Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔649)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 649)

حاکم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ جب جنگ عقبہ کے دن فارس میں مسلمان شکست کھا کر ایک کونے میں سمٹ آئے تھے تو حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اپنے گھوڑ پرسوار ہوئے اور ایک آدمی اسے پیچھے سے ہانک رہا تھا۔ پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:تم نے اپنے مقابلہ والوں کو بُری عادت ڈال دی ہے( کہ ہر دفعہ ان سے شکست کھالیتے ہو)۔ یہ کہہ کر انہوں نے دشمن پرایسا حملہ کیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوفتح عطا فرمادی اور وہ خود اس دن شہید ہوگئے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بہادری:

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اے لوگو! مجھے بتائو لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟

لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ ؓ ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں جس دشمن کے مقابلہ کے لیے نکلا ہوں اس سے میں نے اپنے حق پورالیا ہے( یعنی ہمیشہ اپنے دشمن کو شکست دی ہے، میں پورا بہادر نہیں ہوں)،لیکن تم مجھے بتائو کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟

لوگوں نے کہا کہ پھر ہم تو نہیں جانتے، آپ ہی بتائیں کہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ چنانچہ جنگ بدر کے موقع پر جب ہم نے رسول اللہﷺ کے لیے چھپر بنایا تو ہم نے کہا کہ کون حضورﷺ کے ساتھ رہے گا کہ کوئی مشرک آپ ﷺ کی طرف نہ آسکے؟

اللہ کی قسم! اس وقت کوئی بھی حضورﷺ کے ساتھ رہنے کی ہمت نہ کر سکا( دشمن کا خوف بہت ہی زیادہ تھا) بس ایک حضرت ابو بکر ہی ایسے تھے جو تلوار سونت کر حضورﷺ کے سرہانے کھڑے تھے۔ جب کوئی بھی حضورﷺ کی طرف آنے کاارادہ کرتا حضرت ابو بکر فوراً لپک کر اس کی طرف جاتے۔ یہ( حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ) ہی تمام لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر ہیں۔

 حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بہادری:

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میرے علم کے مطابق ہر ایک نے ہجرت چھپ کر کی، صرف حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایسے ہیں جنہوں نے علی الاعلان ہجرت کی ۔چنانچہ جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو اپنی تلوار گلے میں لٹکائی اور اپنی کمان کندھے پر ڈالی اور کچھ تیر (ترکش سے ) نکال کر اپنے ہاتھ میں پکڑلیے اور بیت اللہ کے پاس آئے ، وہاں صحن میں قریش کے کچھ سردار بیٹھے ہوئے تھے۔

حضرت عمرؓ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے، پھر مقام ابراہیم کے پاس جاکردورکعت نماز پڑھی، پھر مشرکین کی ایک ایک ٹولی کے پاس آئے اور فرمایا:یہ تمام چہرے بدشکل ہوجائیں۔ جو آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اس سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اس کی اولاد یتیم ہوجائے اور اس کی بیوی بیوہ ہوجائے، وہ مجھ سے اس وادی کی پر لی جانب آکر ملے۔ (پھر آپ وہاں سے چل پڑے) ایک بھی آپؓ کے پیچھے نہ جا سکا۔

 حضرت علی ابن طالب رضی اللہ عنہ کی بہادری:

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ جنگِ احد کے دن حضرت فاطمہ ؓ کے پاس آئے اور یہ شعر پڑھے:

افاطم!ھا ک السیف غیر ذمیم

فلست برعدید ولا بلئیم

اے فاطمہ!یہ تلوار لے لو جس میں کوئی عیب نہیں ہے، اور نہ تو( ڈر کی وجہ سے ) مجھ پر کبھی کپکپی طاری ہوتی ہے اور نہ میں کمینہ ہوں۔

 لعمری لقد ابلیت فی نصر احمد

 ومرضاۃ رب بالعباد علیم

میری عمر کی قسم! حضرت احمدﷺ کی مدد اوراس رب العزت کی خوشنودی کی خاطر میں نے پوری کوشش کی ہے جو بندوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔

حضورﷺ نے فرمایا کہ اگر تم نے عمدہ طریقہ سے جنگ کی ہے تو حضرت سہل بن حنیف اور حضرت ابن الصمہ نے بھی خوب عمدہ طریقے سے جنگ کی ہے۔ اور حضورﷺ نے ایک اور صحابی کا بھی نام لیا جسے معلی راوی بھول گئے۔

 اس پر حضرت جبرئیل(علیہ السلام) نے آکر عرض کیا: اے محمدﷺ! آپ کے والد کی قسم!یہ غم خواری کا موقع ہے، اس پر حضورﷺ نے فرمایا:

اے جبرائیل!یہ علی تو مجھ سے ہیں۔

حضرت جبرائیل نے عرض کیا:میں آپ دونوں کا ہوں۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ احد کے دن حضرت علیؓ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے کہا:یہ تلوار لے لو اس میں کوئی عیب نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا:اگر تم نے اچھی طرح سے جنگ کی ہے تو حضرت سہل بن حنیف اور حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہا نے بھی خوب اچھی طرح جنگ کی ہے۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor