Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نفیس پھُول ۔ 692

نفیس پھُول

امام جمال الدین ابن الجوزیؒ

(شمارہ 692)

حاصل کلام یہ کہ تجھے اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کا التزام اور پابندی چاہئے، اپنے کلام میں، نگاہ میں اور باقی اعضاء کے استعمال میں اور رزق حلال کی محنت میں اور ہر لمحہ اور لحظہ میں جو خیر مناسب ہے اس کے مہیا کرنے میں اور اچھی چیزوں میں زمانے کی دوڑ کے میدان میں اور منافع کی کمی یا خسارہ جیسی مضر صورتوں سے بچنے میں اور ہر عمل سے پہلے نیت کی جانچ پر کھ کر لو اور موت کے لئے ہرگھڑی تیار رہو گویا آہی گئی ہے کیونکہ تجھے کچھ علم نہیں کب آجائے، بدن کی مصلحت کے پیچھے مت پڑو۔ بدن کی ضروریات و مصالح مناسب اصول کے موافق خوب مہیا کرو، خواہشات پر نہیں کیونکہ بدن کی اصلاح دین کی اصلاح کا سبب ہے، ایسی حماقت کو چھوڑ دو جس کا منشا جہالت ہے علم نہیں مثلاً نفس کبھی کہتا ہے فلاں شخص سرکہ اور فلاں چیز کھاتا ہے اور فلاں رات بھر نہیں سوتا بس جس قدر طاقت ہے اتنا بوجھ اٹھائو اور جس قدر تم اپنے بدن میں طاقت سمجھتے ہو اگر چھلانگ لگانے کی ہمت پاتے ہو تو چھلانگ لگائواور اگر سمجھتے ہو کہ ہمت نہیں ہے تو ہرگز چھلانگ نہ لگائو خواہ کوئی مار ہی ڈالے، تمام بدن طاقت میں برابر نہیں ہوتے بعض لوگوں نے شروع شروع میں ایسے مجاہدات اختیار کر لئے جن سے کئی ایک امراض پیدا ہوئیں اور وہ کسی کام کے نہ رہے اور پھر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے تھے بس علم کو لازم پکڑو کہ وہ ہر بیماری کی دوا اور شفاء ہے ’’واللہ الموفق‘‘

جہویہ اور مجسمہ سے بچ کے رہو

مجھے ایسے لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جوعلم کا دعویٰ رکھتے ہیں اور حدیثوں کو ان کے ظاہر پر محمول کرتے ہوئے تشبیہ کی طرف مائل ہوجاتے ہیں، اگر یہ لوگ احادیث کو جیسا کہ وارد ہوئی تھیں اسی طرح رکھتے تو سلامت رہتے کیونکہ جو ان کو اپنے اصل پر جاری رکھتا ہے اور بغیر اعتراض کے گذرجاتا ہے تو وہ اس کے موافق یا مخالف کچھ نہیں کہتا لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جواپنی علمی

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor