Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت علی رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر (عہد زریں۔594)

 حضرت علی رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر

عہد زریں (شمارہ 594)

سن ۸ ہجری کے اہم واقعات میں پہلا واقعہ روضہ خاخ کا تھا جو گزشہ شمارے میں ذکر کر دیا گیا اوردوسرا واقعہ حضرت اُمّ ہانی رضی اللہ عنہا کا ہے…

۲)…رمضان المبارک سن ۸ ہجری میں فتح مکہ جیسا عظیم الشان واقعہ پیش آیاجس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور دین اسلام کو عزت بخشی، اس کے بعد لوگ فوج درفوج اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اس نصرت مبین کے موقع پر بعض مشرکین جن کو اپنی جان بخشی کی امید کم تھی حضرت اُمّ ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر میں پنا ہ گزین ہوگئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی بہن کے گھر سے ان مشرکین کو نکال کر قتل کرنا چاہتے تھے لیکن حضرت اُمّ ہانی رضی اللہ عنہا آڑے آگئیں اور خود نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا: یارسول اللہ! میں نے دوآدمیوں کو امن دیدیا ہے اب علیؓ ان کو قتل کرنا چاہتے ہیں، تو نبی کریمﷺ نے فرمایا:جس کو تونے امان دے دی ہم بھی اسے امان دیتے ہیں۔

۳)… فتح مکہ کے دن ہی رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمام لوگوں کو امان دیاجاتاہے لیکن چار اشخاص کو کوئی امان نہیں دیا جائے گا نہ حرم میں نہ ہی حرم کے باہر۔ ابن خطل ،مقیس بن صبابہ المخزومی، عبداللہ بن ابی سرح اور حویرث بن نقید۔ ابن خطل کو حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے قتل کردیا۔ عبداللہ بن ابی سرح نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی امان لے لی تو اس کو امان دے دی گئی کیونکہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا رضاعی بھائی تھا۔ مقیس بن صبابہ اپنے چچازاد کے ہاتھوں مردار ہوا اور ابن نقید کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جہنم واصل کیا۔

۴)…چوتھا واقعہامام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ…’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کو بنو جذیمہ کی طرف بھیجا ۔حضرت خالدرضی اللہ عنہ نے انہیں دعوت اسلام دی تو انہوں نے یہ دعوت قبول کرلی مگر اپنی زبان سے انہوں نے اَسْلَمْنَا( ہم مسلمان ہو گئے) کہنے کو اچھا نہ سمجھا تو یوں کہنے لگے صَبَأنَا ،صَبَأنَا(ہم نے اپنا دین چھوڑ دیا) مگر حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں قتل و قید کرنے لگے اور قیدیوں کو ہم میں سے ہر ایک کے حوالے کردیا۔اسی سفر میں ایک دن حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں اپنے اپنے قیدی قتل کر دینے کا حکم دیا تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! نہ میں اپنے قیدی کو اور نہ میرے ساتھی اپنے اپنے قیدیوں کو قتل کریں گے یہاں تک کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آ گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ ذکر کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اُٹھا کر دو مرتبہ فرمایا: اے اللہ! میں خالد کے فعل سے بری ہوں۔

پھر آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو جذیمہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان کے مقتولین کی دیت اور مالی نقصان کی تلافی کرسکیں۔

 ٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen Naqsha-594

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor