Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 534)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 534)

ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جمعہ کے دن جس گھڑی میں قبولیت دعاء کی امید کی جاتی ہے اسے عصرکے بعد سے لے کر سورج چھپنے تک تلاش کرو۔(ترمذی) یعنی اس وقت میں دعاء کر و، بعض حضرات اس کا اس طرح اہتمام کرتے ہیں کہ عصر پڑھ کر مغرب تک دعاء میں لگے رہتے ہیں تاکہ قبولیت کی گھڑی میں بھی دعاء ہوجائے۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ یہ گھڑی اس وقت ہوتی ہے جبکہ امام خطبہ کے درمیان بیٹھتا ہے اور یہ نماز ختم ہونے تک رہتی ہے (لیکن خطبہ کے دوران زبان سے دعاء کرنا ممنوع ہے، دل سے دعائکرے اور نماز میں درودشریف کے بعد تو دعاء آہی جاتی ہے) اور بعض روایات میں ہے کہ نماز جمعہ قائم ہونے کے وقت سے لے کر سلام پھیر نے تک مذکورہ گھڑی ہوتی ہے(اس پر بھی یوں عمل ہوجاتا ہے کہ درود شریف کے بعد نماز میں دعاء کی جاتی ہے) اور ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ یہ گھڑی جمعہ کے دن کی سب سے آخری گھڑی ہے، عورتیں نماز جمعہ کے لیے مسجد میں تو نہیں جاتیں، نہ ان پر جمعہ فرض ہے جو خطبہ اور نماز کے دوران والی روایات پر عمل کرسکیں، لیکن گھر میں رہتے ہوئے عصر سے مغرب تک تو دعاء کرہی سکتی ہیں اور بھی کچھ نہیں تو سورج چھپنے سے پہلے دعاء میں لگ جائیں بہت آسان کام ہے، مغرب کے لیے وضو کرنا ہی ہوگا پندرہ بیس منٹ پہلے دعاء میں لگ جائیں اور اسی سے مغرب کی نماز پڑھ لیں اس میں کوئی دقت کی بات نہیں۔

حج کے موقعہ پر عرفات میں دعاء کی اہمیت ہے

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ سب سے بہتر دعاء عرفہ کے دن کی دعاء ہے اور سب سے بہتر اللہ کا ذکر جو میں نے اور مجھ سے پہلے نبیوں نے (عرفات میں) کیا ہے وہ یہ ہے لاالہ الا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھوعلی کل شیء قدیر اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،اسی کے لیے ملک ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘( مشکوٰۃ المصابیح: ص ۲۲۹ بحوالہ ترمذی)

تشریح: اس حدیث سے عرفہ کے دن دعاء کرنے کی فضیلت معلوم ہوئی، حج کا سب سے بڑارکن میدان عرفات میں قیام کرنا ہے یہ میدان بہت بڑا ہے جو مکہ شریف سے نومیل دورہے، حج کے احرام کے ساتھ جو شخص مردہو یا عورت ذی الحجہ کی نوتاریخ کو زوال سے لے کر آنے والی رات کے ختم ہونے تک یعنی صبح صادق تک ذرادیر کو بھی عرفات میں سے گزرجائے یا ٹھہر جائے اس کا حج ہوجاتا ہے، چونکہ یہ ٹھہرنا ذی الحجہ کی نو تاریخ کو ہوتا ہے اس لیے اس تاریخ کو یوم عرفہ کہتے ہیں۔

حج تو صبح صادق ہونے تک عرفات میں پہنچ جانے سے ہوجاتا ہے اور یہ آسانی اللہ پاک کی طرف سے دے دی گئی ہے کہ اگلی رات کو پچھلے دن کے ساتھ شمار کیاجائے تاکہ دوردراز سے آنے والوں اور بھولے بھٹکے لوگوں کا بھی حج ہوجائے کہ اگر نویں تاریخ کو زوال کے وقت نہ پہنچ سکیں تو اس کے بعد بھی صبح صادق ہونے تک جب بھی پہنچ جائیں حج فوت نہ ہو، البتہ حج کا نظام اس طرح سے ہے کہ زوال کے بعد سے لے کر سورج چھپنے تک سب حاجی حضرات عرفات میں رہتے ہیں، اس چھ سات گھنٹہ کے اندر دعائیں مانگیں جاتی ہیں اس موقع پر دعاء کرنا بہت اکسیر ہے، اپنے لیے دعاء کریں اور آل اولاد کے لیے دعاء کریں، اپنے لیے اور سارے عالم کے مسلمانوں کے لیے، نیز زندوں کے لیے اور مردوں کے لیے اللہ پاک سے مغفرت طلب کریں، اٹکی ہوئی حاجتوں کا سوال کرے، مشکلوں کے حل ہونے کے لیے دعاء مانگے۔جو حضرات اس وقت کی قیمت سمجھتے ہیں اور دعاء کا ذوق رکھتے ہیں چھ سات گھنٹہ کا وقت دعاء ہی میں خرچ کردیتے ہیں، لیکن بہت سے مرد اور عورت اس مبارک موقع پر بھی دعاء سے غفلت برتتے ہیں، کھانے پینے میں زیادہ وقت لگادیتے ہیں ،بلکہ بعض لوگ تو اس موقعہ پر ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈ کے ذریعہ گانا وغیرہ بھی سنتے ہیں جو شخص وہاں سے بھی محروم آگیا وہ کہاں پائے گا۔ اور بعض طالب دنیا اس مبارک موقعہ پر بندوں سے سوال کرتے رہتے ہیں جو بہت بڑی محرومی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو یکھا کہ عرفات میں لوگوں سے سوال کررہا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا: تو آج کے دن اور اس جگہ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے مانگ رہا ہے؟ یہ فرماکر اس کو ایک درہ رسید فرمایا۔(مشکوٰۃ)

 

(جاری ہے)

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor