Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

افادات اکابر۔ 638

 افادات اکابر

(شمارہ 638)

پردہ عورت کا فطری حق ہے

پردہ عورت کافطری حق ہے، عورت گھر میں ہو یا بازار میں، کالج میں ہو یایونیورسٹی میں، دفترمیں ہویا عدالت میں ہو وہ اپنی فطرت کو تبدیل کرنے سے قاصر ہے۔ وہ جہاں ہو گی اس کے ضمیر کی خلش اور فطرت کی آواز اسے پردہ کرنے پر مجبور کرے گی،وہ بے دین قومیں جو عورت کی فطرت سے اندھی اور خالقِ فطرت کے احکام سے نا آشنا ہیں وہ اگر عورت کی پردہ دری کے جرم کاارتکاب کریں تو جائے تعجب نہیں مگر ایک مسلمان جس کے سامنے اللہ اور رسول ﷺکے احکام اور اس کے اکابر کا شاندار ماضی موجود ہو، اس کا اپنی بہوو بیٹیوں کو پردے سے باہر لے آنا مردہ ضمیری کا قبیح ترین مظاہرہ ہے،عورت کی ساخت و پرداخت، اس کی عادات واطور اور اس کی گفتار و رفتار پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ وہ عورت( مستور) ہے اسے ستر( پردہ) سے باہرلانا اس پر بدترین ظلم ہے۔

 ستم طریفی کی حد ہے کہ وہ عورت جو عصمت و تقدس کا نشان تھی اور جس کی عفت و نزاہت سے چاند شرماتا تھا اسے پردہ سے باہرلاکر اس سے ناپاک نظروں کی تسکین اور نجس قلوب کی تفریح کا کام لیا گیا، جدید تہذیب میں عورت زینتِ خانہ نہیںشمع محفل ہے، اس کی محبت و خلوص کی ہرادا اپنے شوہر اور بال بچوں کے لئے وقف نہیں بلکہ اس کی رعنائی وزیبائی وقف تماشائے عالم ہے، وہ تقدس کا نشان نہیں کہ اس کے احترام میں غیر محرم نظریں فوراً نیچے جھک جائیں بلکہ وہ بازاروں کی رونق ہے، آج دو پیسے کی چیز بھی عورت کی تصویر کے بغیر فروخت نہیں ہوتی، اس سے زیادہ نسوانیت کی ہتک اور کیا ہو سکتی ہے ،کیا اسلام نے عورت کو یہی مقام بخشا تھا؟

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor