Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نفیس پھُول ۔ 693

نفیس پھُول

امام جمال الدین ابن الجوزیؒ

(شمارہ 693)

لطائف قرآنیہ

میں نے اس حکمت میں غور کیا کہ آیت رجم کے الفاظ قرآن پاک میں سے کیوںختم کردئیے گئے، جبکہ ان کا حکم بالاتفاق ثابت و جاری ہے۔ مجھے اس کی دو وجہیں معلوم ہوئیں:

 ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر کما ل مہربانی اور لطف ہے کہ انتہائی مشقت والے حکم کا براہ راست خطاب نہیں فرمایابلکہ جلد اور کوڑے کی سزاکا ذکر فرمایا اور سنگسار کرنے کا ذکر چھوڑدیا۔ اسی نوع کا بعض علماء کا یہ قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احکام شاقہ میں تو مجہول کا صیغہ ذکر فرمایا جیسے’’ کتب علیکم الصیام‘‘ کہ تم پر روزے فرض کئے گئے گویا یہ بھی ظاہر ہے کہ فرض کرنے والا خود وہی ہے اور جہاں کہیںراحت و مسرت کی بات ہوتی ہے تو صاف اپنی طرف نسبت فرمائی جیسے ’’تمہارے رب نے اپنے ذمہ رحمت لازم کرلی ہے‘‘

دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ امت کی فضیلت ظاہر فرماتے ہیں کہ یہ لوگ کسی دلیل پر بھی کفایت کرتے ہوئے جان کی بازی لگانے کوتیار ہیں کیونکہ جب اس حکم پر اتفاق ہوگیا تو یہ بھی دلیل بنا، گو نص قطعی کے درجہ میں نہیں۔ اسی جنس سے ہے خلیل علیہ السلام کا خواب دیکھ کر بیٹے کو ذبح کرنے کو تیار ہونا۔ اگرچہ بیداری کی وحی زیادہ پختہ ہوتی ہے۔

 آثارو نتائج اسباب کے ساتھ وابستہ ہیں

 مجھے ایک صورت پیش آئی اور میں صدق دل سے خدائے وحدہٗ لاشریک لہ کی طرف متوجہ ہوا،یقین یہ تھا کہ میرے لئے نفع لانے یا مضرت کو ہٹانے پر اس کے سواکوئی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر میں اسباب میں مصروف ہونے لگا تو میرا یقین پکاراٹھا کہ یہ توکل میں نقص کی بات ہے، میں نے کہا:ایسا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتوں کی وجہ سے اسباب کوبنایا ہے اور اپنے حال کو

دیکھیں تو جو کچھ ہم بناتے ہیں بے فائدہ ہے اور اس کا وجود کالعدم ہے اورشریعت میں اسباب کا وجود چلا آرہا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:جب آپ ان میں موجود ہوں اور نماز پڑھانے لگیں۔ اس میں صلوٰۃ خوف کا ذکر ہے( یعنی دشمن کے خطرہ سے بچنے کے لئے نماز میں بھی ایک تدبیراختیار کرنے کا حکم ہوا ہے) نیز فرمایا ’’کہ گندم کو اس کے خوشہ ہی میں رہنے دو‘‘(یہ بھی گندم کے لئے ایک حفاظتی تدبیر ہے) اور خود آپﷺ نے اوپر نیچے دوزرہوں کا استعمال فرمایا، علاج کے لئے طبیبوں سے مشورہ فرمایا اور طائف کی طرف تشریف لے گئے تو واپسی مطعم بن عدی کی پناہ کے ذریعہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے جبکہ آپﷺ اس کے بغیر توکل کر کے بھی داخل ہوسکتے تھے، پس جب شرع نے احکام ونتائج کواسباب کے ساتھ وابستہ کیا ہے تو میرااسباب سے اعراض کرنا خدائی حکمت سے اعراض کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ علاج معالجہ کو مستحب اور پسندیدہ کہاگیا ہے اور میر اصاحب مذہب امام، ترک اسباب کوافضل جانتاہے، مگر میں اس مسئلہ میں ان کی اتباع نہیں کرتا کیونکہ صحیح حدیث میں ہے کہ آپﷺ کا ارشاد ہے’’اللہ تعالیٰ نے بیماری پید افرمائی تو اس کے لئے دوا بھی پیدا فرمائی ہے۔‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor