Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

معارف جہاد ۔ 641

معارف جہاد

مولانا محمد مسعود ازہر (شمارہ 641)

کافر کو مارنا، ظلم یا انصاف؟

ہر حکومت اپنے مخالفوں ،دشمنوں اور باغیوں کو مارنا جائز سمجھتی ہے کوئی بھی اسے ظلم قرار نہیں دیتا۔ جن درندوں اور انسانوں سے دوسرے انسانوں کی جانوں کو خطرہ ہو ان کو بھی مار دیا جاتا ہے اور اسے کوئی ظلم قرار نہیں دیتا۔تو وہ کافر جو اللہ کے دشمن ہیں اس کے رسولْﷺ کے دشمن ہیں جو قانون الہی کو نہیں مانتے،جو مسلمانوں کی جانوں اور ایمان کے درپے ہیں، جو زمین کو کفر اور فساد سے بھرنا چاہتے ہیں،جو حق کو مٹا کر باطل کا غلبہ چاہتے ہیں ایسے بد ترین لوگوں کو مارنا، ان کے مارنے کا حکم دینا اور ان کے مقابلے میں فرشتے نازل کرنا بھی ظلم نہیں بالکل عین انصاف اور عین عدل ہے۔(فتح الجواد جلد۲:ص۱۱۸)

 صرف کان سے نہیں دل سے

اللہ تعالی کافروںکے مقابلے میں ایمان والوں کی مدد اس لئے فرماتا ہیکہ ایمان والے اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ کے فرمانبردار ہوتے ہیں۔ پس ایمان والوں کا فرض بنتا ہے کہوہ اپنی اس صفت اور خوبی کو برقرار رکھیں کیونکہ اگر انھوں نے بھی کافروں اور منافقوں کی طرح صرف کان سے دین کی بات سنی اور دل سے اسے قبول نہ کیا تو پھر وہ کفار کے مقابلے میںاللہ تعالی کی مدد کے مستحق کس طرح بن سکتے ہیں۔(فتح الجواد جلد۲:ص۱۳۶/۱۳۷)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor