Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ۔ ۲۶ (تابندہ ستارے۔534

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ (۲۶)

تابندہ ستارے ۔ ابو حفصہ (شمارہ 534)

سیف الدین غازی سے رشتۂ یگانگت استوار کرنے کے بعد نورالدین محمود نے حلب کے تمام اُمراء اور عوام کوجمع کیا اور ان کے سامنے ایک پرجوش تقریر کرتے ہوئے کہا:
’’دوستو! گواہ رہنا، میں نے حکومت کی ذمہ داریاں اس لیے قبول نہیں کی ہیں کہ قیصرو کسریٰ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے عیش و عشرت کی زندگی بسر کروں، بلکہ اس سے میرا مقصد یہ ہے کہ اپنی تمام صلاحیتوں کو ان فرنگی طالع آزمائوں کے خلاف بروئے کارلائوں جو گزشتہ پچاس برسوں سے مسلمانوں کے لیے وبالِ جان بنے ہوئے ہیں اور جن کے جورواستبداد نے مسلمانوں پر جینا حرام کر رکھا ہے۔ مجھ کو کبھی بادشاہ یا سلطان نہ سمجھنا بلکہ قوم اور ملک کا ایک خادم متصور کرنا۔ اگر میں کبھی کوئی غلطی کروں تو مجھے متنبہ کردینا یا میری حمایت سے دستکش ہوجانا۔‘‘
عمادالدین شہیدرحمہ اللہ کے ہونہار فرزندکی یہ ولولہ انگیز تقریر اس کے آئندہ عزائم کی آئینہ دار تھی۔ اجتماع میں موجود تمام لوگوں نے اس کو اپنی صد ق دلانہ حمایت کا یقین دلایا اور نورالدین اطمینان کے ساتھ اپنی قوت کو مستحکم کرنے کی تدبیروں میں مشغول ہوگیا۔
معرکۂ ایڈیسہ
۵۳۹ھ/۱۱۴۴ء میں جب عمادالدین رحمہ اللہ نے ایڈیسہ کو فتح کیا تھا تو وہاں کا حکمران جو سلین ثانی (Joscelin II) ایڈیسہ سے بھاگ کر دریائے فرات کے مغرب میں واقع تل باشرکے شہر میں جا کر مقیم ہو گیا تھا۔ ۵۴۱ھ/۱۱۴۶ء میں عمادالدین رحمہ اللہ ایک بزدل قاتل کی تلوار کاشکار ہوگیا تو جوسلین ثانی کی باسی کڑھی میں اُبال آیا۔ اس نے ایڈیسہ کے عیسائی(ارمنی) باشندوں سے ساز باز کر کے جمادی الآخر ۵۴۱ھ مطابق ۱۱۴۶ء میں ایڈیسہ پر شبخون مارا اور مسلمان محافظوں کو روندتا ہوا شہر کے اندر داخل ہوگیا۔ قلعہ کے مسلمان بروقت خبردار ہوگئے اور انہوں نے شہر کے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو قلعہ کے اندر داخل کرلیا اور پھر اس کے دروازے بند کر کے جو سلین ثانی کے مقابلہ پر ڈٹ گئے۔ نورالدین محمود کو جونہی اس واقعہ کی خبر ملی وہ دس ہزار سوار لے کر طوفان کی طرح ایڈیسہ کی طرف بڑھا اور آناً فاناً اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ دوسرے دن لڑائی کا آغاز ہوا تو عیسائی آگے اور پیچھے دونوں طرف سے مسلمانوں کے حملوں کی زد میں آگئے۔ قلعہ کے اندر سے محصور مسلمان تیروں کی بارش کر رہے تھے اور باہر سے نورالدین کی فوج عیسائی لشکر پر قیامت ڈھارہی تھی۔ شام ہوتے ہوتے جو سلین ثانی کے ہزاروں لشکری مارے گئے اور وہ خود اپنے بیس سرکردہ سرداروں کے ہمراہ ایک برج میں جا چھپا۔ مسلمانوں نے اس برج کو بارودی سرنگ بچھا کراُڑادیا۔ عیسائی سردار تو سب کے سب مارے گئے البتہ جو سلین ثانی کسی طرح بچ نکلا اور بھیس بدل کر فرار ہوگیا۔ فتح کے تیسرے دن نورالدین نے مالِ غنیمت اور جنگی قیدیوں کا معائنہ کیا اور اس کی مناسب تقسیم کا حکم دیا۔ مالِ غنیمت سے اس نے متعدد تحائف مسلمان اُمرا ء کو بھی بھیجے۔
اس شاندار فتح پر مسلمانوں نے بڑی مسرت کا اظہار کیا اور شعراء نے تہنیتی قصیدے لکھے۔ان میں سے ابن منیر اور قیصرانی کے قصائد نے بڑی شہرت پائی۔
 علامہ ابن الاثیر کا بیان ہے کہ ایڈیسہ پر جو سلین ثانی کے قبضہ کی خبر سن کر سیف الدین غازی بھی ایک جرار فوج لے کر موصل سے چل پڑا تھا جس وقت وہ ایڈیسہ کے قریب پہنچا تو اسے اطلاع ملی کہ نور الدین محمود نے عیسائی باغیوں کو قرار واقعی سزادے کر شہر پر دوبارہ قبضہ کرلیا ہے۔ سیف الدین یہ خبر سن کر بے حد مسرور ہوا اور اپنے لشکر سمیت موصل کو واپس چلا گیا۔ وہاں سے اس نے ایک خاص پیغامبر کے ذریعہ نورالدین کو مبارکباد بھی بھیجی اور اس کو اپنے مکمل تعاون اور سرپر ستی کا یقین دلایا۔
نورالدین نے ایڈیسہ میں چند دن قیام کیا اور اس دوران شہر اور قلعہ کی حفاظت کے خاص انتظامات کیے۔ اس کے بعد وہ ایک مضبوط دستۂ فوج کو وہاں چھوڑ کر واپس حلب آگیا۔
دوسری صلیبی جنگ
یورپ میں زبردست اضطراب
جیسا کہ پیچھے بیان کیا گیا ہے ایڈیسہ کو میسور پوٹیمیا کی آنکھ سمجھا جاتا تھا۔ سیاسی اور جنگی اعتبار سے یہ شہر فی الحقیقت بے حد اہم تھا اور صلیبی اس کو اپنا مستقر بنا کر پورے عراق اور شام پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ۵۳۹ھ/ ۱۱۴۴ء میں جب عماد الدین زنگی رحمہ اللہ نے اس کو صلیبیوں سے چھینا تو اقوامِ فرنگ کو سخت دھچکا لگا اور اسی وقت سے ان میں پھر صلیبی جنگ کی باتیں ہونے لگیں ،تاہم تل باشر میں جوسلین ثانی کی موجودگی نے ان کی ڈھارس بندھائے رکھی۔ عمادالدین رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد اقوامِ یورپ کی شہ پر ہی جو سلین ثانی نے اپنی کھوئی ہوئی حکومت کو بحال کرنے کی کوشش کی لیکن جب نورالدین محمود نے اس کو ذِلت آمیز شکست دے کر ایڈیسہ کو اپنے مضبوط پنجوں میں دبوچ لیا تو سارا یورپ غم و غصہ سے کھول اُٹھا۔ ان کے اضطراب میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ایڈیسہ کے ارمنی پادریوں کا ایک گروہ اپنی فریاد لے کر پوپ یوگینئس کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کو اپنی درد بھری کہانی سنائی۔

 

(جاری ہے)

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor