Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نفیس پھُول ۔ 641

نفیس پھُول

امام جمال الدین ابن الجوزیؒ

(شمارہ 641)

اب جی سے مخاطب ہوں اور کہہ رہا ہوں کیا کروں؟ کیسے کروں؟ اپنی تنہائیوں میں دل سے باتیں کرتا ہوں اور اپنی بدحالی پر خوب آنسو بہاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ کیا علماء والا راستہ اختیار کروں جبکہ جسم میں علمی کاوشوں کے لئے ہمت نہیں ہے اور حالت زہد کے لئے بھی بدن طاقت نہیں رکھتا اور اہل محبت کا ساحال جبکہ مخلوق سے میل جول کی وجہ سے ذہن میں پریشانی اور نفسیانی خواہشات سے طرح طرح کے محبوب نقشے اُبھرتے ہیں اور دل کا آئینہ زنگ آلودہ ہوا جاتا ہے نیز یہ کہ محبت کاپودا عمدہ زمین میں نشوونما چاہتا ہے تاکہ فکر کے کنویں سے اسے خلوت کا پانی دیا جائے اور اگر کسب معاش کا راستہ پکڑوں تو اس کی طاقت نہیں اور اگر اہل دنیا کی دہلیز پر جائوں تو ذلت سے طبعی بیزاری اور دینی وضع داری رکاوٹ بنتی ہے، لہٰذا رکاوٹوں کے ہوتے ہوئے ادھر میلان کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا اور لوگوں سے میل جول بھی تکلیف دہ بات ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حصول پر قدرت نہیں ہے، علم و عمل یا محبت کا کوئی درجہ حاصل نہیں ہے ایسے میں مجھے اپنا حال اس شعر کے عین موافق دکھائی دیتا ہے   ؎

 ترجمہ: ہاتھ پائوں باندھ کر مجھے دریا میں پھینک دیا ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ خبردار بھاگنا نہیں ہے، میں اپنے معاملے میں حیران ہوتا ہوں اپنی عمر پر روتا ہوں اور اپنی خلوتوں کے وسیع صحرائوں میں پکار پکار کر کسی کا وہ شعر پڑھتا ہوں جو شاید میرے ہی لئے کہا گیا ہے ۔

 ہائے میر ی حسرت میں نے تیر ی محبت میں اپنی غلطیوں سے بھی ساز باز کئے رکھی اور میری مثال اس اسیر کی ہے جس کے پائوں میں کوئی رسی ہے نہ گلے میں کوئی پٹہ ہے۔

 سلسلہ محبت میں میری حیلے ختم اور تدبیریں بے کار ہوگئیں اور تو نے میرے پروں کو جب مضبوط باندھ لیا تو حکم دے دیا کہ اُڑجا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor