Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ (۲) (روشن ماضی 532)

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ (۲)

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 532)

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ

جب یہ تشہیر کا مرحلہ ختم ہو ا تو انہوں نے کمر سے خون صاف کیا اور مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام میں دورکعت نمازپڑھی۔(تذکرہ محدثین: جلد اول)

جعفر بن سلیمان نے حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی تشہیران کی تحقیر کے خیال سے کرائی تھی لیکن اس نے ان کی عزت ووقار کو اور بلند کردیا ،خلیفہ منصور کو گورنر کا یہ فعل پسند نہ آیا کہ اتنے بڑے عالم کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے اس نے حکم بھیجا کہ’’ میں جعفر کو معزول کرتا ہوں اس کو گدھے پر سوار کر کے ذلت کے ساتھ بغداد روانہ کیا جائے۔‘‘( تذکرہ محدثین :جلد اول)

۱۴۸ھ/۷۶۵ء میں جب امام مالک رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ منصور کے پاس تشریف لے گئے، تو منصور نے ان کو خلعت پیش کیا، اس کا قاعدہ یہ تھا کہ خلعت کے کپڑے اس شخص کے کندھے پر رکھ دئیے جاتے تھے جس کو خلعت عطا ہوتا تھا اس میں کچھ حقارت کا احساس ہوتا تھا۔ حاجب نے جب خلعت کے کپڑے امام مالک رحمہ اللہکے کندھے پر رکھنے چاہے تو وہ فوراً پیچھے ہٹ گئے اور خلعت قبول کرنے میں ہچکچاہٹ ظاہر کی۔ خلیفہ نے حاجب کوڈانٹا کہ خلعت ان کے گھر پہنچا یا جائے۔(تذکرہ محدثین :جلد اول)

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی بیباکانہ جرأت اور اعلان حق کی وجہ سے سخت سزائیں جھیلنی پڑیں۔ خلافت بنو عباس کے زمانہ میں ان کو کوڑوں کی سزادی گئی۔ ان کی پشت برہنہ کر کے ستر کوڑے لگا ئے گئے جس سے ان کی پیٹھ لہولہان ہوگئی۔ دونوں ہاتھ مونڈھے سے اُتر گئے، اونٹ پر بٹھا کر ان کی تشہیر کی گئی لیکن یہ سختیاں ان کی زبان کو کلمۃ الحق کے اعلان سے نہ روک سکیں۔ ان کو یقین تھا کہ ان کی حق گوئی کی وجہ سے انہیں کبھی بھی موت کی سز امل سکتی ہے، لیکن وہ اس سے گھبرانے کے بجائے اس کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔

 ایک مرتبہ خلیفہ منصور عباسی کو پتہ چلا کہ امام مالک بن انس، ابن سمعان اور ابن ابی ذئب رحمہم اللہ وغیرہ علماء اس کی حکومت سے ناراض ہیں، اس نے ان سب کو فوراً اپنے دربار میں طلب کیا۔ امام مالک رحمہ اللہ نہا دھو کر کفن کے کپڑے پہن کر اور عطرو حنوط وغیرہ مل کردربار میں پہنچے، خلیفہ نے دریافت کیا کہ اس سے ان لوگوں کو کیا شکایات ہیں؟پھر جب ابن سمعان اور ابن ابی ذئب کو رخصت کردیا تو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا:امام صاحب! آپ کے کپڑوں سے حنوط کی خوشبو آر ہی ہے، آپ نے یہ خوشبو کیوں لگائی ہے یہ تو مردے کو لگائی جاتی ہے۔

 امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ کے دربار میں اس وقت بغیر کسی وجہ کے طلبی ہوئی تھی۔ اس بات سے مجھے یہ خیال ہوا کہ کچھ پوچھ تاچھ ہوگی اور یہ بھی ممکن ہے کہ میری حق گوئی آپ کو پسند نہ آئے اور آپ میرا سرقلم کرانے کا فیصلہ کرلیں۔ اس لئے میں مرنے کے لئے پوری طرح تیار ہو کر آیا تھا۔

 موت تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے

خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے

( اقبالؒ)

منصور نے کہا :سبحان اللہ! ابو عبداللہ! کیا میں خوداپنے ہاتھ سے اسلام کا ستون گرائوں گا۔( کتاب الامۃ والسیاسۃ: جلد دوم مطبع مصر)

امام مالک رحمہ اللہ بہت بلند مرتبہ فقیہ اور محدث تھے۔ ان کی کتاب ’’مؤطا امام مالک‘‘ اپنے دور سے آج تک بہت شہرت یافتہ کتاب ہے، یہ کتاب بڑی معتبر احادیث کا مجموعہ ہے، ایک مرتبہ خلیفہ مہدی مدینہ منورہ گیا تو اس نے یہ کتاب سنی۔ وہ اس سے بہت بہت متاثر ہوا۔ اس نے اپنے بیٹے موسیٰ اور ہارون رشید کو حکم دیا کہ وہ بھی امام صاحب رحمہ اللہ سے مؤطا سنیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor