Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

معارف جہاد ۔ 669

معارف جہاد

مولانا محمد مسعود ازہر (شمارہ 669)

جہادمیں عورتوں کا کردار

مسلمان عورتوں کے تعاون کے بغیر مسلمان مردوں کا جہاد میں نکلنا اور تحریک جہاد کا قائم ہونا بہت ہی مشکل ہے حضور اقدسﷺ اور حضرات صحابہ کرام کے زمانے میں جتنا بھی جہاد ہوا اُسمیں مسلمان خواتین کا والہانہ تعاون شامل تھا اور آخری زمانے حضرت امام مہدی رضی اﷲ عنہ کے جہادمیں بھی مسلمان عورتیں بہت تعاون کریں گی۔ مسلمان عورتیں اگر اپنے مردوں کو جہاد میں جانے سے روکیں پیچھے اُن کے گھروں کی دیکھ بھال نہ کریں، جہاد کے لئے اموال کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالیں تو مسلمان کس طرح سے جہاد کر سکتے ہیں ۔ پس جہاد کو دل سے ماننا اور اُسکے قیام کے لئے تعاون کرنا مسلمان عورتوں کی ذمہ داری ہے اور فریضہ جہاد کا انکار کفر ہے خواہ یہ انکارمرد کریں یا عورتیں۔چنانچہ جو عورتیں جہاد کو مانتی ہیں اور اس میں حتی الوسع تعاون کرتی ہیں اُن کے لئے بڑی بشارت ہے کہ اُ ن کے گناہ معاف ہوں گے اور انہیں جنت نصیب ہوگی۔(فتح الجواد جلد۴:ص۶۲/۶۳)

 اخروی کامیابی کابڑاذریعہ

گناہگار لوگوں کو اپنی مغفرت اور کامیابی کے لئے جہاد کا رخ کرنا چاہیے کیونکہ جہاد گناہوں کی معافی اور اخروی کا میابی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔(فتح الجواد جلد۴:ص۸۵)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor