طب نبویﷺ سے علاج ۔ 537

طب نبویﷺ سے علاج

(شمارہ 537)

متعدی امراض میں مبتلا شخص کے پاس آنا:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: بیمار جانور کو تندرست جانور کے پاس نہ لایا جائے۔‘‘ (اخرجا)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جذام میں مبتلا مریضوں کو ٹکٹکی باندھ کر نہ دیکھو۔‘‘

امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیقاًروایت نقل کی ہے کہ ’’جذام والے مریض سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہیں۔‘‘ (بخاری)

حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جذام والے شخص کا ہاتھ پکڑا اور اسے پیالہ میں ڈال دیااور فرمایا: اللہ کے نام سے ، اللہ پر بھروسہ اور توکل کرتے ہوئے کھائو۔‘‘

حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے بھی اس طرح کی حدیث مروی ہے۔ نیز ان سے مروی ہے کہ’’ وفد بنی ثقیف میں ایک جذام والا شخص تھا حضورﷺ نے اسے کہلا بھیجا کہ واپس چلے جائو ہم نے آپ کو بیعت کرلیا ہے۔‘‘

آپﷺ کا مذکورہ ارشاد گرامی کہ لایوردمھرض علی المصیح)اس سے مریض آدمی مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کا جانور بیمار پڑ جائے، ایسے جانور کو تندرست جانور کے پاس نہ لایا جائے ،کیونکہ ممکن ہے کہ اگر تندرست جانور تقدیر الہٰی کی وجہ سے بیمار ہوگیا تو اس کے مالک کے دل میں یہ بات کھٹکے گی کہ یہ مرض متعدی تھا اسی سے یہ بیمار ہوا ہے۔ حالانکہ حضورﷺ نے فرمایا:(لاعدوی ولاطیرۃ) یعنی مرض کے متعدی ہونے اور بد شگونی لینے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس بناء پر آپﷺ نے منع فرمایا کہ تندرست جانور کے پاس بیمار جانور نہ جائے۔ باقی رہا مسئلہ جذام میں مبتلا شخص کا تو پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ ’’جذام‘‘ اصل میں مرۃ سوداء سارے بدن میں پھیل جانے سے ہوتا ہے، جس سے اعضاء کا مزاج اور شکل بگڑ جاتی ہے، جب یہ بھاری عرصہ تک رہ جاتی ہے تو اس کے تمام اعضاء سڑگل جاتے ہیں اور پختہ ہونے لگتے ہیں، اسے داء الاسد کہتے ہیں۔

٭…٭…٭

 

٭…٭…٭