Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ہود علیہ السلام (عہد زریں۔635)

حضرت ہود علیہ السلام

عہد زریں (شمارہ 635)

عاد کی تباہی:

اللہ کی باغی قوم عاد تندوتیز منحوس آندھی کے عذاب سے تباہ ہوگئی، یہ عذاب سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل آیا جس نے اس سرکش قوم کو مکمل طور پر ہلاک کرکے رکھ دیا۔ حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے مخلص پیروانِ اسلام عذاب الہٰی سے محفوظ رہے۔ اہل حضر موت کا دعویٰ ہے کہ قوم عاد کی ہلاکت کے بعد حضرت ہود علیہ السلام حضرموت کے شہروں میں ہجرت کر آئے تھے، وہیں ان کی وفات ہوئی اور حضرموت کے مشرقی حصے میںوادی برہوت کے قریب شہر تریم سے تقریباً دو مرحلے پر دفن ہوئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک اثر منقول ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام کی قبر حضر موت میں کثیب احمر(سرخ ٹیلے) پر ہے اور ان کے سرہانے جھائو کا درخت ہے جبکہ اہل فلسطین کا دعویٰ ہے کہ وہ فلسطین میں دفن ہیں، چنانچہ حضرموت اور فلسطین دونوں مقامات پر ہود علیہ السلام کی مبینہ قبروں پر عرس ہوتا ہے۔ قبر ہود سے متعلق حضر موت والی روایت درست اور معقول معلوم ہوتی ہے کیونکہ ان کی قوم کی تباہی اور ہلاکت کے بعد حضرت ہود علیہ السلام نے قریب ہی حضر موت کی آبادیوں میں قیام فرمایا ہوگا۔ (قصص القرآن جلد اول)

عاد ارم:اس سے مراد وہی قدیم قوم ہے جسے عاد اولیٰ کہا جاتا ہے ۔سورئہ فجر آیت ۷ میں اسے عاد ارم اور سورئہ نجم آیت۵۰ میں عاد اولیٰ کا نام دیا گیا ہے، اسے عاد ارم اس لیے کہاجاتا ہے کہ یہ لوگ سامی نسل کی اس شاخ سے تعلق رکھتے تھے جو ارم بن سام بن نوح علیہ السلام سے چلی تھی۔ انہی عادارم کی ایک ضمنی شاخ ثمود ہیں اور دوسرے آرامی ہیں جو ابتداء میں شام کے شمالی علاقوں میں آباد تھے اور جن کی زبان آرامی سامی زبانوں میںبڑا اہم مقام رکھتی ہے۔ سورئہ فجر میں عادارم کا وصف ذات العماد(ستونوں والے) بتایا گیا ہے کیونکہ وہ اونچے اونچے ستونوں پر بلند عمارتیں بناتے تھے۔

٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen Naqsha-635

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor