Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔653)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 653)

ان ہی کے بارے میں اسدی شاعر نے یہ اشعار کہے ہیں:

حضرت زبیر مرتضیٰ سردار کی تلوار ہی وہ تلوار ہے جو اللہ کی خاطر غصہ کرنے میں سب سے پہلے سونتی گئی ہے۔

 یہ دینی حمیت ہے جو ان کے زیادہ بہادر ہونے کی وجہ سے ظاہر ہوئی ہے اور کبھی زیادہ سننے والا کئی قسم کی بہادریوں کو جمع کرلیا کرتا ہے۔

 حضرت عروہؒ فرماتے ہیں کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے مسلمان ہونے کے بعد یہ شیطانی آوازسنی کہ حضرت محمدﷺ گرفتار کر لیے گئے ہیں، اس وقت حضرت زبیررضی اللہ عنہ کی عمر بارہ سال تھی،یہ سنتے ہی انہوں نے اپنی تلوار سونت لی اور ( حضورﷺ کی تلاش میں) گلیوں میں بھاگنے لگے۔ حضورﷺ اس وقت مکہ کے بالائی حصہ میں تھے، یہ وہاں ہاتھ میں تلوار لیے ہوئے حضورﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ حضورﷺ نے ان سے پوچھا:تمہیں کیا ہوا؟انہوں نے کہا کہ میں نے یہ بات سنی کہ آپ ﷺ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ حضورﷺ نے پوچھا:تم کیا کرنے لگے تھے؟انہوں نے کہاکہ آپ کو گرفتار کرنے والوں کو اپنی اس تلوار سے مارنے لگا تھا۔ اس پر حضورﷺ نے آپؓ کے لیے اور آپؓکی تلوار کے لیے دعاء فرمائی اور ان سے فرمایا کہ واپس لوٹ جائو۔ یہ سب سے پہلی تلوار ہے جو اللہ کے راستہ میں سونتی گئی تھی۔

ابنِ اسحاق سے روایت ہے کہ جنگ اُحد کے دن طلحہ بن ابی طلحہ عبدری مشرکوں کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھا۔ اس نے مسلمانوں کو اپنے مقابلہ پر میدان میں نکلنے کی دعوت دی۔

 چنانچہ یہ لوگ ایک دفعہ تو اس کے ڈر کی وجہ سے رک گئے( اس کے مقابلہ کے لیے جانے پر کسی نے ہمت نہ کی) پھر حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اس کے مقابلہ کے لیے نکلے اور چھلانگ لگاکر اس کے اونٹ پر اس کے ساتھ جابیٹھے (اور اونٹ پر ہی لڑائی شروع ہوگئی) حضرت زبیررضی اللہ عنہ نے طلحہ کو اوپر سے نیچے زمین پر پھینک کر اسے اپنی تلوار سے ذبح کردیا۔ حضورﷺ نے ان کی تعریف فرمائی اورفرمایا کہ ہر نبی کا کوئی (جانثار) حواری ہوا کرتا ہے میرے حواری زبیر ہیں۔ اور فرمایا:چونکہ میں نے دیکھا تھا کہ لوگ اس کے مقابلہ میں جانے سے رک گئے تھے اس وجہ سے اگر یہ زبیر اس کے مقابلہ میں نہ جاتے تو میں خود جاتا ۔

ابنِ اسحاق روایت کرتے ہیں کہ نوفل بن عبداللہ بن مغیرہ مخزومی نے غزوئہ خندق کے دن دشمن کی صف سے باہر نکل کر مسلمانوں کو اپنے مقابلہ کے لیے نکلنے کی دعوت دی۔ چنانچہ اس کے مقابلہ کے لیے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نکلے اور اس پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ اس کے دو ٹکڑے کردیئے۔ اس کی وجہ سے ان کی تلوار میں دندانے پڑگئے۔ اور وہ واپس آتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے تھے:

میں ایسا آدمی ہوں کہ( دشمن سے) اپنی بھی حفاظت کرتا ہوں اور نبی اُمّی حضرت مصطفیﷺ کی بھی حفاظت کرتا ہوں۔

 حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مشرک ہتھیار لگائے ہوئے آیا اور ایک اونچی جگہ چڑھ کر کہنے لگا کہ میرے مقابلے کے لیے کون آئے گا؟حضورﷺ نے لوگوں میں سے ایک آدمی سے کہا:کیا تم اس کے مقابلے کے لئے جاؤ گے؟ اس آدمی نے کہا:یا رسول اللہ! اگر آپ ﷺ کی منشا ہو تو( میں جانے کے لیے تیار ہوں) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ( حضورﷺ کے چہرہ کی طرف ) جھانک کردیکھنے لگے۔حضورﷺ نے اُن کی طرف دیکھا اور ان سے فرمایا:

(میری پھوپھی) صفیہ کے بیٹے! تم( مقابلہ کے لیے) کھڑے ہوجائو۔ حضرت زبیررضی اللہ عنہ اس کی طرف چل پڑے اور جا کر ا س کے برابر کھڑے ہوگئے، پھر دونوں ایک دوسرے پر تلوار کے وار کرنے لگے۔پھر دونوں آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔ پھر دونوں نیچے کو لڑھکنے لگے۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: جو بھی گڑھے میں پہلے گرے گا وہی مارا جائے گا۔چنانچہ حضورﷺ نے اور مسلمانوں نے (حضرت زبیر کے لیے) دعاء کی۔ چنانچہ وہ کافر( گڑھے میں) پہلے گرا، پھر حضرت زبیررضی اللہ عنہ اس کے سینے پر جا گرے اور انہوں نے اسے قتل کردیا۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوئہ خندق کے دن مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ قلعہ میں رکھا گیا اور میرے ساتھ عمر بن ابی سلمہ بھی تھے( یہ دونوں بچے تھے۔ وہ میرے سامنے جھک کر کھڑے ہوجاتے اورمیں ان کی کمر پر چڑھ کر(قلعہ سے باہر لڑائی کا منظر) دیکھنے لگ جاتا۔ چنانچہ میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ وہ کبھی یہاں حملہ کرتے اور کبھی وہاں۔ جوچیز بھی ان کے سامنے آتی وہ لپک کر اس کی طرف جاتے۔ شام کو جب وہ ہمارے پاس قلعہ میںآئے تو میں نے کہا:اے ابا جان! آج آپ جو کچھ کرتے رہے میں اسے دیکھتا رہا۔ انہوں نے کہا:اے میرے بیٹے! کیا تم نے مجھے دیکھا؟میں نے کہا:جی ہاں۔ انہوں نے کہا:

میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے صحابہ ؓ نے غزوئہ یرموک کے دن حضرت زبیررضی اللہ عنہ سے کہا:کیا تم( کافروں پر) حملہ نہیں کرتے ہوتاکہ ہم بھی تمہارے ساتھ حملہ کریں؟حضرت زبیررضی اللہ عنہ نے کہا:اگر میں نے حملہ کیا تو تم اپنی بات پوری نہیں کر سکوگے اور میرا ساتھ نہیں دے سکوگے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor