Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ۔ ۳۲ (تابندہ ستارے۔540

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ (۳۲)

تابندہ ستارے ۔ ابو حفصہ (شمارہ 540)

نورالدین کو ان رنجدہ واقعات کا علم ہوا تو اس نے عیسائیوں کی سرکوبی کا ارادہ کرلیا اور والی دمشق سے اس کام میں مدددینے کے لیے ایک ہزار سوار طلب کیے۔ مجیر الدین ایک نااہل آدمی تھا اور قومی حمیت سے بالکل عاری تھا، اس نے عیسائیوں سے ساز باز کرلی اور نورالدین کے پیغام کو پائے استحقار سے ٹھکرادیا۔ سلطان کو مجیر الدین کے بیہودہ رویہ کی اطلاع ملی تو اس نے اپنی فوج کے دو حصے کیے۔ ایک حصے کو اسد الدین شیرکوہ کی سرکردگی میں عیسائی مفسدین کی سرکوبی کے لیے حران کی طرف روانہ کیا اور دوسرے حصے کو اپنے ساتھ لے کر دمشق کا قصد کیا۔ راستہ میں دودن مرج بیوس میں قیام کیا اور پھر بعلبک میں جاپڑائو ڈالا۔ بعلبک کے لوگ خشک سالی کی وجہ سے سخت پریشان تھے۔ خدا کی قدرت جس دن سلطان بعلبک میں داخل ہوا اسی دن موسلا دھار بارش ہوئی۔اہل بعلبک نے سلطان کے درود کو رحمتِ خداوندی تصور کیا اور اس کے حق میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگیں۔ سلطان نے بعلبک میں ایک دن قیام کیا اور پھر وہاں سے کوچ کر کے ۲۶ ذی الحجہ۵۴۴/۱۱۴۹ء کو دمشق کے قریب’’ جسر محشب‘‘میں جا کر مقیم ہوگیا۔ والی دمشق کو نورالدین کی آمد کی خبر ملی تو اس نے ایک گستاخانہ خط سلطان کو روانہ کیا جس میں لکھا کہ ’’بہتر یہی ہے کہ تم یہاں سے واپس چلے جائو ورنہ ہماری تلواریں اور نیزے تمہارا استقبال کریں گے اور تم کو شکست اور نامرادی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔‘‘

سلطان کو یہ خط پڑھ کر سخت غصہ آیا لیکن اس نے بڑے تحمل سے کام لیا اور مجیر الدین کو لکھا کہ تم خود یہاں آئو یا اپنے کسی معتمد امیر کو میرے پاس بھیج دو تاکہ باہم گفت و شنید سے ہم کسی فیصلے پر پہنچ جائیں اور ناحق مسلمانوں کی خونریزی نہ ہو۔

مجیرالدین نے سلطان کے پیغام کو اس کی کمزوری پر محمول کیا اور بدستور اپنے نا معقول رویہ پراَڑا رہا۔ اس پر نورالدین نے دمشق کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ایسا سخت دباؤ ڈالا کہ مجیر الدین کی ساری شیخی کر کری ہوگئی اور اس نے بڑی لجاجت سے صلح کی درخواست کی۔ سلطان نے مصلحتاً اس کی درخواست قبول کرلی کیونکہ وہ مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ نہیں رنگنا چاہتا تھا۔ یکم محرم الحرام ۵۴۵ھ کو معاہدئہ صلح تحریر ہوا جس کے مطابق مجیر الدین نے تسلیم کیا کہ جامع دمشق میں خلیفہ ٔ بغداد اور سلطان سلجوقی کے نام کے بعد خطبوں میں سلطان نور الدین محمود کا نام بھی پڑھا جائے گا۔ علاوہ ازیں تمام فوجی افسروں کا تقرر نورالدین کی منظوری سے ہوا کرے گا اور اسی کے نام کا سکہ دمشق میں رائج کیا جائے گا البتہ مالی انتظامات مجیر الدین کے پاس رہیں گے۔ اس معاہدہ کے بعد سلطان نورالدین حلب واپس آگیا۔ دوسری طرف اسد الدین شیر کوہ نے مضافات حران میں عیسائی مفسدہ پردازوں پر کاری ضربیں لگا کر ان کی شرانگیزیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیا۔ اس مہم سے فارغ ہو کر وہ نورالدین کی خدمت میں حاضر ہوا تو سلطان نے فرط مسرت سے اس کی پیشانی چوم لی۔

جنگِ افامیہ

۵۴۵ھ/۱۱۵۰ء میں سلطان افامیہ کے قلعے کی طرف متوجہ ہوا۔ افامیہ انطاکیہ سے پچاس میل دور جنوب مشرق میں عیسائیوں کا ایک مضبوط گڑھ تھا۔ عیسائی فوجیں یہاں سے اکثر حماۃ اور شیزر کے نواحی علاقوں پر حملے کرتی رہتی تھیں  نورالدین سات ہزار سوار لے کر حلب سے نکلا اور افامیہ پہنچ کر قلعہ کی دوطرفہ ناکہ بندی کرلی۔ مشرقی دروازہ کے سامنے وہ خود چار ہزار فوج کے ساتھ مقیم ہوگیا اور شیر کوہ کو تین ہزار فوج کے ساتھ مغربی دروازہ کے محاصرہ پر مامور کردیا۔ یہ قلعہ ایک بلند پہاڑی پر واقع تھا اور اس کی فصیلیں نہایت مضبوط تھے۔ عیسائیوں نے کچھ دن تو محصوررہ کر مقابلہ کیا پھر ایک دن وہ قلعہ کے جنوبی دروازہ سے نکل کر تنگ پہاڑی دروں سے ہوتے ہوئے نور الدین کے لشکر پر آپڑے۔ سلطان نے نہایت ہوشیاری اور استقلال کے ساتھ ان کے حملے کو روکا اور شیر کوہ کو دوسری طرف سے حملہ کرنے کا حکم بھیجا۔ شیر کوہ نے اپنی فوج کے میمنہ کو قلعہ کے جنوبی دروازے کی طر ف روانہ کردیا اور خود حملہ کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرنے لگا۔ شام تک نور الدین کے جانباز لشکر نے عیسائیوں کو پسپا کردیا جونہی وہ پیچھے ہٹ کر قلعہ میں داخل ہونے لگے۔ شیر کوہ ان پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑا۔ ادھر جنوبی دروازہ پر متعین اس کے میمنہ نے بھی عیسائیوں کو اپنی تلواروں پر رکھ لیا۔ عیسائی ان اچانک حملوں سے حواس باختہ ہوگئے اور اپنے ہتھیار پھینک کرامان امان پکارنے لگے۔ مسلمانوں نے ان کو گرفتار کر کے پیچھے بھیج دیااور قلعہ کا محاصرہ بدستور جاری رکھا۔ اس لڑائی میں اڑھائی ہزار عیسائی مارے گئے اور تقریبا ً اسی قدر تعداد مسلمانوں کے ہاتھ اسیر ہوگئی۔ مسلمانوں میں سے بیس آدمی شہید اور پندرہ زخمی ہوئے۔ افامیہ کے بقیہ محصور عیسائیوں نے شام کے عیسائیوں کو درپردہ پیغام بھیج کر مدد مانگ بھیجی اور وقت گزارنے کے لیے نورالدین سے گفتگوئے مصالحت کی طرح ڈالنی چاہی۔ سلطان ان کے ارادوں کو بھانپ گیا اور گفت و شنید سے انکار کر کے محصورین کو کہلا بھیجا کہ میں تم کو صرف ایک رات کی مہلت دیتا ہوں اس عرصہ میں تم قلعہ سے نکل جائویا اس کے دروازے کھول دو،ورنہ کل ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔ عیسائی رات بھر مقابلے کی تیاری کرتے رہے اور صبح کو نورالدین کے حملوں کا مستعدی سے جواب دینے لگے لیکن مسلمانوں نے قلعہ پر تین اطراف سے ایسے تندو تیز حملے کیے کہ دوپہر تک عیسائیوں کی ہمت جواب دے گئی اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ نورالدین اپنے لشکر کے ساتھ مظفرو منصور قلعہ کے اندر داخل ہوا اور خود اپنے ہاتھ سے قلعہ کے سب سے بلند برج پر اپنا جھنڈا نصب کردیا۔

(جاری ہے)

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor