Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔656)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 656)

جب میں سارا واقعہ بیان کرچکا تو آپﷺ نے مجھ سے فرمایا:تیرا بھلا ہو! تم اپنا چہرہ مجھ سے چھپا لو میں تمہیں آیندہ کبھی نہ دیکھوں( یعنی تم سامنے مت آیا کرو اس سے میرے چچا کے قتل کا غم تازہ ہوجاتا ہے) چنانچہ جہاں حضورﷺ ہوا کرتے تھے میں وہاں سے ہٹ جایا کرتا تھا تاکہ حضورﷺ کی نظر مجھ پر نہ پڑے اور حضورﷺ کی وفات تک میں ایسے ہی کرتا رہا۔جب مسلمان یمامہ والے مسیلمہ کذاب سے مقابلہ کے لیے چلے تو میں بھی ان کے ساتھ گیا اور میں نے اپنے جس نیزہ سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کوشہید کیا تھا اس نیزے کو بھی ساتھ لے لیا۔ جب دونوں لشکروں میں لڑائی شروع ہوئی تو میں نے دیکھا کہ مسیلمہ کھڑا ہوا ہے اور اس کے ہاتھ میں تلوار ہے اور میں اس کو پہچانتا نہیں تھا۔ میں اسے مارنے کی تیاری کرنے لگا اور دوسری طرف سے ایک انصاری آدمی بھی اسے مارنے کی تیاری کرنے لگا۔ ہم دونوں اسی کو قتل کرنا چاہتے تھے چنانچہ میں نے اپنے نیزے کو حرکت دی اور جب مجھے اطمینان پورا ہوگیا کہ نیزہ نشانے پر لگے گا تو وہ نیزہ میں نے اس کی طرف پھینکا جو اسے جا کر لگا اور انصاری نے بھی اس پر حملہ کیا اور اس پر تلوار کا بھرپور وار کیا۔ تمہارا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ ہم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے۔ اگر میں نے اسے قتل کیا ہے تو پھر میں نے ایک تو وہ آدمی قتل کیا ہے جو حضورﷺ کے بعد تمام لوگوں میں سب سے زیادہ بہترین تھا اور ایک وہ آدمی قتل کیا ہے جو تمام لوگوں میں سب سے زیادہ برا ہے۔

 اسی جیسی حدیث امام بخاریؒ نے حضرت جعفر بن عمرو سے روایت کی ہے اور اس میں یہ مضمون بھی ہے کہ جب دونوں لشکر جنگ کے لیے صف بنا کر کھڑے ہوگئے تو سباع لشکر سے باہر نکلا اور بلند آواز سے کہا کہ کوئی میرے مقابلہ پر آنے کے لیے تیار ہے؟چنانچہ اس کے مقابلہ کے لیے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے لشکر سے باہر نکلے اور اس سے کہا کہ اے سباع! اے عورتوں کا ختنہ کرنے والی عورت ام انمار کے بیٹے!کیا تم اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کررہے ہو؟پھر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے سباع پر ایک زور دار حملہ کر کے اسے ایسے مٹادیا جیسے کہ گزرا ہوا دن ہوتا ہے۔

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بہادری

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حضرت حنظلہ بن ربیع رضی اللہ عنہ کو غزوئہ طائف کے دن طائف والوں کے پاس بھیجا ۔چنانچہ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ان طائف والوں سے بات کی۔ طائف والے انہیں پکڑکر اپنے قلعہ میں لے جانے لگے۔حضورﷺ نے فرمایا: کون ہے جو ان آدمیوں سے حنظلہ کو چھڑا کرالائے؟ جو چھڑا کرلائے گا اسے ہمارے اس غزوے جیسا پورا اجر ملے گا۔ اس پر صرف حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور طائف والے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو لے کر قلعہ میں داخل ہونے والے ہی تھے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان تک پہنچ گئے حضرت بڑے طاقتور آدمی تھے۔ ان لوگوں سے چھین کو انہوں نے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو گود میں اٹھالیا۔ ان لوگوں نے قلعہ سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ پر پتھروں کی بارش شروع کردی ۔ حضورﷺ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے لیے( خیریت سے واپس پہنچ جانے کی ) دعاء کرنے لگے آخر حضرت عباس حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو لے کر حضورﷺ تک پہنچ گئے۔

حضرت معاذ بن عمرو بن جموح اور حضرت معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما کی بہادری

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوئہ بدر کے دن میں ( لڑنے والوں کی) صف میں کھڑا تھا۔ میں نے دیکھا کہ میرے دائیں اور بائیں جانب انصار کے دو کم عمر لڑکے کھڑے ہیں۔ مجھے خیال ہوا کہ میں قوی اور مضبوط لوگوں کے درمیان ہوتا تو اچھا تھا( کہ ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کر سکتے، میرے دونوں جانب بچے ہیں یہ میری کیا مدد کر سکیں گے) اتنے میں ان دونوں لڑکوں میں سے ایک نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا:چچا جان! تم ابو جہل کو بھی جانتے ہو؟میں نے کہا:ہاں! پہچانتا ہوں۔ تمہاری کیا غرض ہے؟اس نے کہا کہ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کی شان میں گالیاں بکتا ہے۔ اس پاک ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر میں اسے دیکھ لوں تو اس وقت تک اس سے جدانہ ہوںگا جب تک وہ نہ مر جائے یا میں نہ مرجائوں۔ مجھے اس کے سوال اور جواب پر تعجب ہوا۔ اتنے میں دوسرے نے بھی ہاتھ پکڑ کر یہی سوال کیا اور جو پہلے نے کہا تھا وہی اس نے بھی کہا ۔ اتنے میں میدان میں ابو جہل دوڑتاہوا نظر آیا۔ میں نے ان دونوں سے کہا کہ تمہارا مطلوب جس کے بارے تم سوال کررہے تھے وہ جارہا ہے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor