Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

معارف جہاد ۔ 658

معارف جہاد

مولانا محمد مسعود ازہر (شمارہ 658)

منافقین کے خلاف جہاد

رسول اﷲﷺ نے اپنے زمانے کے ’’منافقین‘‘ کے خلاف ’’قتال‘‘ نہیں فرمایا حالانکہ انہوں نے بہت ستایا اور بہت تنگ کیا۔ دراصل اس میں بہت بڑی حکمت تھی۔ اگر مسلمان اپنے علاقے کے منافقین کے ساتھ لڑائی میں مشغول ہوجاتے تو کفار کے خلاف جہاد بند ہوجاتا یا بہت کمزور ہوجاتا اور اسلامی معاشرہ طرح طرح کی تقسیم اور اختلاف کاشکار ہوجاتا۔ چنانچہ آپ ﷺاور آپ کے صحابہ کرام نے اپنی ساری توجہ کفار کے خلاف جہاد پر مرکوز رکھی اور منافقین پرتلوار نہیں چلائی۔ اس حکمت عملی کی برکت سے اسلام تھوڑے ہی عرصے میں مشرق ومغرب تک پھیل گیا۔آج بھی مجاہدین کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ وہ کفار کے خلاف جہاد میں مشغول ہوں اور منافقین کے ساتھ لڑائی میں اپنی توانائیاں ضائع نہ کریں، کافر کمزور ہوں گے تو منافقین خود ختم ہوجائیں گے۔ مگرافسوس کہ آج منافقین کے خلاف جہاد کو زیادہ اہم سمجھا جارہاہے، جس کی وجہ سے امت بہت سے مسائل کا شکار ہے۔(فتح الجواد جلد۳:ص۳۳)

منافق اور آزادی

منافق دنیا میں آزاد ،مست اورخوش رہناچاہتا ہے۔نمازسے آزاد،دینی احکامات سے آزاد،بس ہنسی ہی ہنسی اور عیش ہی عیش ۔۔مگر آخرت میں اس کے لئے سوائے غم اور رونے کے اور کچھ نہیں ہوگا۔پس منافق کی پوری داستان کاخلاصہ یہی ہے کہ چند دن کاتھوڑاساہنسنااور پھرہمیشہ کارونا(العیاذباللہ)۔۔(فتح الجوادجلد۳:ص۵۰)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor