Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عجائب قدرت۔ 537

عجائب قدرت

(شمارہ 537)

بغل یعنی خچرالنعم


اُن جانوروں کو کہتے ہیں جن کو چراتے ہیں، یہ حیوان بکثرت ہیں اور فائدہ بھی ان کا بڑا ہوتا ہے۔ فرقہ انسان سے ان کو اُنس ہوتا ہے۔ اس نوع حیوانات میں بدخوئی نہیں ہوتی اور نہ مانند دیگر درندوں کے بھاگتے ہیں ،ان کے دانت  پختہ اورسُم مانند اور جانوروں کے ہتھیار کے طور پر نہیں ہوتے، اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو ایسی صفات کے ساتھ موصوف پیدا کیا تاکہ ان سے منفعت اُٹھانا آسان ہو،چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے:اولم یرواانا خلقنا لھم مماعملت ایدیناانعاما فھم لھامالکون  وذللناھا لھم فمنھارکوبھم ومنھایاکلون حاصل معنی اس آیت کا یہ ہے’’ آیا نہیں دیکھا ان لوگوں نے کہ پیدا کیا ہم نے ان کے واسطے ان اشیاء سے جن کو ہم نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا چار پائے اور ان جانوروں کو تمہارا مطیع کیاپس بعض پر تم سوار ہوتے ہو اور بعض کو کھاتے ہو‘‘ اور نہ مثل جانورانِ سواری کے ان کے سم ہوئے ہیں بلکہ بجائے سم ان کے کُھر ہوتے ہیں اور سر پر ان کے شاخ ہوتی ہے تاکہ جو کام سم سے ہوسکتا ہے یہ اپنی شاخ سے لے لیں،پس شاخ اور سم دونوں ایک جانورمیں نہیں ہوتے مگر گینڈہ کے،اور شاخ سر میں ہوتی ہے کیونکہ اگر اور جگہ ہوتی تو دفعیہ عدو نہ ہا پاتا چنانچہ گاؤ کو شاخ دی پس یہ امر ظاہر ہوا کہ حیوانات کو تین طرح کے ہتھیار عطا فرمائے، شاخ یا سُم یا دندان جب ایک قدرت زائل ہوتی ہے تودوسری اس کے قائم مقام ہوجاتی ہیں اور چونکہ ان کی خوراک گھاس ہے اس واسطے دہن ان کا فراخ بنایا،نیز دندان اور سخت جبڑا عطا فرمایا تاکہ جو کچھ دانہ پوست تخم سخت پیش آئے اس کو چبا جائیں اور چونکہ ان حیوانات کو زیادتی قوت مطلوب ہوئی حق تعالیٰ نے ان کا شکم فراخ بنایا تاکہ غذا کثرت سے سمائے اور ایک تعجب یہ ہے کہ اگر یہ جانور جلدی میں بے چبی ہوئی غذا کھا لیتے ہیں تو بعد فراغت اس کو شکم سے پھر منہ میں کھینچ لاتے ہیں اور پھر خوب چبا کے نگل جاتے ہیں تاکہ حرارت طبعی کو اس کے پکانے میں دقت نہ ہو، اسی کو جگالی کہتے ہیں۔ اونٹ کے دانتوں میں کیسی طاقت ہے کہ رات دن چلتے ہیں مگر گھستے نہیں اور حرارت ایسی ہے کہ خشک گھاس کو خون اور گوشت بناتی ہیں،اہل شتر حیوانات میں عجیب تھا مگر عجب اس کا انسان کی نظر سے گرگیا اور یہ اس وجہ سے ہے کہ بکثرت دیکھنے میں آتے ہیں البتہ جس نے نہ دیکھا اور نہ سنا ہو اس سے کہہ سکتے ہیں کہ اونٹ ایک بڑاجانور اور بہت فرمانبردار ہوتا ہے اور بوجھ اس پر لادتے ہیں اور باوجود اس بوجھ لدنے کے اُٹھتا بیٹھتا ہے اگر ایک چوہا بھی اس کی مہار کھینچے تو جدھر لے جائے اور اونٹ کی پیٹھ پر گھر ایسا بناتے ہیںاور اس پر بہت سے لوگ سوار ہوتے اور کھانے اور پینے کی چیزیں بار کرتے ہیں اس کو کجاوہ کہتے ہیں، اس پر بہت سے لوگ سوار ہو کر اہل صنعت اپنی صناعی میں مصروف رہتے ہیں ۔

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor