Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ (۱) (روشن ماضی 534)

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ (۱)

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 534)

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ

ابو جعفر منصور عباسی دور کا دوسرا خلیفہ تھا۔ عباسی دور آنے تک خلافت عملی طور پر بالکل بادشاہت میں تبدیلی ہوگئی تھی، خلفاء بادشاہوں کی طرح شان و شوکت اور ٹھاٹ باٹ سے سے رہنے لگے تھے، منصور بھی اسی طرح کی زندگی گزارتا تھا۔

 ایک مرتبہ وہ حج کو گیا تو ایک جم غفیر اس کے ساتھ تھا، گدھوں اور خچروں پر اس کے عیش کا سامان لدا ہوا تھا۔ بہت سے نوکر چاکر اور خدم وحشم ساتھ تھے۔

ایک دن جب وہ بیت اللہ کاطواف کررہا تھا تو اس کی ملاقات مشہور بزرگ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے ہوگئی، منصور نے حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کا ہاتھ پکڑکر ان کا منہ کعبہ کی طرف کردیا اور کعبہ کی طرف اشارہ کرکے کہا:شیخ! آپ کو اللہ کے اس گھر کی قسم ہے، سچ سچ بتائیں آپ نے مجھے کو کیساپایا؟

انہوں نے بے دھڑک فرمایا: مجھے اللہ کے اس گھر کی قسم میں نے تجھ کو بدترین مخلوق پایا۔

منصور حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کی حق گوئی سے واقف تھا، ان سے ڈرتا بھی تھا۔ ایک دن اس نے شیخ کو منیٰ میں بلوایا۔ انہیں خوش کرنے کے لئے کچھ انعام و اکرام پیش کر کے کہا :سفیان! آپ جو چاہیں مجھ سے طلب کریں میں آپ کی ہر خواہش پوری کروں گا۔

حضرت سفیان ثوری نے فرمایا:ابو جعفر! اللہ سے ڈر، دنیا تیرے ظلم وستم سے بھر گئی ہے، مہاجرین اور انصار کی تلوارنے دنیا کو فتح کیا۔ اس تلوار کی بدولت ہی تو بادشاہت کی گدی پر بیٹھا ہے، آج توتمام اسلام کا بادشاہ ہے، مگر ان ہی مہاجرین اور انصار کی اولاد بھوک سے مررہی ہے اور تو عیش میں مبتلا ہے۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے حج کیا تھا تو دس درہم سے کچھ زیادہ خرچ ہوئے تھے۔ تو اس کام کے لئے اس قدر دولت لئے پھرتا ہے کہ اس کا ڈھونا بھی مشکل ہے۔( احیاء العلوم، الغزالی، ہمارے ولی)

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ خلفاء اور امراء سے بے تعلق رہتے تھے، دوسروں کو بھی ان سے بے تعلق رہنے کی تاکید کرتے تھے، انہوں نے اپنے ایک شاگرد کو لکھا:

’’میرے بھائی! اُمراء سے قرب اور ان سے میل جول نہ رکھنا، تم سے کہا جائے گا کہ لوگوں کی سفارش کیجئے۔ مظلوموں کی دادرسی اور ظلم کو مٹانے کے لئے ایسا کرنا چاہیے تو یہ ابلیس کا فریب ہے۔ ان باتوں کو آج علماء نے امیروں کے قرب کا اور دینار کمانے کا زینہ بنالیا ہے۔ اگر تم دیکھو کہ کوئی کسی بادشاہ سے چمٹا ہے تو سمجھ لو کہ وہ چور ہے اور اگر دیکھو کہ امیروں کے دروازہ کا چکر لگاتا ہے تو وہ ریاکار ہے۔( طبقات الکبریٰ شعرانی جلد اول)

ایک بار ایک شخص کو حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ نے امیر وں سے زیادہ میل جول رکھنے پر تنقید کی تووہ کہنے لگا: میں بچوں کی وجہ سے مجبور ہوں، ان کی روزی روٹی کا سوال ہے۔

فرمایا: ذرادیکھو !یہ کہتا ہے کہ جب وہ اللہ کی نافرمانی کرے گااور غیر اللہ کی اطاعت کرے گا… تو اللہ تعالیٰ اس کے بال بچوں کو رزق دے گا اور جب اس کی اطاعت کرے گا تو وہ اس کے بال بچوں کو بے یارومدد گار چھوڑ دے گا۔( طبقات الکبریٰ شعرانی جلد اول)

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor