Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عجائب قدرت۔ 532

عجائب قدرت

(شمارہ 532)

گھوڑوں کی اقسام میں ایک چوگانی ہوتا ہے جس کی پیٹھ پر چوگان کھیلتے ہیں یعنی اس کا سوار اس امر کا محتاج نہیں ہوتا کہ اس کو عطف عنان کرے بلکہ خود گھوڑے کی نگاہ گیند کی طرف رہتی ہے جدھر دیکھتا ہے رخ کرتا ہے بعض گھوڑے ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے مالک کو پہنچانتے ہیں…

غیر کی مجال نہیں کہ ا س پر سوار ہو۔ بعض گھوڑے ایسے ہوتے ہیں کہ آہو کے سرپر پہنچاتا ہے تاکہ اس کا سوار آہو پر تلوار کا وار کرے۔ محمد بن سائب کلبی کہتا ہے کہ عمدہ عمدہ گھوڑے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دکھلائے گئے۔ یہ سب ہزار گھوڑے تھے کہ میراث پدر سے ان کو ملے تھے پس جب یہ گھوڑے حضرت کو دکھائے گئے اس عرصہ میں نماز عصر آپ کی قضا ہوگئی اور آفتاب غروب ہوا اس وقت حضرت نے ان سب گھوڑوں کو ذبح فرمایاصرف چند گھوڑے جو دکھلانے سے رہ گئے تھے بچ رہے، بعد مدت حضرت کے پاس آل کی ایک جماعت وارد ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ اے حضرت! ہمارا مقام دور دراز ہے کچھ توشہ چاہئے کہ پہنچ جائیں۔ حضرت نے انہیں باقیماندہ گھوڑوں میں سے ایک گھوڑا عطا کر کے فرمایا کہ اس گھوڑے میں یہ خاصیت ہے کہ جب تم لوگ منزل پر پہنچو گے اور کھانا پکانے کی فکر کروگے پس جتنی دیر میں کہ تم آگ سلگائو گے اتنی دیر میں یہ گھوڑا تم سبہوں کے واسطے کھانا کہیں سے لادیا کرے گا۔ پس ایسا ہی ہوا اور اس گھوڑے کا نام توشہ سوار اس دن سے رکھا گیا۔ کہتے ہیں کہ عرب کے گھوڑے اسی کی نسل میں سے ہیں۔

اعضائے گھوڑے کے خواص کا بیان

گھوڑے کے دانت اگر کسی لڑکے کو باندھیںتو اس کو دانت نکلنے میں تکلیف نہ ہو گی اور اگر ایسے آدمی کے سر کے نیچے رکھیں جو خواب میں دانت پیستا ہو تو دفع ہوجائے، گوشت اس کا ہر قسم کی ریح کودور کرتا ہے اگر دار چینی کے ساتھ کھائے قوت اجزائش کرے، اگر پرانے گھوڑے کے خایہ کو نمک کے ساتھ سودہ کر کے گرم پانی میں ترکریں اور نقرس پر مالش کریں نافع ہوگا،اگر اس کی دم کا بال لے کر مکان کے دروازے پر تان دیں اس مکان میں مچھر نہ آئیں گے،اگر اس پُر سرکش کے سُم کو گھر میں دفن کریں چوہے اس مکان میں نہ رہیں گے۔ جس وقت طیور کے بچے انڈے سے باہر ہوں اگر اول ان کو دواب کے سُم میں پانی پلایا جائے تو شاہین وغیرہ مرغانِ شکاری سے ان کو ضررنہ پہنچے گا، اگر گھوڑے کا پسینہ لڑکے کی بغل اور زہار میں مل دیں بال نہ نکلیں گے، اگر بواسیر میں ملیں فائدہ دے گا گانسی بھی اس میں تر کرنے سے زہردار ہوجاتی ہے اور اس کی جراحت کا علاج غیر ممکن ہے، سرگین کے دھوئیں سے زخم کا جاری خون بھی بند ہوجاتا ہے، اگر سرگین کا عرق ناک میں ٹپکائیں نکسیر کو سودمند ہے اور کان میں ٹپکانے سے درد گوش جاتارہتا ہے، اگر سرگین اورشہد ونمک اور نوشادر کا بھی اس میں اضافہ کریں تو زخم سوزن یعنی گدنے کی علامت مٹادے۔

 

 (جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor