Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ۔ ۲۸ (تابندہ ستارے۔537

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ (۲۸)

تابندہ ستارے ۔ ابو حفصہ (شمارہ 537)

صلیبی لشکر قسطنطنیہ میں

 صلیبی لشکر کا پہلا پڑائو قسطنطنیہ تھا، وہاں اس وقت شاہ مینوئل اول کی حکومت تھی۔ وہ صیلبیوں کی کثرتِ تعداد سے گھبرا گیا تاہم اس نے حتی الوسع ان سے اچھا سلوک کیا اور ہر ممکن امداد دینے کا یقین دلایا لیکن صلیبیوں کی بد مستیوں پر کوئی کہاں تک قابو رکھتا۔

قسطنطنیہ کے یونانی باشندے بہت جلد ان سے بیزار ہوگئے اور انہوں نے کوشش کی کہ یہ بلا جلداز جلد ان کے سر سے ٹل جائے۔ چنانچہ ان کی رہنمائی میں صلیبی لشکر دوحصوں میں تقسیم ہو کر شاہِ فرانس اور شہنشاہِ جرمنی کی قیادت میں ایشیائے کوچک میں جا داخل ہوا۔

 شیر کی کچھار میں

 اس زمانے میں ایشیائے کو چک میں سلطان مسعود سلجوقی( اول) کی حکومت تھی۔

 اس نے بڑی سرعت سے صلیبیوں کے مقابلے کی تیاری کی اور اپنی فوجوں کو پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھیلا دیا۔ صلیبی لشکر جونہی ان کی زد میں آیا، سلجوقی فوجوں نے چاروں طرف سے اس پر یلغار کردی۔ صلیبی جنگجو پہلے ہی رسد کی کمی اور راستے کی دشواریوں سے سخت پریشان تھے، اس بلائے ناگہانی سے بدحواس ہوگئے اور مسلمانوں کے ہاتھوں بری طرح پٹ گئے۔ ان کی فوج کے نوحصے مکمل طور پر تباہ و برباد ہوگئے اور صرف ایک حصہ بمشکل تمام بچ نکلنے میںکامیاب ہوا۔ شہنشاہ کا نرڈ اپنی بچی کھچی فوج کے ہمراہ بہزار دِقّت و خرابی نیقیہ پہنچا، جہاں شاہِ فرانس دوسرے راستے سے پہنچ چکا تھا۔ دونوں بادشاہوں کی ملاقات بڑے پر اَلَم ماحول میں ہوئی۔ مچاڈ لکھتا ہے کہ ’’شہنشاہ کا نرڈ اپنی کل فوج کا صرف دسواں حصہ بچا کر نیقیہ پہنچا، جہاں لوئیس شاہِ فرانس صلیبیوں کی بربادی کی خبر سن کر خون کے آنسوروہا تھا۔ دونوں بادشاہ ایک دوسرے کے گلے لگ کر خوب روئے اور عہد کیا کہ دونوں اکٹھے فلسطین جائیں گے لیکن شہنشاہِ جرمنی کے حوصلے پست ہوچکے تھے اور وہ دوبارہ کسی صورت میں سلجوقی مسلمانوں کا سامنا نہیں کر نا چاہتا تھا۔ چند دن کے بعد وہ موسمِ سرما گزارنے کے بہانے قسطنطنیہ چلا گیا۔

فرانسیسی لشکر کی تباہی

 شاہ لوئیس جرمن فرمانروا کے الگ ہوجانے کے باوجود اپنے عزم پر قائم رہا اور بڑی ہشیاری اور احتیاط کے ساتھ نیقیہ سے لائوڈیسیا (Laodecia)کی طرف روانہ ہوا۔ اس نے اپنی فوج کے دوحصے کردیئے جو ہر روز دونئے سرداروں کے ماتحت بادشاہ کی ہدایات کے مطابق سفر کرتے تھے۔ ایک دن اگلے حصہ کی کمان جیا فری ڈی ریکن کررہا تھا۔ بادشاہ نے اسے حکم دیا کہ سامنے کے بلند پہاڑ ( کوہ باباداخ) کی چوٹی پر جا کر ٹھہر جائے۔ جیا فری نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی لیکن ملکہ ایلیز نے جو اگلے حصہ فوج میں سفر کر رہی تھی ، اصرار کیا کہ ہمیں سامنے نظر آنے والی سرسبز نشیبی وادی میں قیام کرنا چاہیے۔ جیافری مجبور ہو کر نشیبی وادی میں اُتر گیا۔ جونہی اس نے پہاڑ کی بلندی کو چھوڑا سلجوقی فوج جو گھات لگائے بیٹھی تھی، اس پر قابض ہوگئی، صلیبی فوج کے پچھلے حصے کی قیادت خود بادشاہ کر رہا تھا۔ اس کو اس واقعہ کی مطلق خبر نہ ہوئی اور اس نے اطمینان سے اپنی پیش قدمی جاری رکھی ۔ جونہی یہ لوگ سلجوقیوں کی زد میں آئے وہ تکبیرکے نعرے بلند کرتے ہوئے ان پر ٹوٹ پڑے اور ہزاروں صلیبیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ فرانس کے تیس نامور اُمراء جو بادشاہ کے محافظ دستہ( باڈی گارڈ) میں شامل تھے، اس معرکہ میں ایک ایک کر کے مارے گئے اور بادشاہ یکہ و تنہا بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر فوج کے اگلے حصے میں پہنچا۔ مؤرخ آرچر’’کارزارِ صلیبیہ‘‘ میں لکھتا ہے:

’’کروسیڈروں کے لیے یہ ایک مہلک صدمہ تھا، فرانس کا پھول دمشق تک پہنچنے اور پکنے سے پہلے ہی مرجھا گیا تھا۔‘‘

 صلیبی لشکر کے محفوظ حصے کو بھی سلجوقی مسلمانوں نے راستے میں جگہ جگہ پریشان کیا لیکن لوئیس تنگ پہاڑی راستوں سے گزرتا ہوا اطالیہ کی بندرگاہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔

 صلیبی لشکر کا انطاکیہ ورود

بندرگاہ اطالیہ سے لوئیس نے سمندر کا سفر اختیار کیا اور مارچ ۱۱۴۸ء میں انطاکیہ پہنچ گیا، یہاں پہنچ کر اس نے فوج کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ تین چوتھائی لشکر راستے میں تباہ ہوگیا تھا اور صرف ایک چوتھائی اس کے ساتھ انطاکیہ پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا۔ انطاکیہ میں اس وقت ریمنڈ حکمران تھا جو ملکہ ایلیز کا چچا تھا۔ ریمنڈ نے بادشاہ اور اس کے لشکر کی ایسی فراخدالی سے خاطر مدارات کی کہ ان کو اپنی گزشتہ مصیبتیں یکسر فراموش ہوگئیں۔ صلیبی لشکر میں یورپ کی حسین ترین عورتیں موجود تھیں۔ ملکہ سمیت  وہ انطاکیہ میں آکرخوب کھل کھیلیں اور صلیبی سورمائوں نے ان کے ساتھ خوب خوب دادِ عیش دی۔ مغربی مؤرخین صلیب بردار عورتوں کی ہوس رانیوں کا بڑے دکھ کے ساتھ اعتراف کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ دوسرے کروسیڈ کی ناکامی کی ایک وجہ ان عورتوں کی بدکاری تھی۔

 تھوڑی ہی مدت کے بعد ریمنڈ اور لوئیس میں بدمزگی پیدا ہوگئی اور لوئیس انطاکیہ سے رخت سفر باندھنے پر مجبور ہو گیا۔

 

(جاری ہے)

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor