Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت نوح علیہ السلام (عہد زریں۔628)

حضرت نوح علیہ السلام

عہد زریں (شمارہ 628)

کرئہ ارض کے دو ردراز کے علاقوں اور جزائر مثلاً جزیرئہ نیوگنی اورجزائر انڈیمان کی اقوام میں رائج داستانوں میں بھی ایک سیلاب عظیم کا ذکر ملتا ہے ۔تحریک مجاہدین ہند کے مولانا محمد جعفرشاہ تھا نیسری جوکالاپانی(انڈیمان) میں قید رہے وہ اپنی داستانِ اسیری میں لکھتے ہیں کہ مقامی باشندوں کی قدیم کہانیوں میں طوفانِ نوح جیسے سیلاب کا ذکرآتا ہے لیکن اس کے بارے میں علماء کا کہنا ہے کہ ان دور دراز علاقوں میں بسنے والی اقوام بھی حضرت نوح اور ان کے ساتھ مومنین کی اولاد میں سے ہیں۔ چنانچہ جب ان کی نسل دور دور تک پھیلی تو ان کے ساتھ ایک طوفان عظیم کا تذکرہ بھی ان علاقوں تک پہنچا، لہٰذا راجح بات یہ ہے کہ طوفان نوح کا عذاب دجلہ و فرات کی وادی ہی میں نازل ہوا تھا۔

سید ابو نصر احمد حسین بھوپھالی’’تاریخ الادب الہندی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ہندومت کی کتابوں میں بھی ایک بہت بڑے سیلاب کا ذکر ہے، اس میں حضرت نوح کو’’مانو‘‘ یعنی ’’ خدا کا بیٹا‘‘یا’’نسل انسانی کا جدّ اعلیٰ‘‘کہا گیا ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ اس سر زمین سے وابستہ تھی جو دجلہ وفرات کے درمیان ( ما بین النہرین یا میسوپوٹیمیا)ہے۔یہ دونوں دریا آرمینیا اور ترکی کے پہاڑوں سے نکلتے ہیں اور جدا جدا بہہ کر زیریں عراق میں ’’القرنہ‘‘ کے پاس آملتے ہیں اور پھر خلیج فارس میں جاکر گرتے ہیں۔ آرمینیا کے پہاڑ شمال مشرقی ترکی اور آرمینیا کی سرحد پر پھیلے ہوئے ہیں اور وہیں اراط کا پہاڑی سلسلہ ہے جس کی ایک چوٹی جودی پر کشتیٔ نوح اُتری تھی۔ آٹھویں صدی عیسوی تک اس جگہ ایک معبد اور ہیکل موجود تھا جسے’’کشتی کا معبد‘‘ کہاجاتا تھا۔( قصص القرآن حصہ اول ازمولانا سیوہاروی)

قوم نوح کے مقامات اور کوہ جودی

کوفہ:قوم نوح دریائے فرات کے مغرب میں جس مقام پر آباد تھی وہ موجودہ کوفہ کے آس پاس کا علاقہ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ۱۷ھ میں یہاں کوفہ کا شہر آباد کیا گیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فتح مدائن کے بعد فرات کے پار ایک فوجی شہر آباد کرنا چاہا اور اس سلسلے میں حضرت عمرؓ کو خط لکھا تو امیر المؤمنین نے لکھ بھیجا کہ’’عربوں کو وہ شہر راس آتے ہیں جہاں ان کے اونٹ اور بھیڑبکریاں چَرسکیں، لہٰذا انہیں دریا (فرات) کے پار آباد کرنے کی بجائے اس طرف اونچی جگہ پر آباد کرو۔‘‘چنانچہ ابن بقیلہ کی نشاندہی پر فرات کے دائیں کنارے موجود کوفہ کی جگہ شہر بسانے کے لیے چنی گئی جسے اس وقت سور ستان کہا جاتا تھا۔ ریت کے گول ٹیلوں (کوفان) کے باعث اس کانام کوفہ رکھا گیا۔ کوفہ کے آس پاس بادشاہ حیرہ نعمان بن منذر کے محلات، حیرہ، نجف، خورنق، سدیر اور غریان آباد تھے( معجم البلدان)

٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen Naqsha-628

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor