Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نفیس پھُول ۔ 629

نفیس پھُول

امام جمال الدین ابن الجوزیؒ

(شمارہ 629)

خلوتوں میں اپنی خواہشات پر خوب ہاتھ صاف کرتے اور لذتوں پر ٹوٹ ٹوٹ پڑتے تھے اور لوگوں پر اپنی شکل و صورت سے یہ ظاہر کرتے کہ وہ بہت ہی صوفی منش اور زاہد مزاج لوگ ہیں، حالانکہ زُہدان کے لباس میں ہوتا تھا احوال باطنی کو دیکھیں تو وقت کے فرعون ہوتے تھے۔

 ۲)…بعض لوگوں یوں باطن کے لحاظ سے بھی اچھے  ہی ہوتے تھے مگر شریعت سے بالکل جاہل۔

۳)…اور کچھ لوگوں نے پیش قدمی دکھائی اور کتابیں بھی لکھیں اور جاہلوں نے اس طریق میں ان کی پیروی کرنا شروع کردی جیسے کئی اندھے کسی ایک اندھے کے پیچھے چلنے لگیں۔

اور اگر یہ لوگ اس پہلے طریق کو ذرا دیکھ لیتے جو آنحضرتﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریق تھا تو کبھی راہ سے بھٹکتے۔ محققین حضرات ایسے لوگوں کی کبھی پرواہ نہ کرتے تھے جوشریعت سے ہٹے ہوئے ہوتے، خواہ لوگ انہیں کیساہی بڑا بناتے رہیں بلکہ جی بھر کے ان کی مذمت کرتے تھے۔ چنانچہ امام احمدؒ سے منقول ہے کہ مروزی نے ان سے پوچھا: آپ نکاح کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا:نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔ ابراہیم تو یوں کہتے ہیں مروزی نے کہا۔ اس پر امام گرج کر فرمانے لگے: کیا ہم ان چھوٹی چھوٹی راہوں سے آئے ہیں؟ ایسے ہی ان سے کسی نے کہا کہ سری سقطیؒ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حروف کو پیدا فرمایا تو’’الف‘‘ کھڑارہا اور’’ب‘‘ سجدہ میں گر گئی، امام احمدؒ نے فرمایا: جب ہی تو لوگ اس سے کنارہ کر گئے۔

واقعہ یہ ہے کہ محقق شخص کو کسی بڑے کا نام متاثر نہیں کرتا جیسا کہ ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا: آپ کا کیا خیال ہے کیا ہم حضرت طلحہ اور زبیررضی اللہ عنہماکے باطل پر ہونے کا تصور بھی کر سکتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حق کا تعارف افراد و اشخاص کے ذریعے سے نہیں ہوتا، حق کی پہچان پیدا کرو اہل حق خود ہی پہچان میں آجائیں گے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor