Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت نوح علیہ السلام (عہد زریں۔629)

حضرت نوح علیہ السلام

عہد زریں (شمارہ 629)

حضرت علی رضی اللہ کے عہد (۳۵تا۴۰ھ) میںکوفہ اسلامی خلافت کا دارالحکومت رہا۔ کوفہ کی جامع مسجد میں علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں زخمی ہو کر آپؓ نے شہادت پائی اور ایک روایت کے مطابق کوفہ سے دس پندرہ کلومیٹر جنوب میں نجف میں دفن ہوئے جبکہ معجم البلدان میں حمص میں مشہد علی کا ذکر کیا گیا ہے جس میں ایک ستون کے اندر مبینہ طور پر ان کی ایک انگلی رکھی ہوئی ہے، انہیں کسی نے خواب میں دیکھا تھا۔ اسی طرح حلب میں بھی ایک مشہد علی بتایا جاتا ہے۔

 نینویٰ:یہ قدیم شہردریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر موجودہ شہر موصل کے بالمقابل واقع تھا۔ ایک روایت کے مطابق قوم نوح یہاں آباد تھی حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام بھی شہر نینویٰ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ اشوری سلطنت کا قدیم ترین شہر تھا اور اس کا دارالحکومت رہا حتی کہ ۶۱۲ق م میں بابل اور ماد( فارس) کی متحدہ افواج نے اسے تباہ کردیا۔ فرانسیسی ماہرین نے ۱۸۲۰ء میں دریائے دجلہ سے کچھ فاصلے پر اس کے کھنڈردریافت کیے۔ یاقوت حمویِ معجم البلدان میں لکھتے ہیں کہ کوفہ کے مضافات میں بھی ایک قصبہ نینویٰ کہلاتا ہے۔ جودی:قرآن کریم کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کوہ جودی پر اتر ی تھی۔ بائبل میں اسے کوہ ارارات کہا گیا ہے جس کی بلندی۱۶۹۴۶ فٹ(۵۱۶۵ میٹر ہے)۔ کہاجاتا ہے کہ اس برف پوش چوٹی پر نوح علیہ السلام کی کشتی آج بھی موجود ہے۔

 ماہرین کی جدید تحقیق یہ ہے کہ کوہِ ارارات( یاجودی) مشرقی ترکی میں اس مقام پر ہے جہاں ترکی، آرمینیا اور ایران کی سرحدیں ملتی ہیں، ترکی میں کوہ ارارت کو بیوق آغری داغ کہا جاتا ہے۔ معجم البلدان میں لکھا ہے کہ کوہ جودی دریائے دجلہ پر واقعی شہر جزیزہ ابن عمر کے سامنے واقع ہے اور جودی کی چوٹی شام کے شہر’’عین دیوار‘‘ سے صاف نظر آتی ہے۔( دلچسپ بات یہ ہے کہ علامہ اقبال نے شاعری کے جوش میں بانگ درا کی نظم’’ہمالہ‘‘ میں کشتی نوح کے اترنے کا مقام کوہ ہمالیہ میں بتایا…’’نوح نبی کا آکر ٹھہراجہاں سفینہ‘‘ …حالانکہ یہ بے اصل بات ہے)۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی تفہیم القرآن جلد دوم حاشیہ نمبر ۴۷ میں لکھتے ہیں:’’جوروایات کردستان اور آرمینیا میں قدیم ترین زمانے سے نسل درنسل چلی آرہی ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ طوفان کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اسی علاقے میں کسی مقام پر ٹھہری تھی۔ موصل کے شمال میں جزیرئہ ابن معر کے آس پاس، آرمینیا کی سرحد پر کوہ ارارات کے نواح میں نوح علیہ السلام کے مختلف آثار کی نشان دہی اب بھی کی جاتی ہے اور شہر نخچیوان کے باشندوں میں آج تک مشہور ہے کہ اس شہر کی بنیاد حضرت نوح نے ڈالی تھی۔‘‘ یادرہے نخچیوان، آذربائیجان کا علاقہ ہے جو آرمینیا ترکی اور ایران کے درمیان واقع ہے۔

٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen Naqsha-629

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor