Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 537)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 537)

اذان ، جہاداور بارش کے وقت دعاء ضرور قبول ہوتی ہے
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا:دودعائیں ایسی ہیں جو رد نہیں کی جاتیں( یعنی ضرور قبول ہوتی ہیں) یا (فرمایا) کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ان کو رد کردیا جائے( راوی کو شک ہے) (۱) اذان کے وقت کی دعائ(۲) اور ( جہاد کے موقع پر) جنگ کرتے وقت جب( مسلمان اور کافر) آپس میں ایک دوسرے کو قتل کررہے ہوں اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ بارش کے وقت دعا ء ضرور قبول ہوتی ہے۔
 اس حدیث میں قبولیت دعاء کے تین خاص مواقع ذکر فرمائے ہیں،اول اذان کے وقت ، اس میں اذان کے شروع ہوتے وقت دعاء کرنا، اذان کے درمیان دعاء کرنا دونوں صورتیں آجاتی ہیں، نیز اذان کے ختم پر دعاء کی مقبولیت کا وعدہ بھی ایک روایت میں آیا ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ! بے شک اذان دینے والے ہم سے فضیلت میں بڑھے جارہے ہیں( ہم کو یہ فضیلت کیسے حاصل ہو) اس کے جواب میںآنحضرتﷺ نے فرمایا: تم اسی طرح کہتے جائو جیسے اذان دینے والے کہتے ہیں۔ پھر جب اذان کا جواب ختم ہوجائے تو اللہ سے سوال کرو، جو مانگو گے دے دیا جائے گا۔( رواہ ابودائود)
دوسری حدیث میں مذکور ہے کہ جب مؤذن کی اذان سنے توجس طرح وہ کہے اسی طرح کہتا جائے، البتہ حی علی الصلوٰۃ اورحی علی الفلاح کے جواب میں لاحول ولاقوۃ الاباللّٰہ کہے، جب اذان کا ایک بلندر درجہ ہے یہ اللہ کے ایک ہی بندے کو ملے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں امیدکرتا ہوں کہ وہ ایک بندہ میں ہی ہوں گا جس نے میرے لیے وسیلہ کا سوال کیا اس کے لیے میری شفاعت حلال ہوگئی یعنی اس نے ایسا کا م کیا جس کی وجہ سے سفارش کروانے کا راستہ نکال لیا۔(مشکوٰۃ المصابیح)
 اذان کے بعد کی جو دعاء مشروع ہے یعنی اللھم رب ھذہ الدعوۃ آخر تک اس میں وسیلہ کا سوال موجود ہے، یہ مختلف اوقات کی دعائوں کے ذیل میں آرہی ہے۔ ان شاء اللہ
ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ لایردالدعاء بین الاذان والاقامۃ یعنی اذان واقامت کے درمیان دعاء رد نہیں کی جاتی یعنی ضرور قبول ہوتی ہے، علما ئے حدیث نے اس کے دومطلب لکھے ہیں ایک یہ کہ جس وقت اذان ہو رہی ہو اور جس وقت اقامت ہو رہی ہو اس وقت دعاء ضرور قبول ہوتی ہے اور دوسرا مطلب یہ بتایا ہے کہ اذان ختم ہونے کے بعد سے اقامت کے ختم ہونے تک جو وقفہ ہے اس میں دعاء ضرور قبول ہوتی ہے۔ (بذل المجہود) مومن بندہ کو لگا رہنا چاہیے اپنے رب سے مانگتا ہی رہے۔
 قبولیت دعاء کا دوسرا خاص موقع یہ بتایا ہے کہ جب مسلمانوں اور کافروں میں جنگ ہو رہی ہو اور ایک دوسرے کو قتل کررہے ہوں وہ وقت بھی دعاء کی قبولیت کاہے، در حقیقت وہ وقت بہت کٹھن ہوتا ہے، اس وقت اللہ کو یاد کرنا اور اللہ سے مانگنا واقعی اللہ سے خاص تعلق کی دلیل ہے، اس موقع پر دعاء کی طرف وہی شخص متوجہ ہوگا جس کے دل میں دعاء کی عظمت اور اہمیت ہوگی اور دعاء بھی خلوص دل سے نکلے گی، افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اسلامی جہاد چھوڑ دیا ہے، اس لیے غیروں کی نظروں میں حقیر ہیں اور جہاد کی خاص برکتوں سے محروم ہیں۔ اگر کہیں جنگ ہے تو مسلمانوں میں ہے یا کافروں سے ہے تو اسلام کے مطابق نہیں اور اللہ کے لیے نہیں، بلکہ وطن اور ملک کے لیے ہے۔ اناللّٰہ واناالیہ راجعون
حدیث بالا میں قبولیت کا تیسرا خاص موقع بتاتے ہیں ارشاد فرمایا کہ بارش کے وقت دعاء قبول ہوتی ہے ،بارش خود اللہ کی رحمت ہے، جس وقت یہ رحمت متوجہ ہو اس وقت دعاء کرلی جائے تو دوسری رحمت بھی متوجہ ہوجاتی ہے، یعنی بار گاہ الہٰی میں دعاء قبول کرلی جاتی ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس موقعہ پر اللہ جلّ شانہٗ سے دنیاو

 

(جاری ہے)

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor