Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت نوح علیہ السلام (عہد زریں۔622)

حضرت نوح علیہ السلام

عہد زریں (شمارہ 622)

حتیٰ کہ جب ہمارے فیصلے کا وقت آپہنچا اور تنور ابلنے لگا تو ہم نے کہا: ’’کشتی میں ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا نیز اپنے گھر والوں اور تمام ایمان لانے والوں کو بھی سوار کر لو،سوائے اُن کے جن کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ ان پر بہت کم  لوگ ایمان لائے تھے۔ نوح (علیہ السلام) نے کہا:’’کشتی میں سوار ہوجاؤ۔ یہ اللہ کے نام سے چلے گی اور اُسی کے نام سے رُکے گی۔ بلاشبہ میرا رب کریم اور بہت زیادہ معاف فرمانے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ کشتی ان کو پہاڑوں جیسی موجوں میں لے کر چل رہی تھی۔نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو، جوکنارے پر تھا، بلند آواز سے  پکارا:’’اے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ اور کافروں میں شامل نہ ہو۔‘‘ اس نے کہا:’’میں کسی پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا جو مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ ’’نوح علیہ السلام نے فرمایا: ’’آج اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں، بس وہی بچے گا، جس پر اللہ تعالیٰ خود رحم فرمائے۔‘‘ اتنے  میں ایک موج ان کے درمیان آگئی اور وہ پلک جھپکتے غرق ہوگیا۔

حکم دے دیا گیا: اے زمین! اپنا سارا پانی نگل لے اور اے آسمان برسنے سے رُک جا، اس طرح پانی سُکھا دیا گیا، کام پورا ہوچکا تھا۔کشتی جودی پہاڑ پرجا ٹھری اور اعلان ہوگیا کہ ظالم قوم تباہ وبرباد ہوگئی ہے۔

نوح علیہ السلانے اپنے رب کو پکارا!:’’رب کریم! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں شامل تھا(پھر غرق کیوں ہوگیا؟)بلاشبہ تیرا وعدہ سچا ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ توں سب سے بڑا حاکم ہے۔(جوچاہے فیصلہ کرسکتاہے۔)‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اے نوح! وہ تیرے گھرانے میں شامل نہ تھا کیونکہ اس کے کام اچھے نہ تھے، لہٰذا جو تجھے معلوم نہیں اس کا سوال نہ کر۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں جیسا کام نہ کرنا۔‘‘

نوح علیہ السلام نے عرض کی:’’اے میرے پروردگار! میں تجھ سے (اس بات کی معافی مانگتا ہوں اور آئندہ کے لیے بھی) پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تُو مجھے معاف کرکے مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں خالص خسارے میں رہوں گا۔‘‘

حکم ہوا:’’اے نوح! میری طرف سے سلامتی اور برکت (کی خوشخبری)کے ساتھ اُترو جو تمہیں اور تمہارے ساتھ ایمان لانے والے لوگوں کی نسلوں کو حاصل ہوگی،جبکہ دوسرے لوگوں کو ہم کچھ دیر کے لیے دُنیا سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب جھیلنا پڑے گا۔‘‘(ہود:۱۱/۲۵…۴۸)

’’ان (مشرکین مکہ) سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی تھی۔انہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا کہا، پاگل بتایا اور اسے دھمکیاں دی گئیں۔اس نے اپنے رب تعالیٰ کو پکارا: ’’مولا! میں بے بس ہوں، میری مدد فرما۔‘‘

پھر ہم نے موسلا دھار برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دروازے کھول دئیے اور زمین میں جگہ جگہ چشمے جاری کردیے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فیصلہ پورا کرنے کے لیے زمین وآسمان کا پانی مل گیا۔ لیکن ہم نے نوح کو تختیوںاور کیلوں سے بنی ہوئی کشتی پر چڑھا دیا جو ہماری نگرانی میں چلتی رہی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بدلہ تھا اس شخص کے لیے جس(کی نبوت) کا انکار کیا گیا تھا۔‘‘

٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen Naqsha-622

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor