Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ۔ ۲۴ (تابندہ ستارے۔532

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ (۲۴)

تابندہ ستارے ۔ ابو حفصہ (شمارہ 532)

ولادت
نورالدین محمود۱۳شوال ۵۱۱ھ(یک شنبہ) کو طلوعِ آفتاب کے وقت پیدا ہوا۔
 بعض مؤرخوں نے اس کی جائے ولادت موصل لکھی ہے۔ نورالدین کی والدہ امیر جرکمیش(جکرمش) والیٔ موصل کے فرزند ناصر الدین کی بیٹی تھی۔
تعلیم وتربیت
 عمادالدین شہیدرحمہ اللہ نے نورالدین محمود کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی اور اس کو اعلیٰ کردار کا حامل بنانے کے لیے کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی ۔ نورالدین جب چار برس اور چار مہینے کا ہوا تو اس کو مکتب میں بٹھا دیا گیا اور اس کی تعلیم کے لیے نہایت بلند پایہ علما ء مقرر کیے گئے۔
سولہ برس کی عمر تک اس کو تمام علوم متداولہ(قرآن ، حدیث، تفسیر، فقہ، اصول، معانی، ادب، مناظر ہ وغیرہ) میں پوری دسترس حاصل ہوگئی اور اس کے فاضل اساتذہ نے اس کو تکمیلِ علوم کی سند عطا کردی۔ اس چھوٹی سی عمر میں اس کے تبحر علمی کی یہ کیفیت تھی کہ ادق سے ادق مسائل کو چند لمحوں مین حل کردیتا تھا۔ اس کے بعد اس کو بڑے اہتمام کے ساتھ مختلف سپاہیانہ فنون کی تعلیم دی گئی اور وہ بہت تھوڑے عرصہ میں نہ صرف شمشیر زنی، نیز ہ بازی اور تیراندازی میں طاق ہوگیا بلکہ اعلیٰ درجہ کا شہسوار بھی بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کو ترتیبِ لشکر ، مورچہ بندی، محاصرے اور جنگی چالوں کی مشق کرائی گئی یہاں تک کہ اس کی حیثیت ایک ماہر سپہ سالار کی سی ہوگئی۔ اس کے بعد جنگ کی عملی تعلیم دینے کے لیے عمادالدین شہیدرحمہ اللہ اکثر لڑائیوں میں اس کو اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ شیزر، عرقہ، بعرین اور ایڈیسہ کے معرکوں میں نورالدین اپنے مجاہد باپ کے دوش بدوش لڑا اور جنگ کے نشیب وفراز کا عملی تجربہ حاصل کیا۔ قلعہ جعبر کے محاصرے کے دوران جب عمادالدین شہید ہوا تو نورالدین بھی اپنے باپ کے ساتھ وہاں گیا ہوا تھا ۔شفقتِ پدری سے محروم ہونے کے وقت اس کی عمر تیس برس کی تھی۔
 آغازِ حکومت
 عمادالدین شہیدرحمہ اللہ کے لشکر میں مشہور کردی امیر اسد الدین شیرکوہ بھی تھا۔ وہ نورالدین محمود سے پر خلوص محبت رکھتا تھا جونہی اس نے اپنے عظیم سردار کی شہادت کی خبر سنی، فوراًنور الدین کے خیمہ میں گیا۔ (بعض مؤرخوں کا بیان ہے کہ شیر کوہ موصل سے نورالدین کی خدمت میں آیا اور اس کو مشورہ دیا کہ آپ کو اپنے جانثاروں کے ساتھ فوراً حلب چلے جانا چاہیے۔ مرکزِ حکومت موصل کی فوج اور عوام وزیراعظم جمال الدین الجواد کے زیر اثر ہیں اور وہ سیف الدین غازی کا زبردست حامی ہے اس لیے موصل میں آپ کا جانا خلاف مصلحت بھی ہے اور خطرناک بھی۔ نورالدین نے شیر کوہ کا مشورہ قبول کرلیا اور اسی وقت اپنے حامیوں کے ساتھ حلب کو روانہ ہو گیا۔ ربیع الآخر ۵۴۱ھ میں نورالدین حلب میںداخل ہوا اور سیدھا قلعہ میں جا کر فروکش ہوگیا۔ اسدالدین شیر کوہ قلعہ کی سیڑھیوں پر کھڑا ہوگیا اور لوگوں سے نورالدین کے لیے بیعت لینے لگا۔ایک پہرکے اندر اندر حلب میں موجود تمام فوجیوں اور شہر کے باشندوں نے شیرکوہ کی وساطت سے نورالدین کی بیعت کرلی اور کسی طرف سے مخالفت کی ایک آواز بھی نہ اُٹھی۔بیعت کے بعد نورالدین نے شہر کا انتظام درست کیا اور کاروبارِ حکومت میں مشغول ہوگیا۔
 موصل کی حکومت کا قضیہ
عمادالدین شہیدرحمہ اللہ کے لشکر میں سلطان محمود سلجوقی کا ایک لڑکا ملک الپ ارسلان بھی شامل تھا۔ جب تک عمادالدین زندہ رہا، الپ ارسلان اس کی حمایت کا دم بھرتارہا لیکن عمادالدین کے آنکھیں موندتے ہی اس کے دل میں حکومت کا خیال چٹکیاں لینے لگا اور اس نے شہید اتا بک کے مقبوضات پر قبضہ کرنے کا ارادہ کرلیا۔ وزیر جمال الدین الجواد کو اس کے عزائم کا علم ہوا تو اس نے امیر حاجب صلاح الدین محمد الباغیسیانی کے مشورہ سے سیف الدین غازی کو شہر زور سے مرکزِحکومت موصل بلا بھیجا اور اہل شہر اور لشکریوں سے درپردہ اس کے لئے بیعت لینے لگا۔ ادھر ملک الپ ارسلان نے عمادالدین شہیدرحمہ اللہ کے اکثر لشکریوں کو اپنے ساتھ ملالیا تھا اور ان کی مدد سے اپنا اقتدار مستحکم کرنے کی فکر میںتھا۔
جمال الدین الجواد اور صلاح الدین محمد دونوں اس کے پاس گئے اور کچھ ایسی مصلحت آمیز باتیں کیں کہ وہ ان کو اپنا بہی خواہ اور حامی سمجھنے لگا اور پھر ان کے مشورہ کے مطابق سیف الدین غازی کو اپنی طرف سے موصل کا امیر مقرر کردیا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے صلاح الدین محمد کو حماۃ کا شہر جاگیر میں دے کر نورالدین محمود کے پاس حلب بھیج دیا۔ اس کے بعد وہ رقہ چلا گیا اور وہاں رات دن دادِ عیش دینے لگا۔ اس اثنا میں بہت سے امراء اور لشکر ی جمال الدین جواد کے اشارے سے اس کا ساتھ چھوڑ کر موصل چلے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد ملک الپ ارسلان نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا تو اس کی تعداد کو خاصاکم پایا۔
 یہ دیکھ کر اس کے دل میں کھٹک پیداہوئی اور اس نے فوراً سنجار کی طرف کوچ کیا۔ سنجار کے قلعہ دار نے قلعہ کے دروازے بند کرلیے اور جمال الدین کے اشارہ سے الپ ارسلان کو کہلا بھیجا کہ میں تو والیٔ موصل کے ماتحت ہوں، پہلے آپ موصل پر قبضہ کریں، اس کے بعد میں آپ کی اطاعت قبول کرلوں گا۔ ملک الپ ارسلان کو یہ پیغام پا کر غصہ تو بہت آیا لیکن جمال الدین نے یہ کہہ کر اس کی آتشِ غضب کو سرد کردیا کہ چھوٹے چھوٹے قلعہ داروں سے لڑنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ موصل کی طرف پیش قدمی کریں، اگر سیف الدین غازی نے آپ کی اطاعت سے انحراف کیا تو اس کو گرفتار کر لیجیے گا۔

(جاری ہے)

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor