخلوق ایسی دیکھنے میں آئی ہے جس کا وجود کالعدم ہے کچھ تو اپنے خالق ہی کو نہیں جانتے اور کچھ اپنی حس اور شعور کے مطابق مانتے ہیں اور بعض احکام تکلیف کا مقصد نہیں سمجھتے اور کئی ایک زہد کا لبادہ اوڑھنے والے دیکھنے میں آئیں گے جو قیام و قعود کی مشقتیں اٹھاتے ہیں، خواہشات کو چھوڑے ہوئے ہیں اور وہ طلب شہرت اور ہاتھوں کی تقبیل (چومنے) سے غافل ہیں، جس نے ان میں فراموشی پیدا کر دی ہے اگر ان میں سے کسی سے بات کی جائے تو وہ کہتا ہے کہ یہ بات ہم ایسوں سے کہنے کی ہے اور فلاں فاسق کون ہوتا ہے؟یہی لوگ ہیں جو مقصود سے بالکل کورے ہیں اور یہی حال اکثر و بیشتر ان علماء کا ہے جو دوسروں کو حقیر جانتے ہیں اور اپنے آپ میں بڑے بنتے اور تکبر کرتے ہیں۔

 میں نے دیکھا کہ دنیا میں ان کے وجود کا فائدہ دخول جنت کے فائدہ سے ملتاجلتا ہے کیونکہ ایسے لوگ یا تو درجہ اعتبار میں ہیں کہ ایک عارف کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا استحضار ہوتا ہے جو اس پر منکشف ہو رہی ہیں اور یہ لوگ اس سے محروم ہیں یا پھر یہ لوگ تابع ہیں کہ ان کے ذریعہ سے آبادی کی تکمیل ہو رہی ہے اور نظام معاش قائم ہے اور اس بعید تفاوت کے باوجود حیات اصلاح پذیر ہوتی ہے، پھر خاص لوگوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔

٭…٭…٭