Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت نوح علیہ السلام (عہد زریں۔623)

حضرت نوح علیہ السلام

عہد زریں (شمارہ 623)

یقیناً ہم نے اس کشتی(کے تحفظ)کو رہتی دُنیا تک کے لیے نشانی بنادیا،کیا کوئی ہے اس سے نصیحت حاصل کرنے والا؟پھر کیسا رہا میرا عذاب اور میری دھمکیاں؟‘‘ (القمر۵۴/۹…۱۶)

’’بلاشبہ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو تنبیہ کرو، اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے‘‘۔

نوح(علیہ السلام) نے کہا:’’اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمادے گا اور تمہیں مقررہ وقت تک مہلت دے گا۔یقیناً جب اللہ کا مقررہ وقت آجاتا ہے تو ٹلتا نہیں۔کاش! تم یہ حقیقت جان لیتے۔‘‘

نوح علیہ السلام نے کہا: ’’اے رب کریم! میں نے اپنی قوم کو دن رات (دین کی) دعوت دی، مگر یہ لوگ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ جب بھی میں نے ان کو تیری بخشش کی طرف بلایا، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور کپڑے لپیٹ لیے اور اپنی جہالت پر ڈٹے رہے اور بہت بڑا تکبر کیا۔ میں نے انہیں بلند آواز سے پکار کر بھی دیکھ لیا، انہیں اعلانیہ تبلیغ بھی کی اور چپکے چپکے سمجھا کر بھی دیکھ لیا۔ میں نے کہا، اپنے رب کریم سے معافی مانگو، وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر موسلادھار بارش برسائے گا، تمہارے مال و اولاد میں اضافہ کرے گا، تمہارے لیے باغات بنائے گا اور نہریں چلائے گا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تمہیں اللہ کی عظمت کا خوف نہیں، جبکہ اس نے تم کو مختلف حالتوں میں پیدا کیا ہے؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سات آسمان اوپر تلے پیدا کیے ہیں۔ پھر ان میں چاند کی روشنی رکھی اور سورج کو روشن چراغ بنایا۔ پھر اس نے تمہاری نشوونما زمین سے رکھی، پھر وہ تمہیں دوبارہ مٹی میں ملائے گا اور پھر تمہیں دوبارہ مٹی سے نکالے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا تاکہ تم اس کے کھلے راستوں پرچلو پھرو۔‘‘

نوح (علیہ السلام) نے کہا:’’اے میرے پروردگار! انہوں نے میری نافرمانی کی اور ان سرداروں کے پیچھے لگے جن کے مال و اولاد نے ان کے نقصان وخسارے میں اضافہ کیا ہے‘‘۔ اور انہوں نے بہت بڑا مکر کیا اورکہنے لگے: ’’(ساتھیو!)کسی بھی صورت میں اپنے معبودوں خصوصاً ودّ، سُواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہ چھوڑنا۔ اس طرح انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ لہٰذا ان ظالموں کی گمراہی میں اضافہ ہی کرنا۔‘‘

بالآخر وہ اپنے گناہوں کی بنا پر غرق کردیے گئے اور جہنم رسید ہوگئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی مددگار نہ پایا۔

٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen Naqsha-623

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor