Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اسکندریہ کی فتح (عہد زریں۔478)

اسکندریہ کی فتح

عہد زریں (شمارہ 478)

فسطاط کی فتح کے بعدحضرت عمروؓ نے چند روز تک یہاں قیام کیا اور یہیں سے حضرت عمرؓ کو خط لکھا کہ

’’ فسطاط فتح ہوچکا، اجازت ہو تو اسکندریہ پر فوجیں بڑھائی جائیں۔‘‘

وہاں سے منظوری آئی توحضرت عمروؓ نے کوچ کا حکم دیا۔ اتفاق سے حضرت عمروؓ کے خیمہ میں ایک کبوتر نے گھونسلہ بنالیا تھا۔خیمہ اکھاڑا جانے لگا توحضرت عمروؓ کی نگاہ پڑی حکم دیا کہ اس کو یہیں رہنے دو کہ ہمارے مہمان کوتکلیف نہ ہونے پائے۔ چونکہ عربی میں خیمہ کو فسطاط کہتے ہیں اورحضرت عمروؓ نے اسکندریہ سے واپس آکر اسی خیمہ کے قریب شہر بسایا اس لیے خود شہر بھی فسطاط کے نام سے مشہور ہوگیا اور آج تک یہی نام لیا جاتاہے، بہرحال ۲۱ھ میںحضرت عمروؓ نے اسکندریہ کا رخ کیا ۔ اسکندریہ اور فسطاط کے درمیان میں رومیوں کی جو آبادیاں تھیں، انہوں نے سدراہ ہونا چاہا، چنانچہ ایک جماعت عظیم سے جس میں ہزاروں قبطی بھی شامل تھے فسطاط کی طرف بڑھے کہ مسلمانوں کووہیں روک لیں، مقام کربون میں دونوں حریفوں کاسامنا ہوا۔ مسلمانوں نے نہایت طیش میں آکرجنگ کی اور بے شمار عیسائی مارے گئے۔پھر کسی نے روک ٹوک کی جرأت نہ کی اور حضرت عمروؓ نے اسکندریہ پہنچ کردم لیا۔ مقوقس جزیہ دے کر صلح کرنا چاہتا تھا لیکن رومیوں کے ڈر سے نہیں کرسکتا تھا، تاہم یہ درخواست کی کہ ایک مدت معین کے لیے صلح ہوجائے۔ حضرت عمروؓ نے انکار کیا۔ مقوقس نے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لیے شہر کے تمام آدمیوں کو حکم دیا کہ ہتھیار لگا کر شہر پناہ کی فصیل پر مسلمانوں کے آمنے سامنے صف جما کر کھڑے ہوں، عورتیں بھی اس حکم میں داخل تھیں اوراس غرض سے کہ پہچانی نہ جاسکیں انہوں نے شہرکی طرف منہ کرلیاتھا۔

حضرت عمروؓ نے کہلا بھیجا کہ ہم تمہارا مطلب سمجھے لیکن تم کو معلوم نہیں کہ ہم نے اب تک جو ملک فتح کیے کثرت فوج کے بل پر نہیں کیے۔ تمہارا بادشاہ ہرقل جس سروسامان سے ہمارے مقابلے کو آیا تم کو معلوم ہے اور جونتیجہ ہوا وہ بھی مخفی نہیں۔ مقوقس نے کہا:سچ ہے یہی عرب ہیں جنہوں نے ہمارے بادشاہ کو قسطنطنیہ پہنچا کر چھوڑا۔ اس پر رومی سردار نہایت غضبناک ہوئے مقوقس کو بہت برا بھلا کہا اور لڑائی کی تیاریاں شروع کیں۔

 مقوقس کی مرضی چونکہ جنگ کی نہ تھی اس لیے حضرت عمروؓ سے اقرار لے لیا تھا کہ چونکہ میں رومیوں سے الگ ہوں، اس وجہ سے میری قوم (یعنی قبطی) کو تمہارے ہاتھ سے ضرر نہ پہنچنے پائے۔ قبطیوں نے صرف یہی نہیں کیا کہ اس معرکہ میں دونوں سے الگ رہے بلکہ مسلمانوں کو بہت کچھ مدددی۔فسطاط سے اسکندریہ تک فوج کے آگے آگے پلوں کی مرمت کرتے اور سڑکیں بناتے گئے خود اسکندریہ کے محاصرہ میں بھی رسد وغیرہ کا انتظام انہیں کی بدولت ہوسکا۔ رومی کبھی کبھی قلعہ سے باہر نکل کر لڑتے تھے۔ ایک دن نہایت سخت معرکہ ہوا، تیروخدنگ سے گزر کر تلوار کی نوبت آئی۔ ایک رومی نے صف سے نکل کر کہا کہ جس کا دعویٰ ہو تنہامیرے مقابلے کوآئے۔حضرت مسلمہ بن خالدؓ نے گھوڑا بڑھایا۔ رومی نے ان کو زمین پردے ٹپکا اور جھک کر تلوار مارنا چاہتاتھا کہ ایک سوار نے آکر جان بچائی۔حضرت عمروؓ کو اس پر اس قدرغصہ آیا کہ متانت ایک طرف حضرت مسلمہؓ کے رتبہ کا بھی خیال نہ کرکے کہا کہ زنخوں کو میدان جنگ میں آنے کی کیاضرورت ہے۔حضرت مسلمہؓ کو نہایت ناگوار ہوا لیکن مصلحت کے لحاظ سے کچھ نہ کہا۔

 لڑائی کا زور اسی طرح قائم تھا۔ آخر مسلمانوں نے اس طرح دل توڑ کر حملہ کیا کہ رومیوں کو دباتے ہوئے قلعہ کے اندرگھس گئے۔ دیرتک قلعہ کے صحن میں معرکہ رہا۔ آخر میں رومیوں نے سنبھل کر ایک ساتھ حملہ کیا اور مسلمانوں کو قلعہ سے باہر نکال کردروازے بندکردیئے۔ اتفاق یہ کہ حضرت عمرو بن العاصؓ اور مسلمہؓ اور دوشخص اور اندر رہ گئے۔ رومیوں نے ان لوگوں کو زندہ گرفتار کرنا چاہا لیکن جب ان لوگوں نے مردانہ وار جان دینی چاہی تو انہوں نے کہا کہ دونوں طرف سے ایک ایک آدمی مقابلے کو نکلے، اگر ہمارا آدمی مارا گیا تو ہم تم کو چھوڑ دیں گے کہ قلعہ سے نکل جائو اور تمہارا آدمی مارا جائے تو تم سب ہتھیار ڈال دو۔

 حضرت عمروبن العاصؓ نے نہایت خوشی سے منظور کیا اور خود مقابلے کے لیے نکلنا چاہا۔حضرت مسلمہ نے روکا کہ تم فوج کے سردار ہو ، تم پر آنچ آئی تو انتظام میں خلل ہوگا۔ یہ کہہ کر گھوڑا بڑھایا۔ رومی بھی ہتھیار سنبھال چکا تھا۔ دیر تک وار ہوتے رہے بالآخر مسلمہؓ نے ایک ہاتھ مارا کہ رومی وہیں ڈھیر ہو کر رہ گیا ۔رومیوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان میں کوئی سردار ہے انہوں نے اقرار کے موافق قلعہ کا دروازہ کھول دیا اور سب صحیح سلامت باہر نکل آئے۔حضرت عمروؓ نے حضرت مسلمہؓ سے اپنی گستاخی کی معافی مانگی اور انہوں نے نہایت صاف دلی سے معاف کردیا۔

 ٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen-478

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor