Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔652)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 652)

رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیبر کے لیے روانہ ہوئے۔ حضورﷺ نے ان کواپنا جھنڈا دے کر بھیجا تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ قلعہ کے قریب پہنچے تو قلعہ والے لڑنے کے لیے قلعہ سے نکل کر باہر آگئے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ شروع کردی ۔ ان یہودیوں میں سے ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تلوار کا زور دار حملہ کیا جس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ڈھال نیچے گر گئی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فوراً قلعہ کا دروازہ اُکھیڑ کر اسے اپنی ڈھال بنا لیا اور دروازے کو ہاتھ میں پکڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح نصیب فرمائی۔ پھر انہوں نے اس دروازے کو زمین پرڈال دیا۔ پھر میں نے سات آدمیوں کو لے کر کوشش کی کہ اس دروازے کو پلٹ دیں، لیکن ہم آٹھ آدمی اسے پلٹ نہ سکے۔

حضرت جابررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غزوئہ خیبر کے دن( قلعہ کا) دروازہ اُٹھا لیا ۔ مسلمان اس کے اوپر چڑھ کر قلعہ کے اندر چلے گئے اور اس طرح اس کو فتح کرلیا۔ بعد میں لوگوں نے تجربہ کیا تو چالیس آدمی اسے نہ اُٹھا سکے۔

 حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں یہ ہے کہ ستر آدمیوں نے اپنا پورا زور لگایا تب دروازے کو واپس اس کی جگہ لا سکے۔

 حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غزوئہ خیبر کے دن( قلعہ کا) دروازہ اُٹھا لیا تھا۔ اسی پر چڑھ کر مسلمانوں نے خیبر کو فتح کیا تھا۔ بعد میں تجربہ کیا گیا تو چالیس آدمی اسے اٹھا سکے۔

 حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی بہادری

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوئہ احد کے دن میں یہ رجزیہ اشعار پڑھ رہا تھا:

ہم قبیلہ غالب اور قبیلہ مالک کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ہم اپنے مبارک رسول کی طرف سے دِفاع کررہے ہیں۔

اور میدانِ جنگ میں ہم دشمنوں کو تلواریں مار مار کر حضورﷺ سے پیچھے ہٹارہے ہیں اور ہم ایسے مار رہے ہیں جیسے کہ اونچے کو ہان والی موٹی اونٹنیوں کو بیٹھنے کی جگہ میں کناروں پر ماراجاتا ہے(یعنی جب انہیں ذبح کر کے گوشت بنایا جاتا ہے)

حضورﷺ نے غزوئہ اُحد سے واپس ہوتے ہی حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم طلحہ کی تعریف میں کچھ اشعار کہو۔ چنانچہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے:

اور گھاٹی کے دن طلحہ نے تنگی اور مشکل کی گھڑی میں حضرت محمدﷺ کی پوری طرح غمخواری کی اور ان پر جاں نثاری کی۔

 اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعہ وہ حضورﷺ کو نیزوں سے بچاتے رہے اور( حضورﷺ کو بچانے کے لیے) انہوں نے اپنے ہاتھوں کے پورے تلواروں کے نیچے کردیئے جس سے وہ پورے شل ہوگئے۔

 حضرت محمدﷺ کے علاوہ باقی تمام لوگوں سے آگے تھے اور انہوں نے اسلام کی چکی کو ایسا کھڑا کیا کہ وہ مستقل چلنے لگی۔

 اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے( حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی تعریف میں) یہ اشعار کہے:

طلحہ نے ہدایت والے نبی کریمﷺ کی حفاظت کی حالانکہ سوار آپ کاپیچھا کر رہے تھے یہاں تک کہ جب وہ سوار قریب آجاتے تو یہ دین کی خوب حفاطت کرتے۔

 جب لوگوں کی حفاظت کرنے والے پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے تھے اس وقت انہوں نے نیزوں پر صبر کیا اور اس دن لوگ دوطرح کے تھے:ہدایت یافتہ مسلمان اور فتنہ میں مبتلا کافر۔

اے طلحہ بن عبیداللہ! تمہارے لیے جنت واجب ہوگئی، اور خوب صورت اور آہ وچشم حوروں سے تمہاری شادی ہوگئی۔

(اور ان کی تعریف میں) حضرت عمررضی اللہ عنہ نے یہ شعر کہا:

جب تمام لوگوں نے پشت پھیرلی اور شکست کھا گئے اس وقت طلحہ نے ننگی تلوار سے ہدایت والے نبی کی حفاظت کی۔

 اس پر حضورﷺ نے فرمایا:اے عمر! تم نے سچ کہا۔

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے جنگ کرنے کے واقعات پہلے گزر چکے ہیں۔

 حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی بہادری

حضرت سعید بن مسیبؒ فرماتے ہیںکہ اللہ کی خاطر سب سے پہلے تلوار سوتنے والے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہیں۔ ایک دن وہ دوپہر کو قیلولہ کر رہے تھے( یعنی آرام کر رہے تھے) کہ اچانک انہوں نے یہ آوازسنی کہ رسول اللہﷺ کو قتل کردیا گیا ۔( یہ سنتے ہی فوراً) ستی ہوئی ننگی تلوار لے کر باہر نکلے، یہ اور حضورﷺ دونوں ایک دوسرے کوبالکل آمنے سامنے آکر ملے۔ حضورﷺ نے پوچھا:اے زبیر! تمہیں کیا ہوگیا؟انہوں نے عرض کیا :میں نے سنا کہ آپ ﷺ شہید کر دیئے گئے ہیں ۔حضورﷺ نے پوچھا :پھر تمہارا کیا کرنے کا ارادہ تھا؟انہوں نے عرض کیا :میرا یہ ارادہ تھا کہ میں( آنکھ بند کرکے) مکہ والوں پر ٹوٹ پڑوں۔ حضورﷺ نے ان کے لیے دعاء خیر فرمائی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor