حضرت اسمٰعیل علیہ السلام (عہد زریں۔688)

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام

عہد زریں (شمارہ 688)

بیت اللہ:

مسلمانوں کے قبلہ کو بیت اللہ یا کعبہ کہتے ہیں جو مکہ مکرمہ میں واقع ہیں۔ مروہ پہاڑ کعبہ کے شمال میں ہے جبکہ صفا کعبہ کے جنوب میں ہے، صفا اور مروہ کے درمیان المسعی یعنی سعی کا راستہ ہے جو قدرے جنوب مشرق سے شمال کو چلا گیا ہے، ہلکے نیلے رنگ کے سخت پتھر سے بنے ہوئے بیت اللہ کو کعبہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی شکل مکعب ہے۔ بظاہر اس کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی برابر ہیں مگر غورسے دیکھیں تو ایسا نہیں۔ بیت اللہ زمین سے پندرہ میٹر ( ۴۹فٹ ۳ انچ) بلند ہے۔ حطیم کی جانب اور اس کے مقاب کی دیواریں ۳۵ ،۳۵ فٹ لمبی ہیں جبکہ دروازے والی اور اس کے مقابل کی غربی دیوار چالیس چالیس فٹ کی ہیں۔

دروازہ فرش مطاف سے چھ فٹ بلند ہے۔ خود دروازے کی بلندی ساڑھے چھ فٹ ہے اور اس کے بائیں ہاتھ زمین سے قریباً یا پانچ فٹ بلندی پر حجراسود ہے( ’’حرم کعبہ‘‘ ازپروفیسر عبدالرحمن عبد)

کعبے کا دروازہ مشرقی جانب ہے۔ اس کے مشرقی گوشے میں حجرا سود ہے اور جنوبی گوشہ رکن یمانی کہلاتا ہے۔

بیت اللہ کے اردگرد مسجد حرام واقع ہے جس میں کئی دروازے ہیں، مثلاً باب فتح( مسعی کی جانب ) باب عمرہ ( مغرب میں)باب عبدالعزیز( جنوب میں) باب الصفا( جنوب مشرق میں) باب الفتح( شمال مغرب میں) اور باب السلام ( مشرق میں) باب کعبہ کے دائیں ہاتھ مقام ابراہیم ہے جو شیشے کے خول میں بند اورقابل دید ہے۔ کعبے کے مشرق میں تھوڑے فاصلے پر چاہ زمزم ہے۔

٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen Naqsha-688