Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

غزوۂ مُوتہ کا دن (تابندہ ستارے۔647)

غزوۂ مُوتہ کا دن

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 647)

تم ہم انصار کو اوروں سے الگ کردو تم ہم انصار کو اوروں سے الگ کردو( تاکہ دوسرے لوگوں بھی ہماری امتیازی بہادری اور جان دینے کے جذبہ کو دیکھ کر ہمت کریں) چنانچہ انصار کے چار سو آدمی ایک طرف الگ ہو  کر جمع ہوگئے اور ان میں اور کوئی بھی نہیں تھا حضرت عباد بن بشر، حضرت بو دجانہ اور حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ ان چار سو کے آگے آگے چل رہے تھے چنانچہ چلتے چلتے یہ اس باغ کے دروازے تک پہنچ گئے( جس کے اندر مسیلمہ کذاب اپنا لشکر لے کر ٹھہرا ہوا تھا۔) وہاں پہنچ کر ان حضرات نے زبردست جنگ کی اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے۔ چنانچہ میں انکے چہرے سے ان کو نہ پہچان سکا کہ چہرے پر زخم بہت زیادہ تھے البتہ ان کے جسم میں ایک اور نشانی تھی جس سے میں نے ان کو پہنچانا ۔

حضرت جعفر بن عبداللہ بن اسلم ہمدانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے دن مسلمانوں میں سب سے پہلے حضرت ابو عقیل انیفی رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے۔ ان کو تیر کندھوں اور دل کے درمیان لگا تھا جولگ کر ٹیڑھا ہوگیا جس سے شہید نہ ہوئے۔ پھر وہ تیر نکالا گیا اور ان کی بائیں جانب اس تیر کے لگنے کی وجہ سے کمزور ہوگئی تھی۔ یہ شروع دن کی بات ہے، پھر انہیں اٹھا کر ان کے خیمہ میں لایا گیا۔ جب لڑائی گھمسان کی ہونے لگی اور مسلمانوں کو شکست ہوگئی اور وہ پیچھے ہٹتے ہٹتے اپنی قیام گاہوں سے بھی پیچھے گزر گئے۔ اور ابو عقیل اپنے زخم کی وجہ سے کمزور پڑے ہوئے تھے انہوں نے حضرت معن بن عدی رضی اللہ عنہ کی آواز سنی وہ انصارکو بلند آواز سے لڑنے کے لیے ابھاررہے تھے کہ اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ پر بھروسہ کرو، اور اپنے دشمن پر دوبارہ حملہ کرو۔ اور حضرت معن لوگوں کے آگے آگے تیزی سے چل رہے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ انصار کہہ رہے تھے کہ ہم انصار کو دوسروں سے الگ کردو، ہم انصار کو دوسروں سے الگ کردو۔ چنانچہ ایک ایک کر کے انصار ایک طرف جمع ہوگئے( اور مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ جم کر لڑیں گے اور بہادری سے آگے بڑھیں گے اور دشمن پر جا کر حملہ کریں گے اس سے تمام مسلمانوں کے قدم جم جائیں گے اور حوصلے بڑھ جائیں گے)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ پھر حضرت ابو عقیل انصار کے پاس جانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں نے کہا:اے ابو عقیل! آپ کیا چاہتے ہیں؟آپ میں لڑنے کی طاقت تو ہے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منادی نے میرانام لے کر آواز لگائی ہے۔ میں نے کہا: وہ تو کہہ رہا ہے:اے انصار!لڑنے کے لیے واپس آئو۔ وہ زخمیوں کو واپس بلانا نہیں چاہتا ہے( وہ تو ان لوگون کو بلا رہا ہے جو لڑنے کے قابل ہوں)۔ حضرت ابو عقیل نے کہا ( کہ انہوں نے انصار کو بلایا ہے، اور میں چاہے زخمی ہوں لیکن) میں بھی انصار میںسے ہوں اس لیے میں ان کی پکار پر ضرور جائوں گا چاہے مجھے گھٹنوں کے بل جانا پڑے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عقیل نے اپنی کمر باندھی اور اپنے دائیں ہاتھ میں ننگی تلوار لی اور پھر یہ اعلان کرنے لگے کہ اے انصار! جنگ حنین کی طرح دشمن پردوبارہ حملہ کرو۔ چنانچہ حضراتِ انصار جمع ہوگئے اللہ ان پر رحم فرمائے ! اور پھر مسلمانوں سے آگے آگے بڑی بہادری کے ساتھ دشمن کی طرف بڑھے یہاں تک کہ دشمن کو میدان جنگ چھوڑ کر باغ میں گھس جانے پر مجبور کردیا۔

مسلمان اور دشمن ایک دوسرے میں گھس گئے اور ہمارے اور ان کے درمیان تلواریں چلنے لگیں۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوعقیل کو دیکھا کہ ان کا زخمی ہاتھ کندھے سے کٹ کر زمین پر گرا ہوا تھا اور اسکے جسم میں چودہ زخم تھے جن میں ہر زخم جان لیوا تھا اور اللہ کا دشمن مسیلمہ قتل ہوگیا۔ حضرت ابو عقیل زمین پر زخمی پڑے ہوئے تھے اور ان کے آخری سانس تھے۔ میں نے جھک کر ان سے کہا:اے ابو عقیل! انہوں نے کہا: لبیک حاضر ہوں۔ اورلڑکھڑاتی ہوئی زبان سے پوچھا کہ فتح کس کو ہوئی ہے میں نے کہا: آپ کو خوش خبری ہو( کہ مسلمانوں کوفتح ہوئی ہے) اور میں نے بلند آواز سے کہا: اللہ کا دشمن قتل ہوچکا ہے۔ اس پر انہوںنے اللہ کی حمد بیان کرنے کے لیے آسمان کی طرف انگلی اٹھا ئی اور انتقال فرماگئے۔ اللہ ان پر رحم فرمائے۔

حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ مدینہ واپس آنے کے بعد میں نے حضرت عمرؓ کو ان کی ساری کا ر گزاری سنائی تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے! وہ ہمیشہ شہادت مانگا کرتے تھے، اور جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ ہمارے نبی کریمﷺ کے بہترین صحابہ میں سے تھے اور شروع میں اسلام لائے تھے۔

 حضرت انس ر ضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جنگ یمامہ کے دن مسلمانوں کوشکست ہوگئی تو میں نے دیکھا کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ خوشبو لگا کر میدان جنگ میں جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے ۔میں نے ان سے کہا : اے چچا جان! کیا آپ نہیں دیکھ رہے ہیں( کہ یہ کیا ہو رہا ہے، مسلمان شکست کھا کر بھاگ رہے ہیں) انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ جا کر اس طرح جنگ نہیں کیا کرتے تھے ۔ تم لوگوں نے (شکست کھا کھا کر) اپنے مقابل دشمن کوبہت بُری عادت ڈال دی ہے۔ اے اللہ! ان( مرتدین) نے جو فتنہ کھڑا کیا ہے میں اس سے بھی بری ہوں، اور ان( مسلمانوں) نے جو کیا ہے( کہ شکست کھا کر بھاگ رہے ہیں) میں اس سے بھی بری ہوں۔ پھر کافروں سے لڑائی شروع کردی یہاں تک کہ شہید ہوگئے ۔آگے اور حدیث بھی ذکر کی ہے۔(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor