Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔650)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 650)

سیدنا حضرت علیؓ کی بہادری :

حضرت عبیداللہ بن کعب بن مالک انصاریؓ فرماتے ہیں کہ غزوئہ خندق کے دن عمروبن عبدود بہادروں کی نشانی لگا کر جنگ میں اپنے موجود ہونے کو بتانے کے لیے نکلا۔ جب وہ اور اس کے گھوڑے سوار ساتھی کھڑے ہوگئے تو حضرت علیؓ نے اس سے کہا:اے عمرو! تم نے قریش کے لیے اللہ سے عہد کیا تھا کہ جب بھی تمہیں کوئی آدمی دوباتوں کی دعوت دے گا تم ان دومیں سے ایک کو ضرور اختیار کر لوگے۔ اس نے کہا:ہاں ( میں نے یہ عہد کیا تھا) ۔ حضرت علی نے کہا : میں تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی اور اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ عمرو نے کہا:مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر حضرت علی نے فرمایا کہ میں مقابلہ کے لیے میدان میں اترنے کی تم کو دعوت دیتا ہوں۔ عمرو نے کہا: اے میرے بھتیجے!( مجھے) کیوں میدان میں مقابلے کے لیے اترنے کی دعوت دے رہے ہو؟ کیوں کہ) اللہ کی قسم! میں تمہیں قتل کرنا نہیں چاہتا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :لیکن میں تو تمہیں قتل کرنا چاہتا ہوں۔ یہ سن کر عمرو آگ بگولہ ہوگیا اور حضرت علی ؓ کی طرف بڑھا۔ دونوں اپنی سواریوں سے اُترے اور دونوں نے میدان کا کچھ چکر لگایا( پھر لڑائی شروع ہوگئی) آخر حضرت علیؓ نے عمرو کو قتل کردیا۔

 ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ عمرو بن عبدودہتھیاروں سے پوری طرح لیس ہو کر باہر نکلا اور بلند آواز سے پکارا۔ مقابلہ کے لئے کون آیا ہے؟حضرت علی بن ابی طالبؓ نے کھڑے ہو کر کہا:یا نبی اللہ! میں اس کے مقابلے کے لیے جاتا ہوں ۔ آپﷺ نے فرمایا:یہ عمرو ہے ،بیٹھ جائو۔

 پھر عمرو زور سے پکارا:کیا ہے کوئی مرد ہے جومیرے مقابلہ کے لئے میدان میں آئے؟ اور مسلمانوں کو ملامت کرتے ہوئے کہنے لگا:کہاں گئی تمہاری وہ جنت جس کے بارے میں تم لوگ یہ کہتے ہو کہ تم سے جو مارا جاتا ہے وہ اس جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ تم لوگ میرے مقابلہ کے لیے ایک آدمی بھی نہیں بھیج سکتے؟ حضرت علی ؓ نے پھر کھڑے ہو کر کہا:یارسول اللہﷺ ! میں جاتا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا : تم بیٹھ جائو۔ عمرو نے تیسری مرتبہ پھر بلند آواز سے مقابلہ کے لیے آنے کی دعوت دی اور راوی نے اس کے اشعار کابھی تذکرہ کیا۔ پھر حضرت علیؓ نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہﷺ! میں جاتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:یہ عمرو ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا:چاہے عمرو ہو( میں جانے کو تیار ہوں)۔چنانچہ حضورﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ وہ یہ اشعار پڑھتے ہوئے اس کی طرف چلے:

ہرگز جلدی نہ کر،کیوں کہ تیری آواز کا جواب دینے والا آگیا ہے جو عاجز نہیں ہے۔

 یہ آنے والا سوچ سمجھ کر اور پکے ارادے کے ساتھ آیا ہے( یہ بات میں تم سے سچی کہہ رہا ہوں، کیوں کہ) سچ ہی ہر کامیاب ہونے والے کے لیے نجات کا ذریعہ ہے۔

 مجھے پوری امید ہے کہ مردوں پر نوحہ کرنے والیوں کو میں تیر ے اوپر( نوحہ کرنے کے لیے) کھڑا کردوں گا۔

 میں تجھے( تلوار کی) ایسی لمبی چوڑی ضرب لگائوں گا جس کا تذکرہ بڑی بڑی لڑائیوں میں بھی باقی رہے گا۔

 عمرو نے حضرت علیؓ سے پوچھا:تم کون ہو؟انہوں نے کہا: میں علی ہوں۔ عمرو نے کہا کہ کیاتم عبدِمناف( یہ ابو طالب کا نام ہے) کے بیٹے ہو؟انہون نے کہا:(ہاں!) میں علی ابن ابی طالب ہوں۔ عمرو نے کہا :اے میرے بھتیجے! (میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے مقابلے کے لئے) تمہاری جگہ تمہارے چچائوں میں سے کوئی چچا آئے جو عمر میں تم سے بڑا ہو، کیوں کہ مجھے تمہارا خون بہانا پسند نہیں ہے۔ حضرت علیؓ نے کہا:لیکن اللہ کی قسم! میں تمہارے خون بہانے کو برانہیں سمجھتا ہوں۔ وہ غضبناک ہو کر اپنے گھوڑے سے نیچے اُترا اور اپنی تلوار سونت لی، وہ تلوار آگ کے شعلے کی طرح چمک دار تھی۔ پھر وہ غصہ میں بھرا ہوا حضرت علیؓ کی طرف بڑھا ۔ حضرت علیؓ کھال والی ڈھال لے کر اس کے سامنے آئے۔ عمرو نے حضرت علیؓ کی ڈھال پر تلوار کا ایسا زور دار وار کیا کہ تلوار ڈھال کو کاٹ کر ان کے سر تک جا پہنچی جس سے سرزخمی ہوگیا۔ حضرت علیؓ نے اس کے کندھے پر اس زور سے تلوار ماری جس سے وہ زمین پر گر گیا اور ( اس کے گرنے سے بہت سا) غبار اڑا۔ اور حضوراقدسﷺ نے زورسے اللہ اکبر کہنے کی آواز سنی جس سے ہم لوگ سمجھ گئے کہ حضرت علیؓ نے عمرو کو قتل کردیا ہے۔ اس وقت حضرت علیؓ یہ اشعار پڑھ رہے تھے:

 کیا گھوڑے سواریوں اچانک مجھ پر حملہ کردیں گے؟ اے میر ے ساتھیو! تم سب کو مجھ سے اور مجھ پر اچانک حملہ کرنے والوں سے پیچھے ہٹا دو( میں اکیلا ہی ان سے نمٹ لوں گا)۔

میدانِ جنگ میں مجھے جو غصہ آتا ہے اس نے آج مجھے بھاگنے سے روکا ہوا ہے اور اس تلوار نے روکا ہے جسکا وار سرکاٹ کر آتا ہے اور خطا نہیں ہوتا ہے۔

 پھر یہ اشعار پڑھے:

اس نے اپنی احمقانہ رائے سے پتھروں کی عبادت کی اور میں نے اپنی درست رائے سے محمدﷺ کے رب کی عبادت کی۔

 جب میں اس کا کام تما م کرکے واپس آیا تو وہ زمین پر ایسے پڑا ہوا تھا جیسے کھجور کا تنا سخت زمین اور ٹیلوں کے درمیان پڑا ہوا ہو۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor