Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ۔ ۲۵ (تابندہ ستارے۔533

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ (۲۵)

تابندہ ستارے ۔ ابو حفصہ (شمارہ 533)

بصورتِ دیگر وہ حاکم سنجار کو اس کے گستاخانہ رویے کی قرار واقعی سزادے گا۔ ملک الپ ارسلان نے دوسرے دن موصل کی طرف کوچ کیا۔ جمال الدین سوچے سمجھے منصوبہ کے مطابق راستے ہی میں اس کے لشکر سے الگ ہوگیا اور موصل پہنچ کر امیر عزالدین ابو بکر دیسبی کو ملک الپ ارسلان کے استقبال کے لیے شہر سے باہر بھیجا۔

امیر دیسبی نے کچھ ایسی چکنی چپڑی باتیںکیں کہ ملک الپ ارسلان سیف الدین غازی کی طرف سے بالکل مطمئن ہوگیا اور اپنے لشکر کو باہر چھوڑ کر تنہا موصل شہر کے اندر چلا گیا۔ جمال الدین نے اسی وقت اس کو پکڑ کر نظر بند کردیا اور سلطان مسعود سلجوقی سے اجازت لے کر سیف الدین غازی کوعمادالدین شہید رحمہ اللہ کی جگہ موصل کی مسندامارت پر بٹھادیا۔ اس طرح شہید اتابک کی سلطنت دوحصوں میں تقسیم ہوگئی۔ حلب اور اس کے نواحی علاقے نورالدین محمود کے حصے میں آئے اور موصل و سنجار وغیرہ پر سیف الدین غازی کا اقتدار قائم ہوگیا۔

 نورالدین محمود اور سیف الدین غازی

صوبہ موصل پر اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے بعدسیف الدین نورالدین محمود کی طرف متوجہ ہوا جس نے ابھی تک اس کی بیعت نہیں کی تھی۔ سیف الدین غازی صرف شہید اتابک کا فرزند اکبر ہونے کی وجہ سے ہی زنگی خاندان کی سیادتِ عظمیٰ کا دعویدار نہیں تھا بلکہ اس کو اپنے مرحوم باپ کے اکثر سربرآوردہ امراء کی حمایت بھی حاصل تھی اور انہی کی پرزور حمایت کی بدولت اس کو مرکز حکومت موصل کی امارت نصیب ہوئی تھی۔

 ان میں ابو جعفر محمد جمال الدین الجواد، صلاح الدین محمد الباغیسیانی اور امیر عزالدین ابوبکر دیسبی جیسے بااثر لوگ بھی شامل تھے جو زنگی خاندان کے جاں نثار اور حقیقی بہی خواہ تھے۔ یہ لوگ خلوصِ نیت سے سمجھتے تھے کہ زنگی خاندان کی قوت کا دوحصوں میں بٹ جانا کوئی نیک فال نہیں ہے۔ ان کی ایماء پر سیف الدین غازی نے نورالدین محمود سے خط و کتابت کی طرح ڈالی اور اس کو بار بار موصل آنے کے لیے لکھا لیکن نور الدین غلط فہمی کی بناپر یا کسی اور سبب سے موصل جانے سے گریز کرتا رہا۔ اب سیف الدین غازی کو خدشہ پیدا ہوا کہ نورالدین بعض خود غرض امراء کے بہکاوے میں آکرکہیں اس کے خلاف کھلم کھلا علم بغاوت نہ بلند کردے اور اس طرح صلیبی حکمران اس کی ناتجربہ کاری سے فائدہ نہ اُٹھا لیں۔ اس قضیہ کو طے کرنے کے لیے وہ ایک زبردست فوج کے ساتھ حلب کی طرف روانہ ہوا۔ شہر کے مضافات میں پہنچ کر اس نے نورالدین کو بلا بھیجا چونکہ دونوں بھائی محض غلط فہمی کی بنا پر ایک دوسرے سے خائف تھے اس لیے قرار پایا کہ دونوں پانچ پانچ سو سواروں کی معیت میں ایک دوسرے سے ملاقات کریں۔ نورالدین جب اپنے بھائی کے قریب پہنچا تو اس کو سیف الدین کی صورت میں اپنے شہید باپ کی شکل نظرآئی۔ اس کے دل میں برادارانہ محبت نے جوش مارا۔ فوراً گھوڑے سے اُترپڑا۔ اپنے محافظ سواروں کو واپس جانے کا حکم دیا اور خود دوڑ کر سیف الدین غازی کے پائوں پر جا گرا۔ بڑے بھائی کے خون نے بھی جوش مارا۔ اس نے نورالدین کو گلے لگالیا اور دونوں بھائی ایک دوسرے سے بغلگیر ہو کر فرطِ محبت سے رونے لگے۔ دلوں کا غبار اور کدورتیں لمحوں میں دُھل گئیں۔

جب دونوں کے جذبات سکون پذیر ہوئے تو سیف الدین غازی نے نورالدین سے پوچھا کہ جان برادر! تم میرے پاس آنے سے کیوں گریز کرتے تھے، شاید تم کو میری طرف سے کوئی خدشہ تھا، خدا کی قسم! میرے دل میں تمہارے بارے میں کبھی کوئی براخیال نہیں آیا۔ میں توتمہیں اپنا دست و بازو سمجھتا ہوں۔ نورالدین نے جواب دیا کہ بیشک یہ میری غلطی تھی کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہوا۔ آپ میرے بزرگ اور سردار ہیں اور آپ کو چھوڑ کر میں حکومت و سلطنت کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔ میری دلی خواہش ہے کہ میں ہمیشہ آپ کے قدموں میں رہوں اور آپ کے جھنڈے کے نیچے دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کروں۔ سیف الدین غازی نے نورالدین محمود کی پیشانی پر بوسہ دے کر کہا کہ جانِ برادر! مجھے تمہارے جواب سے دلی مسرت ہوئی، مجھ کو تم سے ایسی ہی توقع تھی، میں تم سے ملنے کا اس لیے آرزومند تھا کہ ہمارے دشمنوں بالخصوص صلیبیوں پر یہ ظاہر ہو جائے کہ اگر ایک عمادالدین شہید ہوا ہے تو وہ اپنے پیچھے دولعل چھوڑ گیا ہے جو ایک دوسرے پر جان چھڑکتے ہیں اور دشمنانِ دین کے مقابلے میں یک جان دوقالب ہیں۔

 اب تمہارا حلب پر حکومت کرنا ہی مسلمانوں کے بہترین مفاد میں ہے۔ ممکن ہے صلیبیوں کا خبثِ باطن انہیں شرانگیزی پر اُکسائے اور وہ تمہیں پریشان کریں لیکن تم کو ان کا مقابلہ ہمت اور استقلال کے ساتھ کرنا ہوگا کیونکہ مسلمانوں کی حفاظت اور حمیت دینی کا تقاضایہی ہے۔ اگر تمہیں کبھی میری مدد کی ضرورت پڑے تو بلاتا مل مجھے پیغام بھیج دینا، میں ہر وقت اور ہر حال میں تمہاری مدد پر کمر بستہ رہوں گا۔ غرض اس قسم کی گفتگو کے بعد دونوں مجاہد بھائیوں میں پر خلوص رشتہ اتحاد قائم ہوگیا اور وہ ایک دوسرے کے بارے میں محبت بھرے جذبات لیے ہوئے اپنے علاقوں کو واپس گئے۔ اس واقعہ کے بعد دونوں بھائیوں میں کبھی کوئی بدمزگی پیدا نہ ہوئی اور وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے معاون و دستگیر رہے۔

(جاری ہے)

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor