Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

افادات اکابر۔ 591

 افادات اکابر

(شمارہ 591)

منصبِ نبوت ورسالت

نبوت ایک عطیہ ربانی ہے جس کی حقیقت تک رسائی غیر نبی کو نہیں ہو سکتی، اس کی حقیقت کو یا تو حق تعالیٰ جانتا ہے جو نبوت عطا کرنے والا ہے یا پھر وہ ہستی جو اس عطیہ سے سرفراز ہوئی۔

مخلوق بس اتنا جانتی ہے کہ اس اعلیٰ وافع منصب کے لئے جس شخص کا انتخاب کیا گیا ہے وہ:

۱)معصوم ہے، یعنی نفس کی ناپسندیدہ خواہشات سے پاک صاف پیدا کیا گیا ہے اورشیطان کی دسترس سے بالا تر، عصمت کے یہی معنی ہیں کہ ان سے حق تعالیٰ کی نافرمانی کا صدور ناممکن ہے۔

۲)آسمانی وحی سے ان کا رابطہ قائم رہتا ہے اور وحی الہٰی کے ذریعہ ان کو غیب کی خبریں پہنچتی ہیں،کبھی جبریل امین کے واسطہ سے اور کبھی بلاواسطہ، جس کے مختلف طریقے ہیں۔

 ۳)غیب کی وہ خبریں عظیم فائدہ والی ہوتی ہیں اور عقل کے دائرے سے بالاتر ہوتی ہیں یعنی انبیاء علیہم السلام بذریعہ وحی جو خبریں دیتے ہیں ان کو انسان نہ عقل وفہم کے ذریعہ معلوم کر سکتا ہے نہ مادی آلات و حواس کے ذریعہ ان کاعلم ہو سکتا ہے۔

ان تین صفات کی حامل ہستی کو مخلوق کی ہدایت کے لئے مبعوث و مامور کیا جاتا ہے گویا حق تعالیٰ اس منصب کے لئے ایسی شخصیت کا انتخاب فرماتا ہے جو افراد ِ بشر میں اعلیٰ ترین صفات کی حامل ہوتی ہے۔

(بصائر وعبر:ص۱۶۰)

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor