Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

غزوۂ مُوتہ کا دن (تابندہ ستارے۔646)

غزوۂ مُوتہ کا دن

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 646)

حضرت عباد بن عبداللہ بن زبیرؒ فرماتے ہیں کہ میرے رضاعی باپ نے جو کہ بنومرہ بن عوف کے تھے اس غزوئہ موتہ میں شریک ہوئے تھے، مجھے سے یہ بیان فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں اس وقت حضرت جعفررضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ رہا ہوں جب کہ وہ اپنے سرخ گھوڑے  سے اترے اور پھر اس کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں اور پھر کافروں سے لڑائی شروع کردی یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے اور وہ یہ اشعار پڑھ رہے تھے:

یا حبذ الجنۃ واقترابھا

طیبۃ و بارد شرابھا

 اے لوگو! کیا ہی اچھی چیز ہے جنت اور کیا ہی اچھا ہے اس کا قریب ہونا جنت بہت ہی عمدہ چیزہے اور اس کا پانی خوب ٹھنڈا ہے۔

 والروم روم قددنا عذابھا کافرۃ بعیدۃ انسا بھاعلی اذا لا قیتھا ضرابھا

 رومیوں کے عذاب کاوقت آگیا۔ یہ لوگ کافر ہیں اور ان کا آپس میں کوئی چوڑ نہیں ہے۔ جب میدانِ جنگ میں ان کا سامنا ہوگیا ہے تو اب ان کو تلوار سے مارنا مجھ پر ضروری ہوگیا ہے۔

 جنگِ یمامہ کا دن

 حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت زیدبن خطاب جنگِ یمامہ کے دن مسلمانوں کاجھنڈا اٹھائے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کو (شروع میں) شکست ہوگئی اور ( مسلیمہ کذاب کا قبیلہ) حنیفہ مسلمانوں کی پیادہ فوج پر غالب آگیا۔

 حضرت زید بن خطاب( مسلمانوں سے ) کہنے لگے :اپنی قیام گاہوں کو واپس نہ جائو، کیوں کہ پیاد فوج کوشکست ہوگئی ہے۔ پھر بلند آواز سے زورزور سے کہنے لگے:اے اللہ ! میں آپ کے سامنے اپنے ساتھیوں کے بھاگنے کی معذرت پیش کرتا ہوں اور مسلیمہ اور محکم بن طفیل نے جوفتنہ اٹھارکھا ہے میں اسے بالکل بری ہوں۔ پھر جھنڈے کو مضبوطی سے تھام کر آگے بڑھے اور دشمنوں میں گھس کر تلوار چلانی شروع کردی یہاں تک کہ شہید ہوگئے رحمۃ اللہ علیہ۔ اور جھنڈاگرنے لگا تو اسے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم نے اٹھا لیا۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہمیں خطرہ ہے کہ ہم پر تمہاری طرف سے کافر حملہ کریں گے۔تو انہوں نے کہا کہ اگر میری جانب سے کافر تم پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو میں بہت برا حاملِ قرآن ہوں(یعنی میں کافروں کے تمام حملے روکون گا اور ادھر سے انہیں آگے نہیں آنے دوں گا)۔اور حضرتزید بن خطاب رضی اللہ عنہ ۱۲ھ میں شہید ہوئے۔

 حضربنتِ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ ایک حدیث بیان فرماتی ہیں جس میں یہ مضمون ہے کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں سے یمامہاو ا مسیلمہ کذاب کے مرتدین سے لڑنے کے لیے نکلنے کامطالبہ کیاتو ( اس مطالبہ پر تیار ہونے والے) مسلمانوں کولے کر حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ چلے۔جب مسلمانوں کا مسیلمہ اور بنو حنیفہ سے مقابلہ ہوا تو مسلمانوں کو تین مرتبہ شکست ہوئی۔ اس پر حضرت ثابت اور حضرت ابو حذیفہ کے غلام حضرت سالم نے کہا کہ رسول اللہﷺ کے ساتھ جا کر تو ہم اس طرح جنگ نہیں کیا کرتے تھے اور پھر انہوں نے اپنے لیے ایک گڑھاکھودا اور ان دونوں نیاس میں داخل ہو کرکافروں سے لڑنا شروع کردیا اور شہید ہونے تک لڑتے رہے۔( گڑھے میں اس لیے داخل ہوئے تاکہ میدانِ جنگ سے بھاگ نہ سکیں)

حضرت محمدبن ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جنگِ یمامہ کے دن مسلمانوں کوشکست ہوگئی تو حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم نے لوگ رسول اللہﷺ کے ساتھ جا کر تو ایسے نہیں کیا کرتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے لیے ایک گڑھا کھود کر اس میں کھڑے ہوئے اور اس دن مہاجرین کا جھنڈا ان کے پاس تھا۔ پھر انہوں نے لڑنا شروع کردیا یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ اللہ ان پر رحم فرمائے! ان کی شہادت جنگِ یمامہ کے دن ۱۲ھ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ہوئی۔

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے ابوسعید! آج رات میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان میرے لیے کھولا گیا،میں اسکے اندر داخل ہوگیا پھر وہ آسمان بند کردیاگیا۔ اس کی تعبیر یہ ہے کہ ان شاء اللہ مجھے شہادت نصیب ہوگی۔ میں نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! تم نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے۔

چنانچہ میں نے جنگ یمامہ کے دن دیکھا کہ حضرت عباد بن بشر بلند آواز سے انصار کو کہہ رہے تھے کہ اپنی تلواروں کی میانیں توڑ دو( کیوں کہ اب اتنی زور دار لڑائی کرنی ہے کہ تلواریں ٹوٹ جائیں گی) اور دوسرے لوگوں سے الگ ہوجائو۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor