Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

افادات اکابر۔ 481

 افادات اکابر

(شمارہ 481)

بعثت نبویﷺبارانِ رحمت کی مثل ہے

انسانیت کے لئے ہدایتِ خداوندی بھی ایسے ہی ایک بنیادی ضرورت ہے، جیسے زمین اور کھیتی و باغات بلکہ انسانوں اور حیوانوں کے لئے بارش کا پانی، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں پر زندگی کا انحصار بارانی پانی پر ہو۔ بارش سے ان سب چیزوں کو زندگی ملتی ہے،نشوونماہوتی ہے۔زمین سبزہ زار اور اشجار پھولوں اور پھلوں سے لد جاتے ہیں اور خشک سالی میں ہر جگہ اداسی اور مردہ پن چھاجاتا ہے اور خاک اُڑنے لگتی ہے۔

 آنحضرتﷺ جس ہدایت ورحمت کی بارش لے کر آئے اس سے مردہ انسانیت حیات جاودانی پاتی ہے۔ اخلاق و اعمال کے سبزوں سے زمین لہلہا اٹھتی ہے۔ چمنستان انسانیت میں بہاریں آتی ہیں۔ گلہائے رنگارنگ اور ثمرہائے گوناگوں سے انسانیت اپنے دامن کو بھر لیتی ہے جیسے بارش کے آثار سب پر عیاں ہوتے ہیں اس رحمت خداوندی کے آثار کابھی پورا عالم مشاہدہ کرتا ہے۔ عہد رسالت اور خلافت راشدہ کے دور میں اس رحمت خداوندی سے کیسے کیسے انقلاب آئے؟ حالی مرحوم نے خوب کیا ہے:   ؎  جو خود نہ تھے راہ پر عالم کے ہادی بن گئے

 بتگر تھے بت شکن بن گئے، قتل و غارت کے عادی تھے محافظ و خادم بن گئے، ان کی شتربانی جہانبانی سے بدل گئی، ان کا ظلم و ستم عدل و انصاف سے، لوٹ کھسوٹ جودوسخااور جہاں پر وری سے بدل گئی۔  ارشاد خداوندی ہے:انظر الی اثاررحمۃ اللّٰہ کیف یحی الارض بعد موتھا   بارش کے اثرات بحروبر، دشت و کوہ ہر جگہ پہنچتے ہیں۔ حضورپاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری دعوت و ہدایت بھی ہر جگہ پہنچے گی، زمین کی پشت پر کوئی کچا اور پکاگھر نہیں رہے گا مگر اللہ تعالیٰ اس میں اسلام کے کلمہ کو داخل فرمائیں گے، عزیز شخص کو عزت دے کر اور ذلیل شخص کو ذلت دے کر۔(ازعصر حاضر کے لئے مشعل ہدایت:ص۳۱)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor