Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

معارف جہاد ۔ 645

معارف جہاد

مولانا محمد مسعود ازہر (شمارہ 645)

مجاہدین کے لئے نیا نظام قدرت

 اللہ تعالی غزوہ بدر کو بطور مثال پیش فرماتا ہے کہ مسلمان جب بھی اسلام کے غلبے اور کفر کی سرکشی  توڑنے کے لئے اللہ تعالی کے بھروسے پر جہاد  میں نکلتے ہیں تو اللہ توالی ان کے لئے ایک خاص نظام قائم فرما دیتا ہے۔عام نظام یہی ہے کہ انسان کی آنکھ ایک کو ایک اور دو کو دو دیکھتی ہے مگر جہاد میں خصوصی نظام ا ٓگیا اب آنکھیں ایک ہزار کو ستر ہزار اور تین سو کو دو ہزار دیکھ رہی ہیں۔ فرشتوں کا کام ہے تسبیح و تقدیس اور تکوینی امور کی انجام دہی مگر جہاد میں فرشتے پگڑیاں باندھ کر  جنگ کر رہے ہیں ۔ عام نظام یہی ہے کہ خوف کے وقت نیند نہیں آتی نگر جہاد میں سخت جنگ کے دوران  مجاہدین نیند میں جھوم رہے ہیں اور ان کے دماغ تازہ ہورہے ہیں۔الغرض ہر چیز کو اللہ تعالی اپنے مجاہد بندوں کے کام میں لگا دیتا ہے اور زمین سے آسمان تک ایک نیا نظام قائم کردیا جاتا ہے۔چنانچہ صحابہ کرام نے اپنے گھوڑے دریا ئوںمیں ڈال دئے تو ان کے سم تک نہ بھیگے۔اے مسلمان! اب تو جہاد کو سمجھ لے اب تو جہاد پر آجا۔(فتح الجواد جلد۲:ص۲۱۸)

 فخر اور غرور کا نقصان

اہل جہاد کے لئے فخر و غرور بے حد نقصان دہ چیز ہے۔اللہ تعالی جب انہیں فتح ، قوت ،شان ،عزت اور مال دے  تو ان میں اللہ تعالی کے لئے تواضع اور زیادہ ہوجانی چاہئے۔پس جو مجاہد فخر و غرور میں پڑتا ہے وہ مشرکین کے طریقے پر چلتا ہے ۔ظاہر بات ہے جب مشرکین کا طریقہ جاری ہوگا تو اللہ تعالی کی نصرت اور مدد اٹھ جائے گی۔(فتح الجواد جلد۲:ص۲۳۶)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor