Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔658)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 658)

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ میں نے ہند پر حملہ کرنا چاہا تو اس نے ( اپنی مدد کے لئے) میدان کی طرف زور سے آواز لگائی تو کسی نے اس کا جواب نہ دیا تو میں اسے چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو دجانہ سے کہا:میں آپ کے سارے کام دیکھتا رہا ہوں اور مجھے آپ کے سارے کام پسند آئے ہیں لیکن مجھے یہ پسند نہیں آیا کہ آپ نے اس عورت کو قتل نہیں کیا۔ حضرت ابو دجانہ نے کہا: اس عورت  نے ( اپنی مدد کے لیے) آواز لگائی تھی ،لیکن کوئی اس کی مدد کے لیے نہیں آیا۔ تو مجھے یہ اچھا نہ لگا کہ میں حضورﷺ کی تلوار سے ایسی عورت کو قتل کروں جس کا کوئی مدد کرنے والا نہ ہو۔

حضرت زبیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدسﷺ نے غزوئہ احد کے دن ایک تلوار پیش کی اور فرمایا کہ اس تلوار کو لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا۔ میں نے کھڑے ہو کر عرض کیا:یارسول اللہ ! میں۔ آپﷺ نے مجھ سے اعراض فرمالیا اور پھر فرمایا:اس تلوار کو لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا؟ میں نے پھر عرض کیا :یا رسول اللہ! میں۔ آپﷺ نے پھر مجھ سے اعراض فرمالیا اور پھر فرمایا:اس تلوار کو لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا؟اس پر ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا:یا رسول اللہ ! میں اسے لے کر اس کا حق ادا کروں گا، لیکن اس کا حق کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا :اس کا حق یہ ہے کہ تم اس سے کسی مسلمان کو قتل نہ کرو اور تم اسے لے کر کسی کافر سے (پیٹھ پھیر کر) نہ بھاگو۔ چنانچہ حضورﷺ نے وہ تلوار ان کو دے دی اور حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہجب لڑائی کا ارادہ کرلیتے تو( سرخ) پٹی بطور نشانی کے باندھ لیتے۔ حضرت زبیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ کہا کہ میں آج ابو دجانہ کو ضرور دیکھوں گا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ ( میں نے دیکھا کہ) جو چیز بھی ان کے سامنے آتی وہ اسے پھاڑ دیتے اور اسے رسوا کر دیتے۔ آگے مضمون پچھلی حدیث جیسا ہے۔

 حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے حضورﷺ سے تلوار مانگی اور آپ ﷺ نے مجھے نہ دی اور حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو دے دی، تو مجھے اس پر بڑا غصہ آیا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ حضورﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہوں اور ( حضو ر ﷺ کے قبیلہ) قریش میں سے ہوں اور میں نے ابو دجانہ رضی اللہ عنہ سے پہلے کھڑے ہو کر حضورﷺ سے تلوار مانگی تھی پھر آپﷺ نے ابو دجانہ رضی اللہ عنہکو وہ تلوار دے دی اور مجھے ایسے ہی چھوڑ دیا ہے۔ اللہ کی قسم! میں بھی ضرور دیکھوں گا کہ ابو دجانہ( تلوار لے کر) کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ میں ان کے پیچھے ہولیا۔ انہوں نے اپنی سرخ پٹی نکال کر اپنے سر پر باندھ لی۔ اس پر انصار نے کہا کہ ابو دجانہ نے موت کی پٹی نکالی ہے اور حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ جب بھی سرخ پٹی باندھا کرتے تو انصاریوں ہی کہا کرتے تھے ۔

چنانچہ وہ یہ اشعار پڑھتے ہوئے میدان میں نکلے:

جب ہم پہاڑ کے دامن میں کھجور کے درختوں کے پاس تھے تو مجھ ہی سے میرے خلیل نے یہ عہد لیا تھا۔

 کہ میں زندگی میں کبھی بھی میدانِ جنگ کی آخری صف میں کھڑا نہیں ہوں گا اور اب میں اللہ اور رسول کی تلوار سے ( کافروں کو) خوب ماروں گا۔

 جو کافر ان کو ملتا وہ اس تلوار سے اسے قتل کردیتے۔ مشرکوں میں ایک آدمی تھا جس کا کام ہی یہ تھا کہ وہ( تلاش کرکے) ہمارے ہر زخمی کو ماردیتا تھا۔

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ اور یہ مشرک ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔ میں نے اللہ سے دعاء کی کہ اللہ ! دونوں کی آپس میں مڈبھیڑ کرادے۔ چنانچہ دونوں کا آمنا سامنا ہوگیا اور دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار کے وار کیے۔ اس مشرک نے حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہپر تلوار کا وار کیا جسے انہوں اپنی ڈھال پر روکا اور اپنا بچائو کرلیا اور اس کی تلوار ڈھال میں گڑگئی اور نکل نہ سکی۔ پھر حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہنے تلوار کا وار کر کے اسے قتل کردیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے ہندبنت عتبہ کے سر کے اوپر تلوار اٹھا رکھی ہے لیکن پھر تلوار اس سے ہٹالی( اور اسے قتل نہ کیا)۔ حضرت زبیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ( میں نے حضرت ابو دجانہ کی بہادری کے یہ کارنامے دیکھے تو) میں نے کہا:اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں( کہ کون اس تلوار کا زیادہ حق دار تھا)

موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے جب اس تلوار کو لوگوں کے سامنے پیش کیا تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضورﷺ سے وہ تلوار مانگی۔ حضور ﷺ نے ان سے اعراض فرمالیا۔ پھر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے وہ تلوار مانگی حضورﷺ نے ان سے بھی اعراض فرمالیا۔ تو ان دونوں حضرات نے اسے محسوس کیا۔حضورﷺ نے تیسری مرتبہ اسی تلوار کو پیش کیا تو حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ سے وہ تلوار مانگی۔ حضورﷺ نے ان کو تلوار دے دی۔ انہوں نے تلوار لے کر واقعی اس کا حق ادا کردیا۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی مسلمانوں کے ساتھ اس جنگ میں گیا تھا ۔ جب میں نے دیکھا کہ مشرکوں نے مسلمانوں کو قتل کر کے ان کے ناک ، کان کاٹ ڈالے ہیں تو میں کھڑا ہوگیا اور کچھ دیر کے بعد آگے بڑھا تو میں نے ایک مشرک کو ہتھیار لگائے ہوئے دیکھا کہ وہ مسلمانوں کے پاس سے گزرتے ہوئے کہہ رہا ہے:اے مسلمانو! جیسے بکریاں( ذبح ہونے کے لیے) اکٹھی ہوجاتی ہیں تم بھی( قتل ہونے کے لیے) اکٹھے ہوجائو۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor