Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عمرۃ القضاء (عہد زریں۔592)

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عمرۃ القضاء

عہد زریں (شمارہ 592)

ذی قعدہ ۷ ہجری میں نبی اکرمﷺعمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے، آپﷺکے ساتھ صلح حدیبیہ میں شریک تمام صحابہ کرام بھی تھے۔ رسول اللہﷺاور آپ کے صحابہ کرام نے ذوالحلیفہ سے احرام باندھا اور قربانی کے جانور بھی ساتھ لے لیے جو بعض کے نزدیک ستر اونٹ تھے، احرام کے بعد آپﷺاور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی تلبیہ پڑھی۔ جب آپﷺمرالظہران کے قریب پہنچے تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو اسلحہ اور اونٹوں کے ساتھ آگے روانہ فرما دیا، مشرکین مکہ میں سے چند لوگوںنے جب اُن کو دیکھا تو شدید رعب میں آگئے۔ وہ یہ سمجھنے لگے کہ رسول اللہﷺنے صلح حدیبیہ کو توڑ دیا اور لڑائی کے لیے تشریف لے آئے ہیں، اُن میں سے کچھ دوڑے اور جاکر رؤسا مکہ کو خبردی کہ محمد(ﷺ) لڑنے آگئے۔

رسول اللہﷺنے مرالظہران میں قیام فرمایاتاکہ حرم کے حالات دیکھ سکیں، آپﷺحدیبیہ میں رکھی گئی شرط کے مطابق نیاموں میں تلواریں لیے حرم روانہ ہوئے اور بقیہ اسلحہ وادی میں رکھوا دیا۔ راستے میں ہی قریش کا پیامبر مکرز بن حفص آملا اور کہنے لگا: اے محمد! ہم آپ کو عہد شکن نہیں سمجھتے تھے۔ آپ ﷺنے فرمایا: کیا ہوا؟ مکرز بن حفص کہنے لگا: آپ اتنے اسلحے کے ساتھ آرہے ہیں۔ آپﷺنے فرمایا: ایسا کچھ نہیں ہے یہ تو فساد کو دفع کرنے کے لیے ہیں۔ تو وہ کہنے لگا:بہت اچھا،آپ سے ایسی بھلائی ہی کی اُمید ہم رکھتے ہیں۔

ادھر رؤسا مکہ گھروں سے نکل آئے وہ آپﷺاور صحابہ کرام کو غیض وغضب اور تحقیری نگاہوں سے گھور رہے تھے اسی طرح ان کی عورتیں اور بچے راستوں میں بیٹھ کر نبی کریمﷺاور آپ کے اصحاب کو دیکھنے لگے۔ آپﷺاور صحابہ کرام تلبیہ پڑھتے ہوئے حرم میں داخل ہوئے اس حالت میں کہ نبی کریمﷺاپنی اونٹنی قصواء پر سوار تھے۔حدیبیہ کے دن بھی آپﷺاسی اونٹنی پر سوار تھے۔اس سے پہلے آپﷺنے قربانی کے جانور ذی طوی مقام پر بھیج دیئے تھے۔

امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اس بارے میں روایت یوں ذکر فرمائی ہے:

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذیقعد کے مہینہ میں عمرہ کا ارادہ کیا تو مکہ والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کیا یہاں تک کہ ان سے اس بات پر فیصلہ ہوا کہ آئندہ سال تین دن قیام کریں گے جب صلح نامہ لکھنے لگے تو اس کے شروع میں لکھا کہ یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر محمد اللہ کے رسول راضی ہوئے۔ مکہ والوں نے کہا: ہم تو اس کا اقرار نہیں کرتے ہیں، اگر ہم جانتے کہ تم اللہ کے رسول ہو تو ہم تم کو نہیں روکتے بلکہ تم تو محمد بن عبداللہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں اور عبداللہ کا بیٹا ہوں۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: رسول اللہ کا لفظ مٹا دو۔ انہوں نے کہا :نہیں اللہ کی قسم میں کبھی نہیں اس کو مٹاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کاغذ اپنے ہاتھ میں لیا اور لکھوایا: ھذا ما قاضی علیہ محمد بن عبداللّٰہ وہ مکہ میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ ان کے ہتھیار نیام میں ہوں گے اور اگر مکہ کا کوئی شخص ان کے ساتھ جانا چاہے تو اس کو ساتھ لے کر نہیں جائیں گے اور اپنے ساتھیوں میں سے کوئی شخص مکہ جانے کے بعد اگر وہاں رہنا چاہے گا تو اسے منع نہیں کریں گے۔ جب دوسرے سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور مدت گزر گئی تو لوگ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا کہ اپنے ساتھی سے کہو کہ آپ ہمارے پاس سے چلے جائیں اس لئے کہ مدت گزر چکی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی چچا چچا کہتی پیچھے ہوگئی حضرت علی نے اسے لے لیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر فاطمہ سے کہا کہ اپنے چچاکی بیٹی کو لے لو۔ انہوں نے اس کو سوار کرلیا تو اس کے متعلق حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جھگڑنے لگے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں اس لڑکی کا مستحق ہوں کہ وہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعویٰ کیا کہ وہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری زوجیت میں ہے (اس لئے میں زیادہ مستحق ہوں) زید نے (اپنے استحقاق کا دعویٰ کیا اور) کہا کہ میرے بھائی کی بیٹی ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خالہ کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا: خالہ بمنزلہ ماں کے ہے اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: میں تجھ سے ہوں اور تو مجھ سے اور جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم صورت سیرت میں مجھ سے زیادہ مشابہ ہو اور زیدرضی اللہ عنہ سے کہا: تو ہمارا بھائی اور مولا ہے۔(بخاری)

 ٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen Naqsha-592

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor