Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ہود علیہ السلام (عہد زریں۔636)

حضرت ہود علیہ السلام

عہد زریں (شمارہ 636)

سیدحامد عبدالرحمن الکاف اپنے ایک مضمون’’ارض الاحقاف کا سفر اور مشاہدات‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’تریم‘‘کے شہر سے باہر نکلنے پر ہمیں وہ منظر دکھائی دیا جو ہم ایک زمانے سے وادیٔ احقاف کے تصور میں دیکھتے آئے تھے، یعنی اونچے اونچے تہہ بہ تہہ پہاڑوں کے ایک دامن سے لے کر دوسرے دامن تک ریت کے اونچے اونچے اور اونچے نیچے، بالکل سمندری موجوں کی طرح تو دے اور ان کے درمیان تارکول کی سڑک اور کہیں کہیں خود روکھجور کے ’’جھنڈ‘‘ ایک آدھ اونٹ اور کہیں کہیں دوچار کچے مکانات…

وادیٔ احقاف اپنے وسیع ترمعنوں میں وادی برہوت، قبر ہود علیہ السلام (جوربع الخالی میں کم ازکم پچاس ساٹھ کلو میٹر اندرواقع ہے) سے شروع ہو کر مغرب میں وادی عمد، وادی ایمن اور وادی یسر اوروادی عین کے آخر تک پھیلی ہوئی ہے، اس کی لمبائی کا اندازہ کچھ اس طرح لگایا جاسکتا ہے۔

 قبر ہود علیہ السلام سے تریم ۱۰۰ کلو میٹر، تریم سے سیئون ۳۵ کلومیٹر، سیئون سے انتہائے وادیٔ عمد ۱۵۰ کلو میٹر، وادی یسر کے خاتمہ تک مزید ۵۰ کلومیٹر،اس طرح کوئی ۳۳۵ کلومیٹر بنتے ہیں۔ اس سے وہ علاقے خارج ہیں جو قبر ہود علیہ السلام سے شمال مشرق اور مشرق میں واقع ہیں اور وادی برہوت اور مہرہ کے شمالی علاقوں سے شروع ہو کر عمانی سرحد تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ہود علیہ السلام کی دعوت کا مرکز شمالی مہرہ کے ریت کے تو دوں میں دبے ہوئے شہر’’ارم ذات العماد‘‘ اور اس کے قرب و جوار کے علاقے تھے۔

پندر ہ منٹ کی ڈرائیو پر ایک گائوں ہے جسے’’عینیات‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ ’’عینیات‘‘ سے کچھ آگے بڑھے تو داہنے ہاتھ پر ایک اور شہر آیا جہاں اچھی خاصی آبادی ہے۔ اس کے بعد ایک پولیس چوکی ہے جس کو السوم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس سڑک کو سیئون(تریم) السوم نبی اللہ ہود علیہ السلام کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ سڑک ابھی قبر ہود سے پہلے کوئی۲۰کلو میٹر دور تک پہنچی ہے مگر منصوبہ یہ ہے کہ اس کو ربع الخالی میں یمنی علاقے’’ثمود‘‘ تک پہنچایاجائے۔ یہ ثمود وہ ثمور نہیں ہے جو قوم صالح کا علاقہ تھا اور جوجزیرہ عرب کے شمال مغرب میں واضح ہے۔

 وادیٔ برہوت کا ریتلا میدان شمالی مہرہ سے ہوتا ہوا عمان سے جاملتا ہے۔ ریت کے اس وسیع وعریض سمندر میں کہیں قوم عاد کا وہ شہر دبا پڑا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’ اونچے اونچے ستونوں والا ایک ایسا شہر جس جیسا اور ملکوں میں پیدا نہیں کیا گیا۔‘‘( الفجر:۷،۸)

٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen Naqsha-636

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor