Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 532)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 532)

غافل کی دعاء بے ادبی سے

 ایک حدیث میں ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تک بندہ قطع رحمی اور گناہ کی دعاء نہ کرے اس وقت تک اس کی دعاء قبول ہوتی رہتی ہے اور جب تک جلدی نہ کرے اس کی دعاء قبول ہوتی رہتی ہے۔ عرض کیا: یارسول اللہ ! جلدی کرنے کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا: جلدی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ کہتا ہے میں نے دعاء کی اور دعاء کی لیکن مجھے قبول ہوتی نظر نہیں آتی، یہ کہتا ہے اور اس حالت پر پہنچ کر دعاء کرنے سے تھک جاتا ہے اور دعاء کرنا چھوڑ بیٹھتا ہے۔( صحیح مسلم)

معلوم ہوا کہ دعاء برابر کرتا رہے، دعاء کرنا بندہ کا کام ہے اور قبول فرمانا اللہ جلّ شانہٗ کاکام ہے اور یہ کہنا کہ دعاء قبول نہیں ہوتی اکثر یہ بھی غلط ہوتا ہے دعاء قبول ہونے کا مطلب عموماً لو گ نہیں جانتے اس لیے یہ سمجھتے ہیں کہ دعاء قبول نہیں ہوئی۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی دعاء کرتا ہے جس میں گناہ اور قطع رحمی کا سوال نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو تین چیزوں میں سے ایک چیز ضرور عطا فرما دیتے ہیں(۱) یا تو وہ( ظاہراً) دعاء قبول فرمالیتے ہیں (یعنی جو مانگا وہی عنایت فرمادیتے ہیں(۲) یا دعاء کرنے والے کو اس کی مطلوبہ چیز کے برابر اس طرح عطا فرما دیتے ہیں کہ اس جیسی( آنے والی) مصیبت ٹال دیتے ہیں(۳) یا اس دعاء کا اجرو ثواب (آخرت کے لیے)ذخیرہ بنا کر رکھ دیتے ہیں۔(مشکوٰۃ: ص ۱۹۶،ازاحمد و مستدرک حاکم ص ۴۹۳ ج ۱)

 جب قبولیت دعاء کامطلب معلوم ہوگیا تو یہ کہنا کسی طرح درست نہیں کہ میری دعاء قبول نہیں ہوتی، قبول ہوتی ہے لیکن قبولیت کی کونسی صورت ہوئی اس کا پتہ بندہ کو نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے وہ اپنی حکمت کے موافق دعاء قبول فرماتا ہے، بندہ کا کام تو یہ ہے کہ مانگے جا اور دنیا و آخرت میں مراد لیتا رہ۔وباللّٰہ التوفیق

قبولیت دعاء کے خاص اوقات اور احوال، اخیررات  اور فرض نمازوں کے بعد والی دعاء

 حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺسے سوال کیا گیا کہ کون ( سے وقت کی) دعاء ایسی ہے جو سب دعائوں سے بڑھ کرلائق قبول ہے؟ حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ پچھلی رات میں اور فرض نمازوں کے بعد( جو دعاء ہو وہ سب دعائوں سے بڑھ کر لائق قبول ہے۔( مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ ترمذی ص ۸۹)

تشریح:اس حدیث مبارک سے معلوم ہواکہ فرض نمازوں کے بعد قبولیت دعاء کا خاص وقت ہوتا ہے جو لوگ نماز پڑھتے ہیں ان کو رات دن میں پانچ مرتبہ یہ خصوصی وقت نصیب ہوتا ہے۔ فرض نماز کے بعد خوب دل حاضر کر کے دعاء کا اہتمام کرنا چاہئے، البتہ جن فرضوں کے بعد مؤکدہ سنتیں ہیں ان کے بعد لمبی دعاء نہ کرے، مختصر سی دعاء کر کے مؤکدہ سنتیں ادا کرے۔ مختصر اور جامع دعائیں بہت سی ہیں انہیں اختیار کرے اور ضروری نہیں کہ عربی زبان میں دعاء ہو اپنی زبان میں جو چاہے مقصد خیر کے لیے دعاء کرے، نیز حدیث شریف میں یہ فرمایا کہ پچھلی رات کے درمیان میں قبولیت دعاء کاخاص وقت ہے ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جب تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ جلّ شانہٗ کی قریب والے آسمان پر خاص تجلّی ہوتی ہے، اس وقت اللہ جلّ شانہٗ ارشاد فرماتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے پھر میں اس کی دعاء قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor