Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ (۳) (روشن ماضی 537)

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ (۳)

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 537)

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ

خط میں لکھا تھا:

’’بھائی سفیان کے نام امیر المومنین مہد ی بن منصور کی طرف سے…

میرے بھائی ! آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنایا ہے، میری اور آپ کی دوستی بہت زمانہ سے ہے، سب لوگ مجھے خلافت کی مبارکباد دینے آئے بس اگر کوئی نہ آیا تو آپ نہ آئے، میرے جو بھی دوست مجھ سے ملنے آئے میں نے انہیں بہت سے انعام و اکرام دے کر رخصت کیا ، پتہ نہیں کیا وجہ ہے جو آپ نہیں آئے؟ میں خود آپ کے پاس آتا اگر یہ امر بادشاہ کی شان کے خلاف نہ سمجھا جاتا…‘‘

خط کے جواب میں حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ نے جو سخت باتیں خلیفہ کو لکھیں ان سے ان کی بے خوفی اور بیباکی کا اندازہ ہوتا ہے، انہوں نے لکھا:

’’مہدی! تو نے اپنے خط میں خود تسلیم کیا ہے کہ بیت المال کی رقم سے انعام واکرام دے کر قوم کی دولت کو اپنی عزت اور شہر ت کے لئے خرچ کرتا ہے، تو چاہتا ہے کہ قیامت کے دن میں بھی تیری اس بے جا خرچی کی شہادت میں پیش ہوں۔ مہدی ! تجھے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینے کو تیار رہنا چاہئے ، تو خلافت کی گدی پر بیٹھا ہے، قیمتی کپڑے پہنتا ہے، تیرے دروازے پر چوکیدار پہرہ دیتا ہے، تیرے اربابِ حکومت گو رنر، کمشنر، مجسٹریٹ وغیرہ خود شراب پیتے ہیں اور دوسروں کو شراب پینے کے جرم میں سزا دیتے ہیں، خود زنا کا ارتکاب کرتے ہیں اور دوسروں پر حد جاری کرتے ہیں، خود چوریاں کرتے ہیں اور دوسرے چوروں کے ہاتھ کٹواتے ہیں، ان جرائم پر پہلے تجھے اور تیرے اربابِ حکومت کو سزا ملنی چاہئے پھر دوسروں کو۔

 مہدی! اچھی طرح سمجھ لے جلدہی وہ دن آنے والا ہے جب تیرے ہاتھ بندھے ہوں گے اور تیرے یہ خوشامدی اور ظالم افسر تیرے پیچھے ہوں گے۔ تو ان سب کا پیشوابن کر دوزخ کی طرف ہانک دیا جائے گا۔ میں نے تیری خیر خواہی کا حق ادا کردیا، اب مجھے پھر کبھی خط نہ لکھنا۔‘‘

مہدی نے یہ خط پڑھا تو بہت متاثر ہوا۔ وہ دیر تک آنسو بہاتا رہا۔

حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ طے کر رکھا تھا کہ وہ کسی بادشاہ یا امیر کے دربار میں تشریف نہیں لے جائیں گے، نہ ہی ان لوگوں کو ملاقات کا موقع دیں گے۔ا س لئے وہ خلفاء کے پیچھے نہیں پڑتے تھے لیکن جب کبھی خلفاء کی کوئی کمی سامنے آتی یہ ان کو بلادریغ حق کی تلقین کرتے تھے۔

منصور عباسی کے بعد اس کا بیٹا مہدی تختِ خلافت پر بیٹھا تو یہ اس سے بھی ملنے نہیں گئے۔ اس کے بلوانے پر بھی نہیں گئے بلکہ اُلٹی اس کو پھٹکا رسنا دی۔ مہدی ان کا بہت احترام کرتا تھا اس لئے وہ ان کی بات سن کر چپ ہوگیا۔ لیکن کچھ دن کے بعد قضا کا عہدہ دینے کے لئے اس نے ان کو زبردستی دربار میں بلوالیا۔

 جب حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ دربار میں مہدی کے سامنے پیش کئے گئے تو انہوں نے کسی طرح کے شاہی آداب نہیں برتے صرف سلام مسنون کر کے بیٹھ گئے۔

 خلیفہ مہدی نے کہا:سفیان! آپ ہم سے بھاگے بھاگے پھرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ، دیکھئے اب آپ میرے قبضہ میں ہیں، جو حکم آپ کے خلاف چاہوں دیدوں۔ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ نے جواب دیا:’’ جو حکم آپ میرے بارے میں دیں گے، وہی حکم اس قادر مطلق کی جانب سے آپ کے بارے میں دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے سے حق وباطل میں امتیاز کردے گا۔‘‘

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کے اس سخت جواب پر وزیر ربیع بن یونس بہت ناراض ہو ا اور ان کے قتل کے لئے خلیفہ سے اجازت چاہی۔ خلیفہ مہدی نے وزیر کو ڈانٹا اور کہا: ایسے بزرگوں کا قتل کر کے ان کی خیر وبرکت سے محروم ہوجائیں گے۔ پھر کوفہ کے عہدئہ قضا کا پروانہ لکھ کر ان کے سپر د کردیا لیکن انہوں نے اس پروانہ کو پھاڑ کر دریا ئے دجلہ میں پھینک دیا اور خود کہیں چھپ گئے، پھر کبھی مہدی کے ہاتھ نہ آئے۔

 زندگی اُلفت کی درد انجامیوں سے ہے مری

 عشق کو آزادِ دستورِ وفا رکھتا ہوں میں

( اقبالؒ)

( مروج الذہب جلد ۶)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor