Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔655)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 655)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب غزوئہ احد کے دن لوگ لڑائی سے واپس آگئے تو حضورﷺ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں میں نہ پایا۔ تو ایک آدمی نے کہا کہ میں نے ان کو اس درخت کے پاس دیکھا تھا، وہ یوں کہہ رہے تھے کہ میں اللہ کاشیر ہوں اور اس کے رسول کاشیر ہوں۔ اے اللہ! یہ ابو سفیان اور اس کے ساتھ جو کچھ فتنے لے کر آئے ہیں، میں تیرے سامنے ان سب سے بری ہونے کا اظہار کرتا ہوں اور مسلمانوں نے جو شکست کھائی ہے میں اس سے بھی بری ہونے کا اظہار کرتا ہوں۔ حضورﷺ اس طرف تشریف لے گئے۔ جب( شہادت کی حالت میں) حضورﷺ نے ان کی پیشانی دیکھی تو آپ ﷺ رو پڑے۔ جب آپﷺ نے دیکھا کہ ان کے ناک، کان وغیرہ کاٹ دیئے گئے ہیں تو آپﷺ سسکیاں لے کر رونے لگے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا:کیا کوئی کفن ہے؟ایک انصاری نے کھڑے ہو کر ایک کپڑا ان پر ڈال دیا ۔

حضرت جابررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام شہیدوں کے سردار حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ہوں گے۔

حضرت جعفر بن عمرو بن امیہ ضمریؒ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت عبیداللہ بن عدی بن خیار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں باہر نکلے ۔ پھرآگے باقی حدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ یہاں تک کہ ہم لوگ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے پاس جا بیٹھے اور ہم نے ان سے کہا کہ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ آپ ہمیں بتائیں کہ آپ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو کیسے شہید کیا تھا۔ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں تمہیں یہ قصہ اسی طرح سنادوں گا جیسا کہ میں نے حضورﷺ کے فرمانے پر حضورﷺ کو سنایا تھا۔میں حضرت جبیر بن معطم کا غلام تھا۔ان کا چچا طعیمہ بن عدی غزوئہ بدر میں مارا گیا تھا۔ جب قریش جنگ اُحد کے لیے چلے تو جبیر نے مجھ سے کہا:اگر تم میرے چچا کے بد لے میں محمد(ﷺ) کے چچا حضرت حمزہ ( رضی اللہ عنہ) کو قتل کر دوگے تو تم آزاد ہو۔ میں ایک حبشی آدمی تھا اور حبشیوں کی طرح نیزہ پھینکا کرتاتھا اور میرا نشانہ بہت کم خطاجاتا تھا۔ میں بھی کافروں کے ساتھ اس سفر میں گیا۔

جب دونوں لشکروں میں مڈبھیڑ ہوئی تو میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھنے کے لیے نکلا اور میں بڑے غور سے انہیں دیکھتا رہا یعنی تلاش کرتا رہا، بالآخر میں نے ان کو لشکر کے کنارے پر دیکھ لیا ( ان کے جسم پر گردو غبار خوب پڑا ہوا تھا جس کی وجہ سے) وہ خاکستری رنگ کے اونٹ کی طرح نظر آرہے تھے اور وہ لوگوں کو اپنی تلوار سے اس زور سے ہلاک کررہے تھے کہ ان کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی تھی۔ اللہ کی قسم! میں ان کے لیے تیار ہو رہا تھا انہیں قتل کرنا چاہتا تھا اور کسی درخت یا بڑے پتھر کے پیچھے چھپتا پھر رہا تھا تاکہ وہ میرے قریب آجائیں کہ اتنے میںسباع بن عبدالعزیٰ مجھ سے آگے ہو کر ان کی طرف بڑھا ۔جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھا تو اس سے کہا:اوعورتوں کا ختنہ کرنے والی عورت کے بیٹے! اور یہ کہہ کر اس پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ ایک دم سر تن سے جدا کردیا، ایسے نظر آیا کہ بلا ارادہ ہی سرکاٹ دیا۔ پھر میں نے اپنے نیزے کو ہلایا اور جب مجھے اطمینان ہوگیا( کہ نیزہ نشانے پر جا کرلگے گا) تو میں نے ان کی طر ف نیزہ پھینکا جو ان کی ناف کے نیچے جا کر اس زور سے لگا کہ دونوں ٹانگوں کے درمیان میں سے پیچھے نکل آیا۔ وہ میری طرف اُٹھنے لگے لیکن ان پر بے ہوشی طاری ہوگئی پھر میں نے ان کواور نیزے کو اسی حال پر چھوڑ دیا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ پھر میں ان کے قریب گیا اور اپنا نیزہ لے لیا اور پھر اپنے لشکر میں واپس آگیا اور جا کر بیٹھ گیا۔

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے علاوہ مجھے اور کوئی کام نہیں تھا اور میں نے ان کو اس لیے قتل کیا تھا تاکہ میں آزاد ہوجائوں۔ چنانچہ جب میں مکہ مکرمہ آیا تو میں آزاد ہوگیا۔ پھر میں وہیں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ جب حضورﷺ نے مکہ کو فتح کرلیا تو میں بھاگ کر طائف چلا گیا اور وہاں جا کر ٹھہر گیا۔ پھر جب طائف کا وفد مسلمان ہونے کے لیے حضورﷺ کی خدمت میں گیا تو سارے راستے مجھ پر بندہوگئے اور میں نے کہا کہ میں شام چلا جائوں یا یمن یا کسی اور جگہ۔

میں ابھی اسی سوچ میں تھا کہ ایک آدمی نے مجھ سے کہا:تیرا بھلا ہو۔ اللہ کی قسم! جو بھی کلمۂ شہادت پڑھ کر حضرت محمدﷺ کے دین میں داخل ہوجاتا ہے حضرت محمدﷺ اسے قتل نہیں کرتے ہیں۔ جب اس آدمی نے یہ بات مجھے بتائی تو میں( طائف سے) چل پڑا یہاں تک کہ میںمدینہ منورہ حضورﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا(حضورﷺ کو میرے آنے کا پتہ نہ چلا بلکہ) جب میں آپ ﷺ کے سرہانے کھڑا ہو کر کلمہ ٔ شہادت پڑھنے لگا تو آپﷺ ایک دم چونکے۔

جب آپﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا:کیا تم وحشی ہو؟میں نے کہا:یا رسول اللہ! جی ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا:بیٹھ جائو اور مجھے تفصیل سے بتائو کہ تم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو کیسے قتل کیا تھا؟ چنانچہ میں نے سارا واقعہ حضورﷺ کو اسی طرح سنایا جس طرح میں نے تم دونوں سے بیان کیا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor