Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام (عہد زریں۔685)

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام

عہد زریں (شمارہ 685)

بائبل کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر۸۶ برس تھی جب ان کی دوسری بیوی حضرت ہاجرہ علیہ السلام کے بطن سے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پیدا ہوئے، یہ ابراہیم علیہ السلام کے پہلے بیٹے تھے کیونکہ اسحق علیہ السلام نے بعد میں سارہ علیہا السلام کے بطن سے جنم لیا۔ بشری تقاضے سے سارہ کو اپنی لونڈی ہاجرہ کے حاملہ ہونے پر رشک ہوا تو ہاجرہ مجبوراً حبرون سے صور( لبنان کی بندرگاہ)کی طرف چلی گئیں اور وہاں ایک چشمے پر اسمٰعیل علیہ السلام پیدا ہوئے اور انہوں نے فرشتے کی بشارت کے مطابق بیٹے کا نام اسمٰعیل رکھا۔ یہ اسمع‘‘ اور ’’ایل‘‘ سے مرکب نام ہے۔’’ایل‘‘ عبرانی میں’’اللہ‘‘ کے مترادف ہے اور عربی کے’’اسمع‘‘ اور عبرانی کے ’’شماع‘‘ کے معنی ہیں’’سن‘‘۔چونکہ ان کی ولادت کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی دعاء سن لی، اس لیے یہ نام رکھا گیا۔ انگریزی میں اسے اشمائیل لکھتے ہیں۔

 اسمٰعیل علیہ السلام کی پیدائش پر ان کی سوتیلی ماں سارہ دونوں ماں بیٹے کو کسی اور جگہ چھوڑ کر آنے کا تقاضا کرنے لگیں تو حکم الہٰی کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام ان دونوں کو وادی غیر ذی زرع( سرزمین مکہ) میں چھوڑ گئے ،جہاں ننھے اسمٰعیل کے ایڑیاں رگڑنے سے زمزم کا چشمہ جاری ہوا۔ یہ فاران کابیابان تھا۔ وہیں بعد میں قبیلہ بنی جرہم آبسا اور اسمٰعیل علیہ السلام کے بڑے ہونے پر بنو جرہم میں ان کی شادی ہوئی۔مکہ ہی میں اسمٰعیل علیہ السلام کے لڑکپن میں ذبح اسمٰعیل علیہ السلام کا واقعہ پیش آیا جب حکم الہٰی کے مطابق ان کی جگہ دنبہ ذبح کیا گیا ۔ یہ واقعہ منیٰ کے قریب پیش آیا تھا۔ اسی لیے اسمٰعیل علیہ السلام کو ’’ذبیح اللہ‘‘ کہاجاتا ہے۔ پھر حکم الہٰی کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے کعبہ تعمیر کیا۔

٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen Naqsha-685

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor