Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔645)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 645)

چنانچہ لوگ وہاں سے آگے بڑھے توجب بلقا علاقہ کی سرحد پرپہنچے تو ہرقل کے رومی اور عربی لشکر بلقا کی مشارف نامی بستی میں مسلمانوں کو ملے۔ پھر دشمن قریب آگیا اور مسلمان موتہ نامی بستی میں اکٹھے ہوگئے اور وہاں جنگ ہوئی مسلمانوں نے دشمن سے لڑنے کے لیے اپنے لشکر کوترتیب دی اور مسلمانوں کے لشکر کے میمنہ پر بنو عذرہ کے قطبہ بن قتادہ رضی اللہ عنہ کو اور میسرہ پر عبایہ بن مالک رضی اللہ عنہ انصاری صحابی کو امیر مقرر کیا ۔ پھر دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا اور بڑے زور کی جنگ ہوئی۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ حضورﷺ والے جھنڈے کو لے کر بہادری سے لڑتے رہے، آخردشمن کے نیزوں سے زخمی ہوکر شہید ہوگئے۔ پھر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اس جھنڈے کولے لیااور دشمن سے لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے اور مسلمانوں میں سب سے پہلے آدمی حضرت جعفر ہیں جنہوں نے اپنے گھوڑے کے پائوں کاٹ ڈالے۔

’’طبرانی‘‘ میں اس جیسی حدیث حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ پھر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈے کولے لیا اور جب گھمسان کی لڑائی ہوئی تو وہ اپنے سرخ گھوڑے سے نیچے اترے اور اس کے پائوں کاٹ دیئے اوردشمن سے لڑتے رہے یہاں کہ شہید ہوگئے اور حضرت جعفرپہلے مسلمان ہیں جنہوں نے جنگ میں گھوڑے کے پائوں کاٹے۔

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد فوت ہوچکے تھے اور میں یتیم تھا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھا۔ وہ سواری پراپنے پیچھے بٹھاکر اپنے اس سفر میں مجھے بھی ساتھ لے گئے تھے۔ اللہ کی قسم! ایک رات وہ چل رہے تھے کہ میں نے ان کویہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا:

اے میری اونٹنی!) جب تو مجھے قریب کردے گی اور مقامِ حساء کے بعد چار دن کی مسافت تک تو میرے کجاوے کو اٹھا کر لے جائے گی۔

 تو پھرتونعمتوں میں آرام سے رہنااور تیری مذمت نہ ہو ا کرے گی( کیونکہ میں تو وہاں جا کر دشمنوں سے لڑائی میں شہید ہوجائوں گا، اس لیے سفر میں تجھے لے جانے کی مجھے ضرورت نہ رہے گی) اور خدا کرے کہ میں پیچھے اپنے گھروالوں کے پاس نہ جائوں۔

 اور وہاں سے مسلمان واپس آجائیں گے اور مجھے سرزمینِ شام میں وہاں چھوڑ آئیں گے جہاں میرا آخری قیام ہوگا۔

اور( میرے شہید ہوجانے کے بعد) تجھے میرے وہ رشتہ دار واپس لے جائیں گے جو رحمن کے تو قریب ہوں گے لیکن مجھ سے ان کابھائی چارہ( میرے مرنے کی وجہ سے) ختم ہوچکا ہوگا۔

اور اس وقت مجھے نہ تو خودر و درخت کے پھل کی پروا رہے گی اور نہ پانی سے سیراب ہونے والی کھجوروں کے پھل کی پروارہے گی۔

 حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب ان سے یہ اشعار سنے( جن میں تمنائے شہادت کا اظہار تھا) تو میں روپڑا۔ اس پر انہوں نے مجھے کوڑا مارا اور کہنے لگے:اوکمینے! اللہ اگر مجھے شہادت نصیب فرما د ے تو اس میں تمہارا کیا نقصان ہے؟( میں شہید ہوجائوں گا) تم میرے کجاوہ پربیٹھ کر( مدینہ ) واپس چلے جانا۔

 حضرت عباد بن عبداللہ بن زبیر ؒ فرماتے ہیں کہ میرے رضاعی باپ جو کہ قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے تھے، انہوں نے مجھ سے بیان فرمایا کہ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لے لیا اور پھر جھنڈا لے کر اپنے گھوڑے پر آگے بڑھے۔وہ( دشمن سے لڑنے کے لیے) گھوڑے سے نیچے اترنا چاہتے تھے، لیکن طبیعت میں اس بارے میں کچھ تردد محسوس کیا تو یہ اشعار پڑھ کر اپنی طبیعت کو آمادہ کیا:

اے میرے نفس!تجھے قسم دے کر کہہ رہا ہوں کہ تجھے نیچے اترنا ہوگا خوشی سے اتریاناگواری سے۔

 اگر کافر لوگ جمع ہوگئے ہیں اور وہ لڑنے کے زور میں اونچی آوازیں نکال رہے ہیں تو تو بزدل مت بن۔ کیا ہوا میں دیکھ رہا ہوں کہ تو جنت میں جانے کو پسند نہیں کررہا ہے۔

 اور تجھے اطمینان کی زندگی گزارتے ہوئے بڑا لمبا زمانہ ہوگیا اور تو مشکیزے کے تھوڑے سے پانی کی طرح ہے( کہ نامعلوم کب ختم ہوجائے)

اوریہ اشعار پڑھے:

اے میرے نفس ! اگر تو قتل نہیں ہوگا تو( ایک نہ ایک دن)مرنا تو پڑے گا اور یہ موت کا تقدیر میں لکھا ہوافیصلہ ہے جس میں تجھے داخل کردیا گیا ہے۔

 تو نے جس چیز کی تمنا کی تھی وہ تمہیں دے دی گئی ہے، اگر تو ان دونوں( حضرت زید اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہما) جیسا کام کرے گا تو تو ہدایت پالے گا۔

 پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ گھوڑے سے اتر گئے اور پھر انہیں ان کے ایک چچازاد بھائی نے ہڈی والا گوشت لا کردیااور ان سے کہا کہ اس کے ذریعہ اپنے کمر کو مضبوط کرلو، کیونکہ تمہیں ان دنوں بہت تکلیف اور بھوک برداشت کرنی پڑی ہے، انہوں نے ان کے ہاتھ سے وہ گوشت لے کر ایک دفعہ دانتوں سے توڑ کر کھایا کہ اتنے میں لشکر کے ایک کونے سے لوگوں کے اکٹھے ہو کر ہلہ بولنے کی آوازسنی، تو( اپنے آ پ کو مخاطب کر کے) انہوں نے کہا کہ( یہ لوگ تو جان کی بازی لگارہے ہیں) اور تو دنیا میں لگا ہوا ہے۔ پھر اپنے ہاتھ سے گوشت کا ٹکڑا پھینک دیااور اپنی تلوار لے کر بڑھے اور کافروں سے جنگ شروع کردی، آخرشہید ہوگئے۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor