Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت نوح علیہ السلام (عہد زریں۔621)

حضرت نوح علیہ السلام

عہد زریں (شمارہ 621)

حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں ۴۳ مقامات پر آیا ہے۔

بلاشبہ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (کہ انہیں کہو): میں تمہیں واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے ڈر ہے کہ تم پر ایک درد ناک عذاب آئے گا۔ اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا: ہم تجھے اپنے جیسا ایک انسان دیکھتے ہیں اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ تیری پیروی کرنے والے بھی ہم میں سے نیچ لوگ ہیں، سادہ عقل والے۔ پھر ہم تم میں اپنے سے بڑھ کر کوئی فضیلت بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) نے کہا: اے میری قوم!مجھے بتائو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل پر ہوا اور اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت عطا کی ہو مگر وہ تمہیں نظر نہ آتی ہو تو کیا ہم اسے زبردستی تمہارے گلے میں ڈال دیں جبکہ تم اسے نا پسند کرتے ہو؟ اور اے میری قوم! میں تم سے اس کام کے عوض کوئی مال نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے۔ اور میں (تمہارے  اعتراضات کی بنا پر) ایمان لانے والوں کو بھگا نہیں سکتا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے (وہ خود ان سے حساب لے گا) بلکہ میں سمجھتا ہوں تم جاہل ہو۔ اور اے میری قوم! اگر میں انہیں بھگادوں تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا؟ کیا تم نہیں سمجھتے؟ میں تمہیں نہیں کہتاکہ میرے قبضے میں اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں۔ میں تمہیں یہ بھی نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں اور جن کو تم حقیر سمجھتے ہو میں ان کے بارے میں نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ انہیں کوئی نعمت عطا نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوںسے خوب واقف ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو میرا شمار ظالموں میں ہوگا۔

وہ کہنے لگے: اے نوح! تو نے ہم سے بحث کرلی اور بہت بحث کرلی، اب تو ہمارے وہ عذاب لے آ جس کی تو ہمیں دھمکیاں دیتا رہتا ہے اگر تو سچا ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا: وہ تو اللہ تعالیٰ ہی لائے گا، اگر اس کی مرضی ہوئی۔ پھر تم اللہ تعالیٰ کو روک نہیں سکو گے۔ میں جس قدر بھی تمہاری خیر خواہی کروں تمہیں فائدہ نہیں ہوگا، اگر اللہ تعالیٰ نے تمہاری گمراہی کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ آخر وہ تمہارا پروردگار ہے اور تمہیں اس کی طرف لوٹایا جائے گا۔

کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (نبیﷺ) نے یہ کلام خود ہی گھڑ لیا ہے؟ کہہ دیجئے: اگر میں نے اسے خود گھڑا ہے تو میرا جرم مجھے ہی بھگتنا ہوگا، اسی طرح میں تمہارے جرائم سے بری ہوں۔

نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لا چکے ہیں ان کے علاوہ کوئی اور شخص ایمان نہ لائے گا لہٰذا تو ان کے طرز عمل پر غمگین نہ ہو۔ بلکہ ہماری نگرانی اور ہدایات کے تحت ایک کشتی تیار کر اور ان ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی سفارش نہ کرنا کیونکہ ان کے غرق کا قطعی فیصلہ ہوچکا ہے۔

نوح (علیہ السلام) کشتی بنانے لگ گئے۔ جب بھی ان کی قوم کے سردار لوگ ان کے پاس سے گزرتے، ان کا مذاق اُڑاتے۔ وہ کہتے: اگر آج تم ہمارا مذاق اُڑاتے ہو تو(وقت آنے پر) ہم بھی اسی طرح تمہارا مذاق اُڑائیں گے۔ عنقریب تم جان لوگے کس کے پاس رُسوا کن عذاب آتا ہے؟ اور کس پر مستقل عذاب ڈیرے ڈالے گا؟

٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen Naqsha-621

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor