Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ابن ابی ذئب رحمہ اللہ (روشن ماضی 540)

حضرت ابن ابی ذئب رحمہ اللہ

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 540)

حضرت ابن سماک رحمۃ اللہ علیہ کسی نہ کسی انداز پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرض ادا کرتے رہتے تھے، جب بھی ان کی خلیفہ ہارون رشید سے ملاقات ہوتی تھی اس کو کوئی نہ کوئی نصیحت کرتے تھے، خلیفہ ہارون رشید بھی ان کی بہت قدر کرتا تھا ان سے اکثر پندو نصائح کی باتیں پوچھتا اور خشیت الہٰی سے رو دیتا تھا۔

 ایک دن حضرت ابن سماک رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ کے پاس تشریف رکھتے تھے، خلیفہ نے اپنے ایک خادم سے پینے کے لئے پانی مانگا، جب خادم پانی لے کر حاضر ہوا اور خلیفہ نے پینا چاہا تو حضرت ابن سماک رحمہ اللہ نے اس کو پانی پینے سے روک دیا اور پوچھا:امیر المومنین! اگر یہ پانی تجھ پر لمبے عرصہ کے لئے بند کر دیا جائے پھر پیاس سے تیر البوں پر دم آجائے تو تو اس ایک پیالہ پانی کی کیا قیمت دے سکتا ہے۔

خلیفہ نے کہا:میں اس کو اپنی سلطنت کا آدھا حصہ دے کر خرید لوں گا۔

حضرت ابن سماک رحمۃ اللہ علیہ نے کہا:اچھا یہ پانی پی لو۔

جب خلیفہ پانی پی چکا تو حضرت ابن سماک رحمۃ اللہ علیہ نے اگلا سوال کیا :ہارون! اگراس پانی کا اخراج تمہارے جسم سے رک جائے تو تمہاری کیا حالت ہوگی، پھر اس کو خارج کر نے پر اپنی سلطنت کا کتنا حصہ خرچ کر سکتے ہو۔

ہارون رشید نے کہا :باقی آدھی سلطنت اس کے اخراج کے لئے دے سکتا ہوں۔

حضرت ابن سماک رحمہ اللہ نے فرمایا:اے امیر المومنین! اچھی طرح سمجھ جس سلطنت کی قیمت ایک گلاس پانی ہو کیا اس کے لئے جھگڑنا چاہئے، پس ایسی کم قیمت چیز کے لئے خود کو ہلکان کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔

سکونِ دل سے سامانِ کشودِکار پیدا کر

 کہ عقدہ خاطرِ گرداب کا آبِ رواں تک ہے

(اقبالؒ)

خلیفہ ہارون رشید شیخ کی ایسی حکیمانہ نصیحت سن کر بہت متاثر ہو ااور رونے لگا۔(تاریخ طبری :ج۱۱)

حضرت ابن ابی ذئب رحمہ اللہ

اُموی وعباسی خلفاء حالانکہ ایک طرح سے مطلق العنان بادشاہ بن گئے تھے لیکن اسلام کا اتنا اثر ضرور تھا کہ وہ کوئی کا م کھلم کھلا خلاف شریعت نہیں کر سکتے تھے، وہ مسلمانوں میں اپنی ساکھ کی بھی فکر رکھتے تھے۔ اس لئے اکثر علماء فقہاء اور عوام سے اپنی بابت پوچھتے رہتے تھے کہ ان کی نظر میں وہ کیسے ہیں، جو حکمران اپنا جائزہ لیتے رہے اور لوگوں کی تنقید کے مطابق خود کو درست کرتے رہے وہ کامیابی سے حکمرانی بھی کرتے رہے۔

 صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم

رکھتی ہے جو ہرزماں اپنے عمل کا حساب!

( اقبالؒ)

ایک مرتبہ خلیفہ ابو جعفر منصور نے جب یہ سنا کہ کچھ علماء اور محدثین اس سے اختلاف رکھتے ہیں، تو اس نے ابن سمعان اور ابن ابی ذئب وغیرہ کو دربار میں بلوایا ۔

خلیفہ نے ابن سمعان سے پوچھا:تم بتائو میں کیسا ہوں؟

انہوں نے جواب دیا: امیر المومنین!آپ سب سے بہتر ہیں، حج کرتے ہیں، جہاد کرتے ہیں، مظلوموں کے مدد گار، اسلام کے پشت پناہ اور انصاف پسند ہیں… پھر خلیفہ نے ابن ابی ذئب رحمہ اللہ سے سوال کیا: ابو حارث! بتائو تمہاری نظر میں میں کیسا ہوں؟

ابن ابی ذئب رحمہ اللہ نے نہایت بیباکی سے فرمایا:

’’تم بدترین مخلوق ہو۔

واللّٰہ!لا اعلمک الاظالماجابرا

 خدا کی قسم! میں تمہارے ظالم جابر ہونے کے سوا کچھ نہیں جانتا۔ تم مسلمانوں کی دولت اپنی شان و شوکت پر صرف کرتے ہو، تم نے غریبوں کو ہلاک اور امیر وں کو پریشان کرڈالا ہے، بتائو تم کل اللہ کے سامنے کیا جواب دوگے؟

منصور نے تلوار دکھا کر غصہ سے کہا:جانتے ہو یہ کیا چیز ہے؟

فرمایا:ہاں میں جانتا ہوں یہ ننگی تلوار ہے، لیکن اللہ کی قسم آج کی موت کل سے بہتر ہے۔(تذکرہ محدثین: جلد اول، تبع تابعین: جلد دوم)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor