Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔657)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 657)

دونوں یہ سن کر تلواریں ہاتھ میں لیے ہوئے ایک دم بھاگے چلے گئے اور جا کر اس پر تلوار چلانی شروع کرد ی یہاں تک کہ اسے قتل کردیا۔ پھر وہ دونوں حضورﷺ کے پاس واپس آئے اور حضورﷺ کو قصہ سنایا۔ حضورﷺ نے فرمایا:تم دونوں میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟دونوں میں سے ہر ایک نے کہا کہ میں نے اسے قتل کیا ہے۔ حضورﷺ نے پوچھا:کیاتم دونوں نے اپنی تلواریں پونچھ لی ہیں؟ انہوں نے کہا:نہیں ۔پھر حضورﷺ نے ان دونوں کی تلواریں دیکھیں اورفرمایا کہ تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے اور ابو جہل کا سامان حضرت معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ کو دینے کا فیصلہ فرمایا اور دوسرے نوجوان حضرت معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ تھے۔

’’بخاری‘‘ میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں غزوئہ بدر میں صف میں کھڑا ہوا تھا۔ جب میں نے دیکھا کہ میرے دائیں اور بائیں دونو عمر لڑکے کھڑے ہوئے ہیں تو میں ان کے یہاں ہونے سے مطمئن نہ ہوا۔ اتنے میں ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے چھپ کر مجھ سے کہا:اے چچا جان! مجھے ابو جہل دکھا دیں( کہ وہ کہاں ہے؟) میں نے کہا:اے میرے بھتیجے! تم اس کا کیا کرو گے؟ اس نے کہا: میں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہوا ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں تو میں اسے قتل کردوں گا یا خود قتل ہو جائوں گا۔ دوسرے نے بھی اپنے ساتھی سے چھپ کر مجھے وہی بات کہی۔( میں ان دونوں کی بہادری والی باتوں سے بڑا متاثر ہوا) اور میری یہ تمنا نہ رہی کہ میں ان دونوں کی بجائے دو اور مضبوط آدمیوں کے درمیان ہوتا۔ پھر میں نے ان دونوں کو ابو جہل کی طرف اشارہ کرکے بتایا ۔پھر ان دونوں نے شِکرے کی طرح ابو جہل پر حملہ کیا اور اس پر تلوار کے وار کیے۔ یہ دونوں عفراء کے بیٹے( معاذ اور معوذ) تھے( بظاہر ان دونوں کے ساتھ حضرت معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ بھی ابو جہل کے قتل میں شریک ہوئے ہیں)

حضرت ابن عباس اور حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ کے حضرت معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو جہل ( غزوئہ بدر کے دن) درختوں کے جھنڈ جیسے لشکر میں تھا( اس کے چاروں طرف کافر ہی کافر تھے وہ بالکل محفوظ تھا) میں نے لوگوں سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ ابو الحکم( یعنی ابو جہل) تک کوئی آدمی نہیں پہنچ سکتا ہے۔ جب میں نے یہ بات سنی اس تک پہنچ کر اسے قتل کرنے کو میںنے اپنا مقصد بنالیا اور میں ابو جہل کے ارادے سے چل پڑا۔جب وہ میرے نشانے پر آگیا تو میں نے اس پر حملہ کیا اور اسے ایسی تلوار ماری کہ اس کا پائوں آدھی پنڈلی سے اڑگیا۔ اللہ کی قسم! وہ پائوں ایسے اڑگیا جیسے کوٹتے ہوئے پتھر کے نیچے سے گٹھلی اڑجاتی ہے۔ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے میرے کندھے پر تلوار مار کر اسے کاٹ دیا لیکن بازو کھال میں لٹکا ہوارہ گیا۔ لڑائی کے زور میں مجھے ہاتھ کی یہ تکلیف محسوس نہ ہوئی اور سارا دن میں ہاتھ پیچھے لٹکائے ہوئے لڑتا رہا لیکن جب اس کے لٹکے رہنے سے تکلیف ہونے لگی تو میںنے اس کوپائوں کے نیچے دبا کر زور سے کھینچا جس سے وہ کھال ٹوٹ گئی جس سے وہ اٹک رہا تھا اور میں نے اس کو پھینک دیا۔

حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ انصاری رضی اللہ عنہ کی بہادری

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے غزوئہ احد کے دن ایک تلوار لے کر فرمایا کہ یہ تلوار کون لے گا؟ کچھ لوگ تلوار لے کر اسے دیکھنے لگے۔ حضورﷺ نے فرمایا:(دیکھنے کے لیے نہیں دینا چاہتا ہوں بلکہ) تلوار لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا؟یہ سن کر لوگ پیچھے ہٹ گئے۔حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اسے لے کر اس کا حق ادا کروں گا۔ چنانچہ( انہوں نے وہ تلوار لی) اور اس سے مشرکوں کے سرپھاڑنے لگے۔

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوئہ احد کے دن حضورِ اقدسﷺ نے لوگوں کے سامنے ایک تلوار پیش کی اور فرمایا:اس تلوار کو لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا؟ حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا:یا رسول اللہ! میں اسے لے کر اس کا حق ادا کروں گا۔ اس کا حق کیا ہے؟ حضورﷺ نے ان کو وہ تلوار دے دی۔ وہ(تلوار لے کر) نکلے تو میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا۔ چنانچہ وہ جس چیز کے پاس سے گزرتے اسے پھاڑ دیتے اور اسے ہلاک کردیتے۔ یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے دامن میں چند( کافر) عورتوں کے پاس پہنچے۔ ان عورتوں کے ساتھ ہند بھی تھی جو( اپنے مردوں کو لڑائی پر اُبھارنے کے لیے) یہ اشعار پڑھ رہی تھی:

ہم طارق کی بیٹیاں ہیں، ہم گدوں پر چلتی ہیں

 اور( ہمارے سروں کی) مانگوں میں مشک کی خوش بولگی ہوئی ہے۔ اگر تم ( میدان جنگ میں) آگے بڑھو گے تو ہم تمہیں گلے لگائیں گی اور اگر تم( میدان جنگ سے) پیٹھ پھیرو گے تو پھر ہم تمہیں ایسے چھوڑ جائیں گی جیسے محبت نہ کرنے والا چھوڑ جاتا ہے کہ پھر واپس نہیں آتا۔

(جاری ہے)

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor